خوش آمدید مہمان!

l شمولیت
حالیہ وقت: 02-22-2017, 11:02 PM
facebook twitter youtube google+ feedburner
  • جراتِ تحقیق فورم میں خوش آمدید
  • الحاد کر رہا ہے مرتب جہانِ نو۔
  • دیر وحرم کے حیلہء غارت گری کی خیر۔
خوش آمدید مہمان
ہمارے فورم پر لکھنے کے لیے آپ کو شمولیت اختیار کرنی ہوگی.

اسمِ صارف/ای میل:
  

پاس ورڈ
  





فورم میں تلاش کریں

(اعلی تلاش)

فورم کی شُماریات
» ارکان: 134
» نیا رکن: chaoticdamon
» فورم کے دھاگے: 278
» فورم کے مراسلے: 553

مُکمل شُماریات

تازہ ترین دھاگے
اصل اسلام!؟
فورم: اسلام ☪
آخری مراسلہ: Anderson Shaw
02-08-2017, 11:10 PM
» جوابات: 0
» مشاہدات: 43
جواب آں غزل بر غیرت
فورم: فلسفہ منطق اور تنقید ✎
آخری مراسلہ: Anderson Shaw
12-25-2016, 10:13 PM
» جوابات: 0
» مشاہدات: 162
انسانی ارتقاء ایک مسلمان ...
فورم: ارتقاء اور حیات ☼
آخری مراسلہ: Anderson Shaw
12-25-2016, 09:14 PM
» جوابات: 0
» مشاہدات: 193
یزدگرد سوم کا خلیفۃ المسل...
فورم: اسلام ☪
آخری مراسلہ: Anderson Shaw
12-11-2016, 06:37 PM
» جوابات: 0
» مشاہدات: 183
قرآن کی بے ربطی اور بے ہن...
فورم: قرآنیات
آخری مراسلہ: Anderson Shaw
11-10-2016, 11:33 PM
» جوابات: 0
» مشاہدات: 1,430
خلافت عباسیہ کے غلمان
فورم: اسلام ☪
آخری مراسلہ: Anderson Shaw
11-08-2016, 11:36 PM
» جوابات: 0
» مشاہدات: 259
بحث اول وبحث دوم
فورم: فلسفہ منطق اور تنقید ✎
آخری مراسلہ: Anderson Shaw
11-06-2016, 08:00 PM
» جوابات: 0
» مشاہدات: 217
حرمین الشریفین کو درپیش م...
فورم: فلسفہ منطق اور تنقید ✎
آخری مراسلہ: Anderson Shaw
11-01-2016, 11:36 PM
» جوابات: 0
» مشاہدات: 221
مقدمہ قرآن
فورم: قرآنیات
آخری مراسلہ: Anderson Shaw
11-01-2016, 10:24 PM
» جوابات: 0
» مشاہدات: 1,274
عقیدہ تثلیث کی پیچیدگی
فورم: عیسائیت ✟ یہودیت ۞ ودیگر مذاہب
آخری مراسلہ: Anderson Shaw
10-25-2016, 11:44 PM
» جوابات: 0
» مشاہدات: 189

 
Thumbs Up اصل اسلام!؟
ارسال کردہ از: Anderson Shaw - 02-08-2017, 11:10 PM - فورم: اسلام ☪ - کوئی جوابات نہیں

یہ اسلام ہے کہاں؟ کسی کے پاس اس کا پتہ ہو تو مسمی و فدوی کو ضرور مطلع کیا جائے۔ کیا داعش اسلام ہے؟ کیا لشکرِ جھینگوی اسلام ہے؟ کیا شیعہ اسلام ہے؟ کیا بریلویوں کے مزاروں پہ یہ اسلام ملتا ہے؟ کیا دیوبندیوں تبلیغی اجتماعات میں ملتا ہے؟ یہ اصل اسلام کہاں ملتا ہے؟ یہ پرویز کہ ہاں ملتا ہے؟ غامدی مارکہ اسلام اصل اسلام ہے؟ کیونکہ جس اسلام کا ہم نے سنا ہے اس سے متعلق تو اب پتہ چلا کہ یہ تو فلاں ڈھمکاں کا اسلام ہے۔ اصل اسلام نہیں۔ اصل اسلام تو دینِ فطرت ہے۔ دینِ حق ہے۔ امن کا دین ہے۔ سلامتی کا دین ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
اور اصل اسلام سے متعلق سب کی تاویلات پڑھتا ہوں تو بے اختیار مجاز یاد آ جاتے ہیں۔ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔
ایک بار کسی دعوت میں مدعو تھے۔ کھانے سے قبل اس بات پر گفتگو ہو رہی تھی کہ صاحب طرز انشا پردازی یا شاعری اکتسابی چیز نہیں ہے کہ انسان اسے محنت سے حاصل کر لے اور وہ اپنے اندازِ تحریر سے پہچانا جائے بلکہ ایک وہبی صفت ہے جو فطری طور پر اسے ملتی ہے۔ اسی لئے ہم بعض دفعہ یہ کہتے ہیں کہ یہ غزل غالب یا علامہ اقبال کے رنگ میں ہے یا یہ مولانا آزاد کی سی نثر ہے۔
اتفاق سے سب سے پہلے رائتہ لا کر رکھا گیا تو مجاز کہنے لگے کہ اب دیکھئے رائتے کو ہی لے لیجیئے اگر اسے مختلف شعراء استعمال کرتے تو کیسے کرتے۔ جیسے علامہ اقبال کہتے:
• حیف شاہیں رائتہ کھانے لگا!
یا جوش کہتے تو یوں کہتے:
• وہ کج کلاہ جو کھاتا ہے رائتہ اکثر!
اور اختر شیرانی کہتے:
• رائتہ جب رُخِ سلمیٰ پہ بکھر جاتا ہے!
پھر مجاز نے جذبی کی طرف اشارہ کر کے کہا اور تم کہتے تو یوں کہتے:
• ابھی چلتا ہوں ذرا رائتہ پی لوں تو چلوں!
اصل اسلام کی حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ سب کے پاس اپنا اسلام ہے۔ اور وہی اصل اسلام ہے۔ دوسرے کا اسلام دو نمبر اسلام ہے۔ اصل اسلام نجانے سامنے کیوں نہیں آتا کہاں مونہہ چھپا کے بیٹھا ہے۔
لوگ باگ ہر اس روایت احادیث کو ضعیف قرار دے کر اسلام کے اصل ماخذذ کا انکار کر دیتے ہیں۔ قرآن کی معنوی تحریف کر کے اصل کا انکار کر دیتے ہیں۔ جو بانیِ اسلام اور ان کے صحابہ نے کیا اس کا بھی اصل اسلام سے آج کل کوئی تعلق نہ رہا۔ ظاہر ہے پھر اپنے ذاتی اسلام کی ڈگڈگی بجاتے رہیں اور خود ہی اس پر ناچتے رہیں بقول شخصے سانوں کی؟
ہر مسلمان کا ذاتی اسلام ہی اس کے نزدیک اصل اسلام ہے۔ جس کے نفاذ میں اسے ہر مسئلے کا حل نظر آتا ہے۔ جبکہ درحقیقت اس کا ذاتی اسلام خود اس کی اپنی ذات پر ناقابلِ نفاذ ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا پر پائے جانے والے مسلمانوں کے نزدیک جو رسول اللہ اور ان کے قریبی رشتے داروں نے کیا وہ بھی اصل اسلام نہیں تھا۔ آخر کار اس دقیانوسی بہانے کے سِوا بھی کچھ ہے اصل اسلام کے متعلق بتانے کیلیے؟ کون سی قبائلی بدوی استعماریت آپ کے نزدیک اصل اسلام ہے کوئی واضح کیوں نہیں کرتا؟ رسول اللہ کی آمریت جو اندرونِ خانہ لوٹ مار اور قتل و فساد پر مبنی تھی۔ یا رسول اللہ کے دو سسر اور دو دامادوں کی مطلق العنانیت جو بیرون خانہ ڈاکہ زنی اور دنگا و فتنہ انگیزی پر مبنی تھی، اصل اسلام ہے؟ رسول اللہ کے تین رشتہ داروں کی گردن مار کر خود عربوں نے ان سے جان چھڑائی۔ بعد میں معاویہ بن سفیان نے شامیوں کی دھونس پر حکومت کی جو اس کے مرنے بعد انارکی میں بدل گئی۔ پھر ہاشمی اٹھے اور ظلم و استعبداد کی نئی تاریخ رقم کی۔ پہلا عباسی خلیفہ سفاح کہلایا یعنی خون بہانے والا۔ جب تک ایرانیوں سے ساز باز رہی یہ ہاشمی خون چوستے رہے۔ پھر ترک اٹھے اور عربوں کی تشریف شریف پر ٹھوکر مار کر انہیں چلتا کیا۔ بالآخر اس عالمی غنڈہ پرور سلطنت عثمانیہ سے خود ترکوں کو اتحادیوں نے نجات دلائی۔ ان میں سے کون سا آئیڈئیل اسلامی نظام آپ پاکستان میں لانا چاہیں گے اصل اسلام کہہ کر؟
ایان شاہ۔

