روشن خیالی

March 15, 2015

مصنف: - زمرہ: فلسفہ


روشن خیالی کی حقیقت کو سمجھنے سے پہلے ایک مثال کا جائزہ لے لیجئے، روشن خیالی کو سمجھنا آسان ہو جائے گا۔ ایک ہندو اگر اپنے ضمیر کی عدالت میں ذات پات کی تقسیم کو درست نہ سمجھے اور چھوت چھات کا قائل نہ ہو، اس کی نظر میں تمام انسان برابر ہوں۔ حالانکہ یہ شخص ہندو دھرم کی مبادیات کا انکاری ہے، لیکن پوجا پاٹ سرانجام دیتا ہے، بتوں  کے آگے سر جھکاتا ہے، تو ایک دوسرے کٹّر ہندو کی نظر میں اس کے تمام افعال قابل تحسین ہیں، لیکن ذات پات کی تقسیم سے انکار اس کے نزدیک دھرم کا اپمان کرنا ہے، اس کٹر ہندو کی نظر میں ایسا ہندو، ہندو دھرم کا مخلص پیروکار نہیں ہو سکتا اور اس کے نزدیک ایسا کرنا ہندو دھرم سے بغاوت کرنے کے مترادف ہے۔
ایک مسلمان کی نطر میں اس ہندو کے بقیہ تمام مذہبی افعال تو قابل تحسین نہیں، لیکن ذات پات کی تقسیم سے انکار اس کی نظر میں ایک قابل تحسین فعل ٹھہرے گا، وہ اس کے اس فعل کو سراہے گا، اور اس پر کاربند رہنے پر اس کی حوصلہ افزائی بھی کرے گا۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ ذات پات کی تقسیم ہندو مت میں ہندو اعتقادات کا حصہ ہے، ہندو مت کے مبادیات دین میں شامل ہے، اس لئے دیگر راسخ العقیدہ ہندووں کی نظر میں یہ ہندو کبھی مستحسن نظر سے نہیں دیکھا جائے گا، اور اس کے برعکس چونکہ ذات پات کی تقسیم سے انکار مسلمان کے کسی اعتقاد کے خلاف نہیں بلکہ اس کے اعتقاد کے عین مطابق ہے، اس لئے ایک ہندو کی روشن خیالی سے اسے کوئی مسئلہ نہیں۔
اس تحریر میں اسی بات کا جائزہ لینے کوشش کی گئی ہے کہ انسانی اعتقادات زیادہ اہم ہیں یا انسان دوست نظریات (خواہ ان کا تعلق کسی مذہبی اخلاقیات سے ہو یا نہ ہو) زیادہ اہم ہیں؟ انسان اعتقادات کیلئے ہے یا اعتقادات انسان کیلئے ہیں؟ اہمیت انسان کی زیادہ ہے یا اس کے اعتقاد کی؟ کیوں ایک راسخ العقیدہ انسان ہر حال میں اپنے اعتقادات کو ہی اہمیت دیتا ہے، اس کی سوچ کیوں صرف اپنے اعتقادات کے تقدس کے گرد ہی گھومتی ہے اور وہ اپنے اعتقاد کے خلاف کسی بہتر سوچ کے بارے میں سوچنے پر آمادہ ہونے کیلئے بھی تیار نہیں؟
روشن خیالی درحقیقت عقیدہ کی قید سے آزاد ہو کر اپنے عقیدے میں بیان کی گئی اخلاقیات سے بہتر اخلاقی قدر سے واقف ہو کر اسے تسلیم کرنے اور اپنانے کا نام ہے۔ یہ ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے کا نام ہے۔ یہ ایثار کا نام ہے، قربانی کا نام ہے، یہ کمتر سے بہتر کی طرف سفر کا نام ہے، یہ تقلید کی زنجیر توڑنے کا نام ہے، یہ روایت پرستی سے آزادی کا نام ہے، ایک قدم اور بڑھاتے ہوئے کہنے دیجئے کہ یہ گمراہی سے ہدایت پا جانے کا نام ہے۔ ایک روشن خیال انسان کے نزدیک عقیدے سے زیادہ انسانیت کی اہمیت ہوتی ہے، وہ اخلاقی قدریں اپنانے کیلئے مذہبی حدود و قیود کا مقید نہیں ہوتا، اسے اچھی اخلاقیات جو انسان دوستی پر مبنی ہوں خواہ مذہب سے حاصل ہوں یا مذہب کے باہر سے، انہیں اپنانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔روشن خیال معاشرے کے ہر طبقہ اور مکتب فکر کا فرد ہو سکتا ہے، لیکن چونکہ اس کی مخالفت عموما  مذہبی عناصر کی جانب سے کی جاتی ہے اس لئے روشن خیال لوگوں کوغلط فہمی کی بنیاد پر  عام طور پر مذہب دشمن تصور کیا جاتا ہے۔
ایسے روشن خیال ہر مذہب میں پائے جاتے ہیں، ایسے افراد اپنے ہم مذہب لوگوں کے برعکس دیگر مذاہب  کے متبعین کی نظروں میں عموماً ہیروز کا درجہ رکھتے ہیں، ہندو مت میں ستّی کے خلاف تحریک چلانے والا، اور ستّی پر قانونی پابندی عائد کرانے والا بھی ایک ہندو ہی تھا، عیسائیت میں پاپائیت کے علم بغاوت بلند کرنے والا، خالق و مخلوق کے درمیان پادری کی دلّالی کے خلاف آواز بلند کرنے والا بھی ایک عیسائی ہی تھا۔ کون صاحب عقل سلیم مسلمان ہوگا جو راجہ رام موہن رائے جس نے ستی کی رسم ختم کرائی، اور مارٹن لوتھر، جس نے پاپائیت کے چنگل سے عیسائیوں کو نجات دلائی، کی خدمات کو نہ سراہے گا؟ انہوں نے اپنے ضمیر کی آواز کے سامنے اپنے اعتقادات کو قربان کیا، ایک بہتر اخلاقی قدر کو ترجیح دی، راجہ رام موہن رائے ایشور کو مانتا تھا، مارٹن لوتھر خدائے ازلی پر کامل ایمان رکھتا تھا، لیکن ان دونوں کو اس بات کا یقین کامل تھا کہ اگر کوئی ایشور ہے، اگر کوئی خدا ہے تو وہ اس قدر ظالم اور سنگ دل نہیں ہو سکتا کہ اس قدر سنگدلانہ احکامات منوانے سے اسے مسرت و راحت حاصل ہوتی ہو۔