یہ عنصر چھاپیں

Thumbs Up جواب آں غزل بر غیرت
ارسال کردہ از: Anderson Shaw - 12-25-2016, 10:13 PM - فورم: فلسفہ منطق اور تنقید ✎ - کوئی جوابات نہیں

کچھ نہیں بلکہ تمام ہی مسلمان ہمارے کسی لبرل خیال کے جواب میں ہماری بہن ماں اور بیٹیوں پہ وہی بات رکھ دیتے ہیں کہ اگر یہ آپکی سوچ ہے تو کیا آپ اپنی بیٹی کو بھی اس چیز کی اجازت دیں گے کہ وہ فری سیکس کرے یا اپنی بہن ماں اور بیوی کے معاملے میں بھی آپ اتنے ہی فراغ دل ثابت ہوں گے۔تو جناب بات ہمارے دل یا ہماری سوچ کی نہیں ہے بات ہے ہماری بہن۔۔بیٹی اور ماں کی منشا چوائس اور پسند نا پسند کی۔۔

میں ایک باپ ہونے کی حیثیت سے اپنی بیٹی کی اچھی تعلیم اور باقی معاشی معاملات پر تب تک دسترس رکھتا ہوں جب تک وہ خود کمانے کے قابل نہ ہو جاے۔۔۔باقی اسکی ذاتی زندگی کے بارے میں اسکو اپنی راے ضرور دے سکتا ہوں پر مار کٹای زور زبردستی کر کے اپنی مرضی اس پر مسلط نہیں کر سکتا ۔کیونکہ میں نے اسکو آزاد پیدا کیا ہے۔وہ اپنے ہر فیصلے میں خود مختار ہے۔۔اور اگر اسکا فیصلہ غلط بھی ثابت ہوتا ہے تو بھی میں اسے سنبھالوں گا اور خوش ہوں گا کہ اس نے اپنے ذاتی تجربے سے سیکھا اور آیندہ وہ بہترین فیصلہ لے گی۔کیونکہ باپ کی شفقت وہ نہیں جسے تم لوگ شفقت کہتے ہو کہ بیٹی کو بوجھ سمجھ کے پالنا۔۔اور جوان ہوتے ہی اس بوجھ کو کسی اور کے ساتھ رخصت کر کے اپنے سر سے اتار دینا۔ اور اسے تاکید بلکہ تنبیہ بھی کرنا کے اب واپس مڑ کے مت آنا ۔چاہے ادھر زلیل رہو انکے جوتے کھاو ہمارے سر تم بوجھ تھی جو ہم نے اتار دیا۔اب واپسی کا راستہ بند۔۔بلکہ شفقت اسے کہتے ہیں کہ میں اسکے کسی غلط فیصلے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی پریشانی میں اسے اکیلا نہیں چھوڑوں نہ اس پہ گھر کے دروازے بند کروں ۔بلکہ اسے زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے مزید مستحکم کروں ۔۔تب اسکے ساتھ کھڑا رہوں گا جب اسکو باپ کی شفقت اور چاہت کی سب سے زیادہ ضرورت ہوگی۔۔۔

۔۔آب آجایئں بہن کے معاملے پر تو جناب تمام غیرت مند بھائیوں کے لئے جواب ہے جب آپ کے موبائل میں آپکی بہن آپکی گرل فرنڈ کی فوٹو دیکھ کے خوش ہوتی ہے آپکے لئے گھر میں اسی گرل فرنڈ کے رشتے کے لیئے راہ ہموار کرتی ہے تو تب آپکی غیرت شلوار میں سکون فرما رہی ہوتی ہے اور جہاں بہن نے اپنی مرضی سے آپ ہی جیسے کسی غیرت مند آدمی سے روابط بڑھاے تو آپ کی غیرت فٹ سے اکڑ جاتی ہے۔کیونکہ آپکے نزدیک آزادی صرف آپکا حق ہے آپکی بہن کا نہیں۔۔اور ہمارے لئے ہماری بہن بھی اتنی آزاد اور خود مختار ہے جتنے ہم خود۔۔ہم آپ کی طرح اپنی بہن کو دبا کے ڈرا ڈرا کے ایک احساس کمتری کی ماری ہوی اور شوہر کی مار کھانے والی لڑکی نہیں بناتے بلکہ اسے احساس خودداری ۔اعتماد اور خود اپنا تحفظ اور دنیا کا مقابلہ کرنا سکھاتے ہیں۔زندگی کی ہر رعنای اور خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے کا پورا حق دیتے ہیں..

رہی ماں کی بات تو ماں کا کام کیا صرف تم جیسے غیرت مند مردوں کو پیدا کرنا تھا ۔اپنے جذبات مارنا تم غیرت مندوں کو اپنا دودھ پلانا اپنی جوانی تم غیرتیوں پہ لٹانا تمہارے پاب کے ساتھ تمام عمر سونا۔وہ بھی ایک انسان ہے اسکا جب دل چاہے وہ تم لوگوں سے الگ دنیا بسا سکتی ہے۔وہ صرف ماں نہیں ہے ایک عورت بھی ہے جسکا روز مرہ کے کاموں سے دل اکتا سکتا ہے۔اسے بھی اپنی جوانی کے وہ دن یاد آ سکتے ہیں جو اس نے تم جیسے غیرت مندوں کی پرورش میں گنوا دیئے اور آج تم نے اسے ماں کا عظیم رتبہ اور قدموں میں جنت دینے کی آڑ میں اس سے اسکی شوخی ارمان سب چھین لیے اور اسے مقدس دیوی سا بنا کے رکھ دیا جو سانس نہیں لے سکتی بس اپنی پوجا کروا سکتی ہے۔۔۔۔

پر یہ سب باتیں تم کیا سمجھو گے کیونکہ تم نے عورت کو صرف اپنی غیرت سمجھ رکھا ہے انسان نہیں۔


Momi Shah

یہ عنصر چھاپیں

Thumbs Up انسانی ارتقاء ایک مسلمان سائنسدان کی نظر میں
ارسال کردہ از: Anderson Shaw - 12-25-2016, 09:14 PM - فورم: ارتقاء اور حیات ☼ - کوئی جوابات نہیں

ڈاکٹر رنا دجانی ایک مسلمان عرب خاتون سائنسدان ہیں۔

آپ ہاشمی یونیورسٹی اردن میں مالیکیولر بائیولوجی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر پڑھاتی ہیں۔

آپ اردن میں اعلی کونسل برائے سائنس و ٹیکنالوجی میں مشیر ہیں۔ عربی سائنسی جریدوں میں آپ کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔
ان کے با حجاب ہونے سے میرا اندازہ ہے کہ آپ راسخ العقیدہ با عمل مسلمان ہیں۔

شارجہ کی یونیورسٹی میں فلمائی اس وڈیو میں وہ بتا رہی ہیں کہ وہ کیوں انسانی ارتقأ Evoluion کو ایک حقیقیت مانتی ہیں۔ آپ نے بندر اور انسان کی مشترکہ وراثت پر بھی بات کی ہے اور بتایا ہے کہ ہمیں کیونکر قرآن میں سائنس نہیں ڈھونڈھنی چاہیئے۔

میرے خیال سے اب نیم پڑھے لکھے الباکستانی مسلمانوں کو ارتقأ کے غلط ہونے کی ضد چھوڑ دینی چاہئیے۔

نوٹ۔ جو حضرات ارتقأ کے خلاف دلائل دینا چاہتے ہیں وہ ان ڈاکٹر صاحبہ کو براہِ راست دے دیں۔ میری اس پوسٹ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ خود ساختہ سائنسدان نما ملاؤں سے خود مسلمان سائنسدان بھی اتفاق نہیں کرتے۔



یہ عنصر چھاپیں

Thumbs Up یزدگرد سوم کا خلیفۃ المسلمین عمر کے نام خط
ارسال کردہ از: Anderson Shaw - 12-11-2016, 06:37 PM - فورم: اسلام ☪ - کوئی جوابات نہیں

[تصویر: 14517549_672764002890950_436190458832874...e=58F4AAD3]

یزدگرد سوم 632ء سے لے کر 651ء تک ایران کا فرمانروا رہا۔ تا آنکہ دوسرے خلیفہ عمر بن خطاب کے اسلامی لشکر نے ایران کو روند ڈالا۔ جنگ قادسیہ میں ایرانی فوج کی شکست کے بعد عمر بن خطاب نے یزدگرد سوم کو اسلام قبول کرنے اور بیعت کرنے کا پیغام بھیجا اور یزدگرد نے اس کا کیا جواب دیا۔ یہ خطوط اسی بات چیت کا احاطہ کرتے ہیں۔ ان خطوط کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ برطانوی میوزیم میں موجود ہیں۔ یوٹیوب پر بھی ایک آدھ فائل میں ان خطوط کا عکس دکھایا جاتا ہے۔ آپ سب دوستوں کیلئے ان خطوط کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے۔

عمر بن الخطاب کا ایرانی سلطنت کے شہشاہ یزد گرد سوم کے نام:

یزد گرد، مجھے تمہارا اور تمہاری قوم کا کوئی مستقبل نظر نہیں آ رہا، تا آنکہ تم میری بیعت کر لو۔ ایک وقت تھا کہ تم آدھی دنیا پر حکومت کرتے تھے، لیکن اب کس حال میں پہنچ گئے ہو۔ تمہاری فوجیں ہر محاذ پر شکست کھا چکی ہیں، تمہاری قوم تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ میں تمہیں اپنے آپ کو بچانے کی دعوت دیتا ہوں۔ خدائے واحد کی عبادت کرنا شروع کر دو، خدائے واحد جس نے کائنات کے اندر ہر چیز کو تخلیق کیا۔ ہم تمہارے اور دنیا کے پاس اسی سچے خدا کا پیغام لائے ہیں۔ آگ کی پوجا کرنا بند کر دو، اپنی قوم کو حکم دو کہ آگ کی پوجا بند کرے کیونکہ وہ ایک جھوٹ ہے۔ ہمارے ساتھ مل کر سچ میں شمولیت اختیار کرو۔ اللہ اکبر کی عبادت کرو، بس وہی سچا خدا اور کائنات کا خالق ہے۔ اللہ کی عبادت کرو، اور اسلام قبول کرو کہ اسی میں تمہاری نجات ہے۔ اپنے کافرانہ اطوار ختم کر دو، جھوٹ کی عبادت بند کر دو، اسلام قبول کرو، اللہ اکبر کو اپنا نجات دہندہ تسلیم کرو۔ یہی ایک واحد طریقہ ہے جس سے تم اپنی جان بچا سکتے ہو اورایرانیوں کیلئے امن بھی حاصل کر سکتے ہو۔ اگر تم عجم کی بھلائی چاہتے ہو تو یہی راستہ اختیار کرو گے، بیعت کرنا ہی واحد راستہ ہے۔

اللہ اکبر
خلیفۃالمسلمین
عمر بن الخطاب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاہوں کے شاہ، فارس اور بعید کے شاہ، کئی ملکوں کے شاہ، فارسی سلطنت کے شاہ، یزدگرد سوم کی جانب سے تازی (عربی) خلیفہ عمر بن خطاب کے نام:

آہور مزدا کے نام، جو حیات و عقل کا خالق ہے۔

تم نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ تم ہمیں اپنے خدا، اللہ اکبر کی راہ پر لانا چاہتے ہو۔ جب کہ تمہیں علم نہیں کہ ہم کون ہیں اور کس کی عبادت کرتے ہیں. یہ بات حیران کن ہے کہ تم عربوں کے حاکم ہو لیکن تمہارا علم صحرا میں گھومنے والے ایک عرب دیہاتی اور صحرائی بدو کی طرح محدود ہے۔

حقیر انسان، تم مجھے خدائے واحد کی عبات کی ہدایت دے رہے ہو جب کہ تمہیں اس بات کا علم تک نہیں کہ ہزاروں سالوں سے ایرانی لوگ خدائے واحد کی عبات کر رہے ہیں، وہ پانچ دفعہ خدا کی عبادت کرتے ہیں۔ ثقافت و فن کے اس ملک میں یہ طریقہ سالوں سے رائج ہے۔

جب ہم نے مہمان نوازی کی روایات اور اچھے کردار کو دنیا میں رائج کیا، جب ہم اپنے ہاتھوں میں "اچھے خیالات، اچھی گفتار، اور اچھے کردار" کا پرچم لہرا رہے تھے، اس وقت تمہارے اباؤاجداد صحرا میں گھومتے تھے اور تمہارے پاس چھپکلیاں کھانے کے علاوہ کچھ نہ ہوا کرتا تھا۔ اور تم اپنی معصوم بچیوں کو زندہ زمین میں دفن کر دیا کرتے تھے۔

تازی(عربی) لوگوں کے پاس خدا کی پیدا کردہ مخلوق کیلئے کوئی اخلاقی قدریں نہیں ہیں۔ تم خدا کی مخلوق کے گلے کاٹتے ہو، حتیٰ کہ قیدیوں کو بھی معاف نہیں کرتے، عورتوں کی عصمت دری کرتے ہو، اپنے بیٹیوں کو زندہ دفن کرتے ہو، قافلوں پر حملے کرتے ہو۔ قتل عام کرتے ہو، مردوں اور عورتوں کو اغوا کرتے ہو، ان کی جائیداد پر قبضہ کر لیتے ہو۔ تمہارا دل پتھر کا بنا ہوا ہے۔ ہم ان تمام برائیوں کی مذمت کرتے ہیں جن کا تم ارتکاب کرتے ہو۔ تم ایسی حرکات کے ارتکاب کے بعد ہمیں کس منہ سے خدائی راہ دکھانا چاہ رہے ہو۔

تم مجھے آگ کی عبادت ترک کرنے کا کہہ رہے ہو۔ ہم ایرانیوں کو آگ کی تپش اور سورج کی روشنی میں خالق کی محبت اور قوت دکھائی دیتی ہے۔ آگ اور سورج کی روشنی ہمیں سچائی کی روشنی دکھاتی ہے۔ اور ہمارے دلوں کو خدا سے محبت اور ایک دوسرے سے محبت کا درس دیتی ہے۔ یہ ہمیں ایک دوسرے سے بھلائی کرنا سکھاتی ہے۔ یہ ہمیں روشنی دیتی ہے اور ہمارے دلوں میں مزدا ( کی محبت) کا شعلہ جلائے رکھتی ہے۔ ہمارا خدا آہور مزدا ہے اور یہ بہت عجیب بات ہے کہ تم لوگوں نے ابھی ابھی خدا دریافت کیا اور اسے اللہ اکبر کا نام دے دیا۔ لیکن ہم تم جیسے نہیں ہیں۔ ہم اور تم ایک ہی سطح پر نہیں ہیں۔ ہم دوسرے انسانوں کی مدد کرتے ہیں، ہم انسانوں کے درمیان محبت بانٹتے ہیں، ہم پوری دنیا میں بھلائی پھیلاتے ہیں۔ ہم ہزاروں سالوں سے دوسری ثقافتوں کو عزت دیتے ہوئے اپنی ثقافت پھیلا رہے ہیں۔ لیکن تم اللہ کے نام پر دوسروں کی زمین پر حملے کرتے ہو، تم قتل عام کرتے ہو، اور دوسروں کیلئے قحط، غربت اور خوف کی فضا پیدا کرتے ہو۔ تم اس اللہ کے نام سے برائی پھیلاتے ہو، جو ان تمام تباہیوں کا ذمہ دار ہے۔