ایسے روشن خیال افراد، مذہب اسلام کو بھی میسّر آ جائیں تو ایک قیامت برپا ہو جاتی ہے۔ اگر کسی مسلمان کا ضمیر رجم کی سزا سے مطمئن نہ ہو،اس کی اخلاقیات پتھر مار مار کر کسی کی جان لینے کو گوارا نہ کرتی ہو، وہ جہاد کی سیاسی تشریح سے متفق نہ ہو،  وہ مرتد کی سزا قتل کو انسان کی بنیادی آزادی کے خلاف سمجھتا ہو تو اس میں کیا برائی ہو سکتی ہے؟ اس سے معاشرے میں کون سی برائی یا فساد پھیلنے کا خدشہ ہے؟ زانی پر رجم کی مخصوص سزا نافذ کرنا زہادہ اہم ہے یا زنا کے اسباب کا سدِّ باب کرنا زیادہ ضروری ہے؟ کیا سروں پر حکومت قائم کرنا دلوں پر حکومت کرنے سے کسی طرح بہتر ہو سکتا ہے ؟ کیا ستّی کی رسم ختم ہونے سے ہندو معاشرے میں فساد برپا ہوا یا انسانیت کو سکھ کا سانس نصیب ہوا، کیا پاپائیت کا اقتدار ختم ہونے سے معاشرے کی بنیادیں ہل گئیں یا معاشرہ مزید مستحکم ہوا؟
ایسا کیوں ہے کہ روشن خیالی کی روایت شکن سوچ، سوچنے والا مسلمان آج کے اس دور میں ہندووں، عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ہاں تو ہیرو بن جائے گا، لیکن مسلمان ایسے روشن خیال مسلمان کی جان کے درپے ہو جائیں گے؟ روشن خیالی نے دنیا میں بہتری کو ہی ترویج دی ہے، کیا مسلمان دنیا کے کسی ایک روشن خیال معاشرے کی نشاندہی کر سکتے ہیں کہ روشن خیالی ان کے اپنے معاشرے کیلئے وبال جان بن گئی ہو؟ اور وہ روشن خیالی کو اپنے معاشرے کیلئے تباہ کن تصور کرتے ہوئے روشن خیالی سے نجات کے متمنی ہوں۔
مذہبی اعتقادات اور احکامات سے بغاوت سے کوئی مذہب مستثنیٰ نہیں ہے، مثلاً ہندو دھرم میں گوشت خور یا شاکا ہاری ہونا مذہبی اعتقاد اور حکم سے بغاوت ہے، لیکن ایسی بغاوت کو ہندو دھرم میں گوارا کر لیا جاتا ہے، اسی طرح شراب نوشی اسلام کے اعتقاد اور حکم سے بغاوت ہے، لیکن شراب نوشی کسی مسلمان کے اسلام پر اس قدر اثر انداز نہیں ہوتی کہ اسے اسلام سے خارج قرار دے دیا جائے، بالفاظ دیگر ایک شراب نوش کو بھی اسلام میں گوارا کر لیا جاتا ہے، لیکن اس کے برعکس، کوئی ایسا نظریہ یا سوچ اختیار کرنے سے جس سے انسانیت کا بھلا ہو غور و فکر کرنے کے بجائے مذہبی ملّائیت فوراً متحرک ہو جاتی ہے اور اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہو جاتی ہے۔ اس تحریک کا بنیادی محرّک سوائے منفی سوچ کے اور کچھ نہیں ہے۔ اگر انسانیت کی فلاح ہی مذاہب کا بنیادی مطمع نظر ہے تو ہر ایسی روایت شکن سوچ کی جس سے انسانیت کی فلاح ممکن ہو مخالفت غیر معقول ہے، روشن خیال طبقہ، ایسی باغیانہ اور روایت شکن سوچ کو جسے وہ انسانیت کیلئے مفید تصور کرتا ہے ہاتھوں ہاتھ لیتا ہے اور مذہبی طبقہ اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہو جاتا ہے۔ مذہب کے ذمہ داروں کو اپنی اس روش پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ عقل مند انسانوں نے انسانیت کیلئے مفید سوچ کو فوراً قبول کیا اور کی ترویج کیلئے کوششیں سر انجام دیں، اور مذہبی ملّائیت پہلے پہل تو اس کے خلاف کمر بستہ ہوتی ہے، پھر انسانی معاشرے میں اس سوچ کے اثر و نفوذ کے بڑھ جانے کے بعد نا صرف اسے قبول کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے، بلکہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ یہ سوچ تو اس کے مذہب کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے۔