کیا یہ اللہ ہے جو تمہیں قتل، لوٹ مار اور تباہی کا حکم دیتا ہے؟ کیا تم اللہ کے ماننے والے اس کے نام پر یہ سب کچھ کرتے ہو، یا یہ دونوں کی وجہ سے ہے۔

تم صحرا کی تپش سے اٹھے اور ہماری زرخیز زمینوں کو جلا کر راکھ کر دیا۔ تم اپنی عسکری مہمات اور تلوار کی قوت سے اللہ کی محبت سکھانے نکلے ہو! تم صحرائی وحشی ہو، ہم جیسے ہزاروں سالوں شہروں میں مقیم لوگوں کو تم خدا کی محبت سکھانے نکلے ہو! ہم ہزاروں سال پرانی طاقتور ثقافت کے امین ہیں جو ہماری طاقت کا سرچشمہ ہے۔ مجھے بتاؤ کہ اللہ اکبر کے نام سے شروع کرنے والی جنگی مہموں، بربریت، قتل اور لوٹ مار سے تم نے مسلمان لشکر کو کیا سکھایا ہے۔ تم نے مسلمانوں کو کونسا علم سکھایا ہے جو اب غیر مسلموں کو سکھانے پر اصرار کر رہے ہو۔ تم نے اللہ سے کونسی تہذیب سیکھی ہے جسے دوسروں کو زبردستی سکھانا چاہ رہے ہو؟

حیف، صد حیف، آج آہور مزدا کی ایرانی فوج تمہارے اللہ کو پوجنے والی فوج سے شکست کھا گئی۔ اب ہمارے لوگوں کو اسی خدا کی عبادت کرنا ہو گی، وہی دن میں پانچ بار عبادت کرنا ہو گی لیکن ایک ایسے خدا کی عبادت کرنا ہو گی جسے تلوار کے زور پر تسلیم کروایا گیا ہے۔ اللہ، اس کی عربی زبان میں عبادت کرو کیونکہ تمہارے اللہ کو صرف عربی آتی ہے۔

میرا مشورہ ہے کہ تم اور تمہارے لٹیرے اپنا سامان باندھیں اور واپس صحرا میں چلے جائیں جہاں وہ رہتے آئے ہیں۔ انہیں وہاں واپس لے جاؤ جہاں وہ دھوپ کی تپش میں جلتے، ایک قبائلی زندگی گزارتے، چھپکلیاں کھاتے اور اونٹنی کا دودھ پیا کرتے تھے۔

میں تمہیں اور تمہارے چوروں اور لٹیروں کے ٹولے کو کہتا ہوں کہ ہمارے زرخیز زمینوں، مہذب شہروں اور عظیم قوم کو چھوڑ دو۔ ہمارے مردوں کو قتل کرنے، ہماری عورتوں اور بچوں کو اغوا کرنے، ہماری بیویوں کی عصمت دری کرنے اور ہماری بیٹیوں کو باندیاں بنا کر مکہ بھیجنے کیلئے ان پتھر دل وحشیوں کو کھلا مت چھوڑو۔ اللہ اکبر کے نام پر انہیں ایسے جرائم کرنے کیلئے کھلا مت چھوڑو۔ اپنی مجرمانہ کاروائیاں بند کر دو۔

آریا (قوم کے لوگ) معاف کرنے والی، گرمجوش، مہمان نواز اور نفیس لوگ ہیں۔ اور یہ جہاں بھی گئے یہ اپنے ساتھ دوستی کے بیج، محبت، علم سچائی ساتھ لے کر گئے۔ اس لئے وہ تمہیں اور تمہارے لوگوں کو لوٹ مار اور مجرمانہ کاروائیوں کی سزا نہیں دیں گے۔
میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ تم اپنے اللہ اکبر کے ساتھ اپنے صحراؤں میں رہو، اور ہمارے مہذب شہروں کا رخ نہ کرو۔ کیونکہ تمہاے عقائد بہت زیادہ خوفزدہ کرنے والے اور تمہارے اطوار بہت وحشیانہ ہیں۔

دستخط
یزد گرد سوم ساسانی

یہ عنصر چھاپیں

Rainbow قرآن کی بے ربطی اور بے ہنگم پن
ارسال کردہ از: Anderson Shaw - 11-10-2016, 11:33 PM - فورم: قرآنیات - کوئی جوابات نہیں

قرآن کا سب سے بڑا معجزہ ، جسکا واقعی دنیا کی کوئی اور کتاب یقیناً مقابلہ نہیں کر سکتی، وہ اسکا بے ربط ہونا اور ایسے بے ہنگم طریقے سے چیزوں کو پیش کرنا ہے کہ عام انسان تو ایک طرف رہا، پچھلے 1400 سالوں سے چوٹی کے لاکھوں مفسرین نے اپنی پوری پوری زندگیاں لگا ڈالیں مگر قرآن کو پھر بھی سمجھ نہ پائے۔

مثلا پورا قرآن ہی کی ترتیب ایسی ہے کہ جہاں جہاں مکی سورتوں میں مدنی آیات، اور مدنی سورتوں میں مکی آیات گھسی ہوئی ہیں۔ پتا ہی نہیں چلتا کہ کب ایک چیز بیان کی جا رہی ہے اور وہ ختم ہو کر اگلی آیات کسی اور واقعے میں گھس گئی ہے۔

اس سے زیادہ شدید بیماری یہ ہے ککہ قرآن ایک بات کرتا ہے، پھر اسے ادھورا چھوڑ کر اگلی آیت میں کچھ اور بات کرنے لگتا ہے، اور پھر اس دوسری بات کو ادھورا چھوڑ کر پھر سے پلٹ کر پہلی بات شروع کر دیتا ہے۔ ایک عام انسان تو قرآن پڑھنے کے بعد فقط سر ہی پیٹ سکتا ہے ۔۔۔ شاید ہی کوئی اور کتاب ہو جسے پڑھ کر انسان ایسے سر پیٹ سکتا ہو۔

قرآن کی یہ بیماری یہاں تک ہی محدود نہیں، بلکہ قرآن نے تو واقعی معجزہ دکھا دیا ہے۔ قرآن نے یہ چیز ایک ہی آیت میں کر کے دکھا دی ہے۔ آیت کے پہلے حصے میں ایک بات کرتا ہے، پھر درمیانی حصے میں کوئی اور واقعہ شروع ہو جاتا ہے، اور پھر آیت کے آخری حصے میں پھر پلٹ کر پہلے قصے کی طرف آ جاتا ہے۔

مثلاً :
(القرآن 5:3) تم پر مرا ہوا جانور اور (بہتا) لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے اور جو جانور گلا گھٹ کر مر جائے اور جو چوٹ لگ کر مر جائے اور جو گر کر مر جائے اور جو سینگ لگ کر مر جائے یہ سب حرام ہیں اور وہ جانور بھی جس کو درندے پھاڑ کھائیں۔ مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے) ذبح کرلو اور وہ جانور بھی جو تھان پر ذبح کیا جائے اور یہ بھی کہ پاسوں سے قسمت معلوم کرو یہ سب گناہ (کے کام) ہیں آج کافر تمہارے دین سے ناامید ہو گئے ہیں تو ان سے مت ڈرو اور مجھ سے ہی ڈرتے رہو ٭٭٭ (اور) آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا ٭٭٭ ہاں جو شخص بھوک میں ناچار ہو جائے (بشرطیکہ) گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

تمام مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس آیت کا پہلا اور آخری حصہ حرام چیزوں کے متعلق ہے اور یہ حکم سن 6 ہجری میں صلح حدیبیہ سے متصل نازل ہوا۔


مگر اسی آیت کا درمیان والا حصہ (دین کا مل کیا جانا) اسکے چار سال بعد سن 10 ہجری میں رسول (ص) کی وفات سے تقریبا 81 دن پہلے نازل ہوا۔یعنی یہ بالکل الگ جگہ، بالکل الگ موقع پر نازل ہوا اور اس حصہ کا اگلے اور پچھلے حصہ سے کوئی تعلق نہیں۔