     

, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

علامہ ایاز نظامی کے بارے میں

میں ہوں ایاز نظامی، بچپن میں دستیاب ماحول کی بدولت سنّ بلوغت سے قبل ہی مذہبی ماحول سے جڑ گیا، اپنے شوق سے درس نظامی میں داخلہ لیا، اور درجہٴ ممتاز ﴿اے ون گریڈ﴾ میں وفاق المدارس العربیة سے الشھادة العالمیة ﴿ماسٹرز ان اسلامک اسٹڈیز اینڈ عربیک﴾ حاصل کی۔ مذہب اسلام کا انتہائی گہرائی سے مطالعہ کیا، اور اسلام کی حقیقت سے واقفیت کے بعد اسلام سے دامن چھڑا لیا، آج کل جس حقیقت کو میں نے پایا ہے دوسروں کو روشناس کرانے کیلئے مصروف جدّ و جہد ہوں۔ رابطہ کیلئے: ayaz@realisticapproach.org

علامہ ایاز نظامی کی تمام تحریریں ملاحظہ کریں

تحاریر بذریعہ ای میل

جراتِ تحقیق کی تازہ ترین اور مکمل تحریریں بذریعہ ای میل حاصل کرنے کے لیے ذیل میں اپنا ای میل ایڈریس لکھ کر ارسال کریں کا بٹن دبائیں۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں.

تبصرہ کریں