مولانا مودودی تفہیم القرآن میں اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں لکھتے ہیں:
// مستند روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت حجۃ الوداع کے موقعہ پر سن ۱۰ ہجری میں نازل ہوئی تھی ۔ لیکن جس سلسلۂ کلام میں یہ واقع ہوئی ہے وہ صُلحِ حُدَیبیَہ سے متصل زمانہ (سن ۶ ہجری) کا ہے ۔//

مولانا تقی عثمانی بھی اپنی تفسیر میں آیت کے اس حصے کا نزول سن دس ہجری میں بتلا رہے ہیں:
//بعض یہودیوں نے حضرت عمر سے عرج کیا کہ اگر یہ آیت "الیوم اکملت لکم دینکم" ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس کے یوم نزول کو عید منایا کرتے۔ حضرت عمر نے فرمایا: تجھے معلم نہیں کہ جس روز یہ ہم پر نازل کی گئی مسلمانوں کی دو عیدیں جمع ہو گئی تھیں۔ یہ آیت سن 10 ہجری میں "حجۃ الوداع" کے موقع پر "عرفہ" کے روز "جمع" کے دن "عصر" کے وقت نازل ہوئی جبکہ میدانِ عرفات میں نبی کریم (ص) کی اونٹنی کے گرد چالیس ہزار سے زائد اتقیا و ابرار رضی اللہ عنہم کا مجمعِ کثیر تھا۔ اس کے بعد صرف اکیاسی روز حضور اس دنیا میں جلوہ افروز رہے۔//

چنانچہ کیا غلط ہے جب کہا جائے کہ قرآن واقعی ایک معجزہ ہے؟

کیا آپ دکھا سکتے ہیں کہ کیا دنیا کی کوئی اور کتاب ایسی موجود ہے جو ایسی بے ربط اور ایسی بے ہنگم ہو جیسے کہ قرآن ہے؟

ایک تو ایسی بے ہنگم کتاب، اس پر طرہ یہ کہ مسلمان اچھل اچھل کر کہیں کہ یہ دنیا کی واحد معجزاتی کتاب ہے۔ لاحول واللہ قوۃ۔

دانیال تیموری

یہ عنصر چھاپیں

Smile خلافت عباسیہ کے غلمان
ارسال کردہ از: Anderson Shaw - 11-08-2016, 11:36 PM - فورم: اسلام ☪ - کوئی جوابات نہیں

   

ماموں رشید خلافت عباسیہ کا ساتواں خلیفہ تھا۔ وہ ہاروں رشید اور مراجل نامی ایک کنیز کا بیٹا تھا۔ اپنے بھائی امین الرشید کے قتل اور حکومت پر قبضہ کرنے کے بعد خلافت کے عہدے پر فائز ہوا۔ ماموں کا رشتہ رسول کریم کی چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔

یحیٰ بن اکثم مرو کا رہنے والا تھا، اس کا تعلق بنو تمیم سے تھا۔ جب یہ مصر میں تھا تو ماموں اس سے ناراض ہو گیا اور اسے بصرہ بھیج دیا۔ وہاں یحیٰ نے حدیث لکھی اور بصریوں کا فقیہ بن گیا۔ اس نے التبنہ کے نام سے کتاب بھی لکھی، جس میں اس نے عراقیوں کا رد کیا ہے۔ یحیٰ کے احمد بن داؤد کے ساتھ کئی مناظرے بھی ہوئے۔ یحیٰ بصرہ کا قاضی بھی رہا۔ بعد میں ماموں اور یحیٰ میں بہت قربت ہو گئی، یحیٰ ماموں کے قریبی رفقا میں شامل ہو گیا۔

ایک بار بصریوں نے ماموں رشید سے شکایت کی کہ یحیٰی نے کثرت مقعد زنی کے باعث ان کے لونڈوں کو خراب کر دیا ہے۔ ماموں نے کہا، کاش اس سے پہلے کچھ لوگ اس کی شکایت کرتے۔ لوگوں نے کہا کہ اس نے فواحش کا ارتکاب کیا ہے اور اس کی یہ کہانی مشہور ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ وہ اپنے اشعار میں لونڈوں کی صفات، طبقات اور مراتب کا ذکر کرتا ہے۔

ماموں نے یحیٰ کو حکم دیا کہ آئیندہ جب بھی وہ اس کے ساتھ کشتی میں سفر کرے تو جن لونڈوں کو چاہتا ہے ان کو ساتھ لے لیا کرے۔ یحیٰ نے اپنے لئے چار سو لونڈے منتخب کئے۔ ان لڑکوں کے متعلق راشد بن اسحاق نے کہا ۔ "دوستو، اس شاندار منظر کو دیکھنا، یحیٰ نے صرف وہی لڑکے چنے ہیں جن کے رخسار نرم و نازک اور نگاہیں شیریں ہیں۔

راشد ماموں کے متعلق کہتا ہے۔ ہم یہ آس لگائے بیٹھے تھے کہ عدل کو غالب دیکھیں گے لیکن ہمیں مایوسی کا سامنا ہوا۔ جب مسلمانوں کا قاضی القضاۃ ہی مقعد زن ہو تو دنیا اور اہل دنیا کی کیا اصلاح ہو سکتی ہے۔

ماخوذ: مروج الذاہٰب و معاون الجواہر
امام المورخین، ابوالحسن بن حسین المسعودی
جلد سوم، صفحہ 514۔515

یہ عنصر چھاپیں

Thumbs Up بحث اول وبحث دوم
ارسال کردہ از: Anderson Shaw - 11-06-2016, 08:00 PM - فورم: فلسفہ منطق اور تنقید ✎ - کوئی جوابات نہیں

1۔ "کائنات کا کوئی خالق ہے یا نہیں"؛ یہ ایک علیحدہ بحث ہے اور بحث اول ہے۔ اس بحث کے صرف دو فریق ہیں۔ ایک ایتھیئسٹ اور دوسرا آگناسٹک۔ یہ مذہبی بحث نہیں ہے۔ اس بحث کا نتیجہ اگر ملحد کے مخالف بھی جا رہا ہو تو اس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ کائنات کا خالق اسلامی اللہ ہے یا کائنات کا خالق ہندؤازم والا بھگوان ہے
۔
2۔ "کائنات کا خالق اللہ ہے کوئی اور نہیں"؛ یہ ایک اور علیحدہ بحث ہے۔ اور بحث دوئم ہے۔ اس کے دو اہم فریقوں میں سے ایک فریق ایک غیر مذہبی اگناسٹک ہوتا ہے اور دوسرا فریق ایک مذہبی مسلمان ہوتا ہے۔
:
ہمارے پاس ابھی تک بحث اول کے حق میں بھی کوئی ثبوت نہیں ہے۔ بحث دوئم تو کافی بعد کی بات ہے۔ بحث اول کے حق میں جو ہم ثبوت دیتے ہیں وہ ثبوت نہیں محض ہماری عقل کی قیاس آرائیاں ہوتی ہیں۔


ایک مزیدار بات یہ ہے کہ مذہبی لوگ ملحد لوگوں سے بحث اول شروع کر دیتے ہیں جس کے وہ فریق ہی نہیں ہیں۔ مذہبی لوگوں کی ایک اور بہت بڑی منطقی بیوقوفی یہ ہوتی ہے کہ وہ قیاس آرائیاں تو بحث اول کے حق میں کر رہے ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو اور دوسرے مزہبیوں کو یہ تاثر دے رہے ہوتے ہیں کہ وہ بحث دوئم جیت رہے ہیں۔۔۔

تحریر: محمد مصطفی

یہ عنصر چھاپیں

Thumbs Up حرمین الشریفین کو درپیش ماحولیاتی خطرات
ارسال کردہ از: Anderson Shaw - 11-01-2016, 11:36 PM - فورم: فلسفہ منطق اور تنقید ✎ - کوئی جوابات نہیں

[تصویر: 14956424_201852176892266_870611385682376...e=58A4DA12]

[تصویر: 14915195_201853776892106_289678324960500...e=5896054A]



8 اکتوبر 2005 کا خوفناک زلزلہ تو سبھی کو یاد ہوگا، 10 سال بعد ایک بار پھر اکتوبر 2015 میں اس کا "ری پلے" دیکھنے کو ملا۔ اگرچہ جھٹکے تو کافی خوفناک تھے مگر اس کا مرکز کافی گہرا ہونے کی وجہ سے خطہ بھاری جانی نقصان سے بال بال بچ گیا۔

بس زلزلہ آنے کی دیر تھی، مو ل بی صاحبان اور مذہبی لوگوں نے سوشل میڈیا کو میدان جنگ بنا لیا اور اس زلزلے کو "گندے اعمالوں کی سزا" قرار دے کر نماز اور قرآن پڑھنے کی دعوتیں دینے لگے۔ نئے قارئین کیلئے دوبارہ بتا دیتا ہوں کہ میں 2012 میں ہی اسلام کو مکمل طور پر خیر آباد کہہ چکا ہوں لیکن یہ "حر علی" والی آئی ڈی 4 سال بعد 2016 میں مولبیوں کے سائبر جہاد کا جواب دینے کیلئے بنائی ہے۔ خیر، میں نے سوچا کہ کیا سعودی عرب کی مقدس زمین تمام قدرتی آفات سے پاک ہے؟ کیا یہاں کبھی بھی "اللہ کا عذاب" نازل نہیں ہوا؟

کچھ ریسرچ کے بعد معلوم ہوا کہ سعودی عرب جس خطے میں واقع ہے وہاں زیادہ تر قدرتی آفات نہیں آتیں۔ جیسا کہ مکہ اور مدینہ دونوں ہی سمندر سے کافی دور ہیں، اس لئے یہاں سمندری طوفان یا سونامی وغیرہ سے نقصان کا زیادہ خدشہ نہیں۔ قدرتی آفت کی دوسری قسم زلزلے اور آتش فشاں وغیرہ ہوتے ہیں۔ ماضی میں سعودیہ میں کچھ متحرک آتش فشاں موجود تھے مگر اب یہاں کسی آتش فشاں پھٹنے کا زیادہ امکان نہیں مگر چونکہ زمین کا اندرونی حصہ دہکتے ہوئے لاوے سے ہی بنا ہے، اس لئے دنیا کے کسی بھی حصے میں آتش فشاں پھٹ سکتا ہے اور بیت اللہ اور مسجد نبوی بھی زمین کا ہی حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ سیلاب اور طوفان بھی آسمانی آفتوں کی ہی ایک قسم ہیں۔ دیگر آفات سے محفوظ رہنے والا سعودی عرب اس آفت سے نہیں بچ پایا۔ خاص طور پر 42-1941 کا سیلاب اتنا شدید تھا کہ بیت اللہ بھی پانی کے اندر ہی ڈوب گیا۔ مسجد حرام حجرہ اسود سمیت پانی پانی ہوگئی تھی۔ اس موقع پر بھی کچھ جنونی مذہبی زائرین نے سیلاب میں ہی طواف کئے اور ان کے احرام مبارک کیچڑ سے لت پت ہوگئے۔ بعد ازاں جب یہاں سے پیٹرولیم تیل نکلا تو آل سعود کی تو نکل پڑی۔ جہاں ان کے محلات میں بڑے بڑے اے سی لگ گئے، اونٹ گھوڑوں کی جگہ BMW، مرسیڈیز اور اوڈی جیسی مہنگی گاڑیوں نے لے لی، وہیں کچھ پیسہ حجاز مقدس کو محفوظ بنانے کیلئے خرچ کیا گیا۔

مکہ مکرمہ اور خاص طور پر کعبہ شریف نشیبی علاقے ہیں یعنی یہاں پر بارش کا پانی تیزی سے جمع ہوجاتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کیلئے ڈیم بنائے گئے، کافروں کی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے جدید نہریں تعمیر کی گئیں اور پمپ نصب کئے گئے جو موسلادھار بارش کے پانی کو شہر سے نکال دیتے ہیں۔ اب اگر تیل نکلنے سے پہلے کی بات کی جائے تو مکہ 20ویں صدی کے وسط تک اس لئے تباہی سے بچا رہا ہے کیونکہ یہاں بارشیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ لیکن اب بہت کچھ بدلنے والا ہے!

سعودی عرب کا حال اتنا اچھا نہیں اور خاص طور پر مستقبل کافی تاریک نظر آرہا ہے۔ سب سے پہلے تو تیل کی بات کرتے ہیں جس سے آل سعود کی لاٹری نکلی۔ ایک تو تیل ہمیشہ نہیں رہنے والا اور دوسرا یہ کہ اب یورپی یونین تیل کو خیر آباد کہنے کا فیصلہ کرچکی ہے جبکہ کینیڈا، جاپان اور آسٹریلیا نے بھی کچھ ایسے ہی منصوبے بنا رکھے ہیں جن کے تحت بجلی ہوائی چکیوں، شمسی توانائی اور سمندری موجوں سے پیداء کی جائے گی۔ گاڑیاں پیٹرول ڈیزل یا سی این جی کے بجائے اسی بجلی سے چلیں گی جو متبادل ذرائع توانائی سے پیداء ہوگی۔ اس طرح تیل پیداء کرنے والے ممالک کیلئے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے!

متحدہ عرب امارات نے تو بہت سے دوسرے ذرائع آمدنی پیداء کر لئے ہیں، ان کی فضائی کمپنیاں جیسے امارات ایئرلائن اور برج خلیفہ جیسی بلند و بالا عمارتیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کو دفاتر فراہم کر رہی ہیں۔ مختصر یہ کہ دبئی دراصل سنگاپور اور ہانگ کانگ کے نقش قدم پر چل رہا ہے۔ مگر اس کیلئے انہیں اپنے سخت مذہبی قوانین میں کچھ نرمی بھی کرنا پڑی۔ دوسری طرف سعودی عرب کے وہابی مول بی ابھی تک اپنے مذہبی قوانین میں ذرا بھر لچک دکھانے کیلئے تیار نہیں۔ اب اگر جدہ میں انٹرنیشنل ٹریڈ زون بنے، اور کسی ملٹی نیشنل کمپنی کی مالک یورپی خاتون وہاں اترے تو وہ سعودیہ کے گرم موسم کی مناسبت سے مختصر سکرٹ اور آدھے بازو والی قمیض ہی پہنے گی۔ لیکن جب اسے ایئرپورٹ پر برقع پہننے کیلئے پیش کیاجائے تو وہ اسی وقت وہاں سے واپس چلی جائے گی، ارب پتی "کافروں" کو سعودیہ کے مذہبی قوانین یہاں سے دور کردیں گے۔ اور یوں سعودیہ کو تیل کے بعد اپنی آمدن کیلئے سخت جدوجہد کرنی پڑے گی۔

یہ تو تھا معاشرتی و معاشی المیہ۔ اب ہم جائزہ لیتے ہیں کچھ ان قدرتی آفات اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا جن سے حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنا ہی وبال جان بن جائے گا۔ ماحولیاتی ماہرین خبردار کرچکے ہیں کہ سعودی عرب کے خطے میں ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے اگلے چند سالوں میں درجہ حرارت 60 ڈگری سینٹی گریڈ کی خطرناک ترین سطح کو چھو سکتا ہے۔ 40 ڈگری سے اوپر درجہ حرارت میں دھوپ میں نکلنے سے ہیٹ سٹروک کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ 45 کی گرمی اور لو لگنے سے انسانی جلد بھی جل جاتی ہے۔اگلے سالوں میں حج گرمیوں میں ہوگا۔ 60 ڈگری کی گرمی میں تو احرام میں پہنے حاجیوں کی جلد ہی جل جائے گی اور سخت جان نوجوان بھی بیمار ہوئے بغیر شائد حج کے تمام ارکان ادا نہ کرسکیں۔ اس کے علاوہ جب گرمی زیادہ بڑھے گی تو بارشوں کی شدت بھی کئی گنا بڑھ جائے گی۔ اور یوں شائد جدید ٹیکنالوجی بھی بیت اللہ کو پانی پانی ہونے سے نہ بچا سکے۔

ایسے میں کعبے کی تبدیلی تو شائد ممکن نہ ہو کیونکہ ایسا کرنا شریعت کے خلاف ہے۔ یعنی اگر اسی کعبے کو ٹیکنالوجی کی مدد سے ترکی یا افغانستان منتقل کردیا جائے جہاں درجہ حرارت مناسب ہوگا۔ دوسری طرف جاپانی (کافر) سائنسدان ایسا سوٹ بھی تیار کرچکے ہیں جو شمسی توانائی سے چلتا ہے، جیکٹ نما اس لباس کو پہننے سے انسانی جلد جلنے سے بچ جاتی ہے اور جسم بھی سورج کی حرارت سے کچھ ٹھنڈا رہتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا شریعت حج زائرین کو اس بات کی اجازت دے گی کہ وہ 60 ڈگری کی قیامت خیز گرمی میں احرام کے بجائے ایئرکنڈیشنڈ جاپانی جیکٹ پہن کر طواف کعبہ کریں؟ اس بات کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا کہ آیا کعبہ افغانستان، ترکی یا کسی اور اسلامی ملک منتقل ہوتا ہے یا پھر حاجیوں کا یونیفارم موسم کے مطابق بن جاتا ہے۔ مگر ایک بات یاد رکھیں، ان سائنسدانوں کی پیش گوئی جھٹلانا بیوقوفی ہوگا کیونکہ انہی سائنسدانوں کے آباؤ اجداد نے 1950 میں ہی لوگوں کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے خبردار کردیا تھا۔ اس وقت سبھی ان کا مزاق اڑاتے اور انہیں جاہل کہتے تھے۔

سعودیہ میں حج/عمرہ زائرین آب زم زم بڑے شوق سے پیتے ہیں اور واپسی پر بطور تبرک بھی ساتھ لاتے ہیں۔ یہاں بھی مسلمانوں کیلئے ایک بری خبر ہے۔ چند سال قبل برطانوی لیبارٹری میں کئے گئے ٹیسٹ سے ثابت ہوچکا ہے کہ آب زم زم میں آرسینک (سینکھیا؛ ایک خطرناک زہر) کی مقدار WHO کی تجویز کردہ مقدار سے کئی گنا اور خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ اگرچہ چند دن تک کچھ لیٹرز آب زم زم پینے سے انسان مرتا نہیں مگر مستقل پانی پینے سے موذی بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ آب زم زم بھی تیل کی طرح ہمیشہ قائم نہیں رہے گا۔ تحریر کافی لمبی ہوگئی، آب زم زم پر اگلی مرتبہ ایک جامع مضمون لکھوں گا۔

قصہ مختصر یہ ہے کہ سعودی عرب اگر قدرتی آفات سے کچھ حد تک محفوظ ہے تو یہ کوئی معجزہ نہیں بلکہ یہ محض اتفاق ہے اور ٹیکنالوجی کی مرہون منت ہے!

یہ عنصر چھاپیں

Bug مقدمہ قرآن
ارسال کردہ از: Anderson Shaw - 11-01-2016, 10:24 PM - فورم: قرآنیات - کوئی جوابات نہیں

جو قرآن اس وقت مسلمانوں کے پاس موجود ہے، یہ قرآن نبی کے زمانے میں کتابی شکل میں نہیں تھا- اس قرآن کے یوں مرتب ہونے کی کہانی بڑی دلچسپ اور طویل ہے، تاہم روایتی تاریخ اور تاریخی روایت کے مطابق نبی کی وفات کے بعد جنگوں میں حافظوں اور قاریوں کی شہادت کے خطرے اور اس کے نتیجے میں قرآن کو پہنچنے والے نقصان کے پیش نظر قرآن جمع کرنے کی تحریک پیدا ہوئی-

یہ کام 22 سالہ نوجوان صحابی "زید بن ثابت" کو سونپا گیا- زید بن ثابت نے قرآن کو کجھور کے پتوں،پتھر کے ٹکڑوں اور لوگوں کے سینے میں تلاش کرکے جمع کیا اور اسے پہاڑ اٹھانے سے بھی زیادہ مشکل کام قرار دیا- سورہ توبہ کی آخری آیت صرف "ابو غزیمہ انصاری" سے ملی،کسی اور کے پاس نہیں تھی-

کچھ عرصے بعد "حجاج بن یوسف" نے اسے "Final Touch " دیے- قرآن کے تمام الفاظ پر ہے قسم کے اعراب اور آیات کی موجودہ حد بندی کا اعزاز حجاج بن یوسف کو حاصل ہے- یہ حجاج بن یوسف بڑی عجیب و غریب شخصیت تھی، بس یوں سمجھ لیں کہ جرمنیوں کو "ہٹلر" ملا اور مسلمانوں کو حجاج بن یوسف- موصوف نے جرمنوں کے مقابلے میں مسلمانوں کو کسی احساس کمتری میں مبتلا ہونے سے بچا لیا- جو قرآن اس وقت مسلمانوں کے پاس ہے،اسکی موجودہ حالت کا حتمی کریڈٹ اسی حجاج بن یوسف کو جاتا ہے- ایک ایسی زبان جسکے کسی ایک حرف پر زیر زبر کی تبدیلی اسکے معنوں میں زمین آسمان کا فرق پیدا کردے،اس زبان میں قرآن کے ہر لفظ پر اعراب کا اعزاز اس حجاج بن یوسف کو حاصل ہے- اس قرآن پر بحث کے دوران چند سوال خود با خود ہی قرات بن جاتے ہیں -

1- جس قرآن کی جمع و تدوین کا کام نبی کی وفات کے بعد اتنا اہم سمجھا گیا، کیا محمد کو اس کا احساس نہیں تھا؟ اگر تھا تو پھر پہاڑ اٹھانے سے زیادہ مشکل کام جو ایک 22 سالہ نوجوان نے کرلیا کیا محمد نہیں کر سکتے تھے؟

2- اگر کر سکتے تھے تو کیوں نہ کیا؟ اپنی زندگی میں ہی قرآن کیوں نہ لکھوایا؟ کتنی عجیب بات ہے کہ کسی بھی نبی نے خود پر نازل ہونے والا کلام خود نہ لکھا اور نہ کسی سے کہہ کر کتابی شکل میں لکھوایا- کیا یہ محض اتفاق ہے؟
عیسی ، موسیٰ، بدھا.کرشنا کسی کی بھی مثال لےلیں- محمد کے قریب ترین عیسی ابن مریم تھے، مروجہ روایات کے مطابق یہ 30 سال کی عمر میں منظر عام پر آہے 32,33 سال کی عمر میں انہوں نے دعوی نبوت کیا- ان پر "انجیل" کے نزول کا تذکرہ ملتا ہے لیکن مسلمانوں ہی نہیں خود کرسچنس کی تاریخ اور روایات میں کسی انجیل اور اسکی کتابی شکل کا کوئی حوالا تک نہیں ملتا- قرآن،توریت،زبور اور انجیل جیسی الہامی کتابوں کی جمع و تدوین کا " الہام" بعد کے لوگوں کو ہی کیوں ہوتا ہے؟ کسی بھی نبی کو خود اسکی ضرورت و اہمیت کا احساس کیوں نہ ہوا؟

3- اس قرآن کی جمع و تدوین کی ایک بڑی وجہ حفاظ اور قاریان کی شہادت بھی بتائی جاتی ہے-یہ قرآن اس وقت اس ترتیب اور کتابی شکل میں تو تھا ہی نہیں تو پھر وہ حافظ کس چیز کے تھے؟ کے ان کی شہادت پر قرآن کے ضایع ہونے کا خطرہ تھا-

4- اگر اس وقت حافظ تھے تو پھر ایک ایک آیت کے لیے چاروں طرف گھوڑے دوڑانے کی کیا ضرورت تھی؟ دو چار حفاظ کو سامنے بیٹھا کر قرآن کیوں نہ لکھ لیا گیا؟

5- اس وقت محمد کے کئی قریبی اور بزرگ صحابی حیات تھے، ان میں کوئی بھی حافظ نہیں تھا؟ انہی بزرگ صحابیوں سے پوچھ کر قرآن کیوں نہ لکھ لیا گوا؟

6- سورتیں اور آیتیں "نزول" کے مطابق کیوں نہ مرتب کی گییں؟

7- سورتوں مے نام آیتوں کے مقام کس نے اور کس بنیاد پر متعین کیے ؟

8- مکّی سورتوں میں مدنی آیات اور مدنی سورتوں میں مکّی آیات کس نے رکھیں؟

9- شروع کی آیات آخر میں اور آخر کی شروع میں،ابتدائی سورتیں بعد میں اور بعد کی پہلے، ہر سورت کو یہ صورت کس نے دی؟

10- ہر آیت کی یہ حالت کس نے کی؟ اور کیوں کی؟ قرآن کی اس ترتیب و تدوین سے اس وقت کے کی بزرگ صحابیوں میں کیوں اختلاف تھا؟

11- محمد کے انتہائی قریبی ساتھی عبدللہ بن مسعود سورہ فاتحہ،سورالفلق وے سورہ الناس کو قرآن کا حصّہ سمجھتے ہی نہیں تھے اور وہ ان سورتوں کو دیکھتے ہی مٹا دیتے تھے اور کہتے تھے کہ قرآن اور غیر قرآن کو مخلوط نہ کرو-

یہ عنصر چھاپیں

Exclamation عقیدہ تثلیث کی پیچیدگی
ارسال کردہ از: Anderson Shaw - 10-25-2016, 11:44 PM - فورم: عیسائیت ✟ یہودیت ۞ ودیگر مذاہب - کوئی جوابات نہیں

[تصویر: 14639681_312087855841598_505661941635768...e=58AB9F19]



ﻋﻘﯿﺪﮦ ﺛﺜﻠﯿﺚ Trinity ﮐﺎ ﺷﻤﺎﺭ ﻋﯿﺴﺎﺋﯿﺖ ﮐﮯ ﺍﮨﻢ ﺗﺮﯾﻦ ﻋﻘﺎﺋﺪ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﮯ ... ﺍﻭﺭ ﺷﻮﻣﺌﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺘﻨﺎﺯﻋﮧ ﺑﮭﯽ ... ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺸﺮﯾﺢ ﮐﺮﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﺴﯿﺤﯽ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﻗﻼﺑﺎﺯﯾﺎﮞ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻻﺋﻖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﻡ ﻣﺴﯿﺤﯽ ﺑﯿﭽﺎﺭﮮ ﮐﻮ ﭘﺘﮧ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻋﻘﯿﺪﮮ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺩﻝ ﻭ ﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﮑﯽ ﻋﻘﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﻄﻘﯽ ﺗﻮﺟیح ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ... ﻋﻘﯿﺪﮦ ﺛﺜﻠﯿﺚ Trinity ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺻﻠﯽ ﺧﺪﺍ ﺍﯾﮏ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺗﯿﻦ ﺷﺨﺼﯿﺎﺕ persons ﻣﻠﮑﺮ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺧﺪﺍﺋﯿﺖ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺎﭖ The Father , ﺑﯿﭩﺎ The Son ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺪﺱ ﺭﻭﺡ The Holy Spirit ... ﺁﮔﮯ ﭘﮭﺮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﯽ ﺟﺪﺍ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮨﮯ . ﺍﻧﮑﮯ ﻓﻨﮑﺸﻨﺰ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﮨﯿﮟ . ﺫﻣﮯ ﺩﺍﺭﯾﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﺟﺪﺍ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﻔﺮﺩ ﮨﯿﮟ . ﯾﮧ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﺍﮐﮭﭩﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺁﺯﺍﺩﺍﻧﮧ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ..... ﻣﮕﺮ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﯾﮧ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮐﮯ ﺧﺪﺍ ﮨﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺻﺪ ﺍﻭﺭ ﺗﺮﺟﯿﮩﺎﺕ ﺍﯾﮏ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﮩﺬﺍ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺧﺪﺍ ﮨﮯ ﺑﺲ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﻭﭖ ﺗﯿﻦ ﮨﯿﮟ ......... ﺍﺱ ﻋﺠﯿﺐ ﻭﻏﺮﯾﺐ ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮﻣﻨﻄﻘﯽ ﻋﻘﯿﺪﮮ ﻧﮯ ﺟﺘﻨﺎ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﯿﺤﯿﺖ ﮐﻮ ﺫﻟﯿﻞ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﯿﺤﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺟﮍﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ ... ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺴﯿﺤﯿﺖ ﮐﮯ ﺁﻏﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻘﯿﺪﮦ ﺭﺍﺋﺞ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺣﺘﯽ ﮐﮧ ﺳﯿﻨﭧ ﭘﺎﻝ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﮯ ﻣﺘﻌﺎﺭﻑ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﺴﮑﻮ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﻣﺎﮨﺮﯾﻦ ﮐﯽ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﻣﺴﯿﺤﯿﺖ ﮐﮯ ﺍﺻﻞ ﺑﺎﻧﯽ ﻣﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ... ﻋﻘﯿﺪﮦ ﺛﺜﻠﯿﺚ Trinity ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺁﻓﯿﺸﻞ ﺍﯾﻨﭧ ﺳﻦ 325 CE ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺗﺮﮐﯽ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻗﺪﯾﻢ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺷﮩﺮ ﻧﺎﺳﯿﺎ Nicaea ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﯽ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﻋﻠﯽ ﺗﺮﯾﻦ ﻣﺴﯿﺤﯽ ﭘﺎﺩﺭﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﺅﻧﺴﻞ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺧﺪﺍ ﯾﻌﻨﯽ The Father ﺍﻭﺭ ﯾﺴﻮﻉ The Son ﮐﺎ ﺩﺭﺟﮧ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮐﺎ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ . ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺱ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺘﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺷﺸﯿﮟ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻣﺴﯿﺤﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻓﺮﻗﮯ Arian Christians ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻣﺰﺍﺣﻤﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﺎﺅﻧﺴﻞ ﻧﮯ Arian Christians ﮐﻮ ﻣﺮﺗﺪ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﮑﺮ ﻣﺰﺍﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﺣﻖ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ .... ﻋﻘﯿﺪﮦ ﺛﺜﻠﯿﺚ ﮐﮯ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺭﮐﻦ ﻣﻘﺪﺱ ﺭﻭﺡ The Holy Spirit ﮐﯽ ﺁﻣﺪ ﺳﻦ 381 CE ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮐﺮ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻗﺴﻄﻨﻄﻨﯿﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﻌﻘﺪﮦ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﺅﻧﺴﻞ ﺍﺟﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺷﻤﻮﻟﯿﺖ ﮐﯽ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﻣﻨﻈﻮﺭﯼ ﺩﮮ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ..... ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﮑﻢ ﻧﺎﻣﮧ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺁﺋﻨﺪﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻘﯿﺪﮦ ﺛﺜﻠﯿﺚ ﭘﺮ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﺋﯿﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ composition ﮐﻮ ﻟﯿﮑﺮ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﮐﺮﯾﮕﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺳﺨﺘﯽ ﺳﮯ ﻧﻤﭩﺎ ﺟﺎﺋﯿﮕﺎ ..... ﺁﺭﯾﻦ ﻣﺴﯿﺤﯽ ﺩﺑﺘﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ Nicean Creed ﻧﮯ ﺁﺭﺗﮭﻮﮈﮐﺲ ﻣﺴﯿﺤﯿﺖ ﮐﺎ ﺭﻭﭖ ﺩﮬﺎﺭ ﻟﯿﺎ .... ﺟﺲ ﺳﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﻣﻦ ﮐﯿﺘﮭﻮﻟﮏ ﺟﺪﺍ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﭘﺮﻭﭨﺴﭩﻨﭧ ﻧﻤﻮﺩﺍﺭ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﮕﺮ ﻋﻘﯿﺪﮦ ﺛﺜﻠﯿﺚ ﺁﺝ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﺎ ﺟﺰﻭ ﻻﯾﻨﻔﮏ ﮨﮯ...

دانش مسعود

یہ عنصر چھاپیں



تقویت یافتہ از مائی بی بی
© 2002-2017 مائی بی بی گروپ.
تمام حقوق متروک ہیں۔ جراتِ تحقیق 2015.