علم اور عقیدے کا فرق

March 16, 2014

مصنف: - زمرہ: فلسفہ, منطق

علم اور عقیدہجب انسان عالمِ وجود میں آیا تو اس نے اپنے گرد و نواح کی چیزوں کا جائزہ لیا اور اپنے آپ سے سوال کیا کہ یہ کیا ہیں؟ کیسے بنی ہیں؟ اور کیوں بنی ہیں؟ اس طرح اس نے ان کے متعلق کچھ غلط اور کچھ صحیح نظریات قائم کر لئے. جوں جوں وقت گزرتا گیا اس کے علم میں اضافہ ہوتا گیا اور اس کی سوچ بچار بھی سلجھتی گئی. رفتہ رفتہ نظریات کی تصحیح ہوتی گئی اور ساتھ ہی ساتھ اس کی ضروریات بھی بڑھتی گئیں. اس نے قوانین فطرت اور کائنات کی بناوٹ دریافت کرنے کیلئے اور زیادہ کوششیں کیں، تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ آرام و آسائش حاصل کرنے اور اپنی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اس عالم کے لامحدود مظاہر کو مسخر کرے اور انہیں اپنے کام میں لا سکے. چنانچہ سائنس اسی انسانی علم کا ذخیرہ ہے جو اسان نے اس طرح ہزاروں برس کی ان تھک کوشش، سوچ بچار، غور و فکر اور تجربات و مشاہدات سے حاصل کیا ہے.
اس عالم کے جملہ مظاہرات کے متعلق علم و آگاہی حاصل کرنے کیلئے انسان کے پاس پانچ قوتیں ہیں، جنہیں حواس خمسہ کہتے ہیں. جو درج ذیل ہیں:
۱– قوت باصرہ = دیکھنے کی قوت
۲– قوت سامعہ = سننے کی طاقت
۳– قوت ذائقہ = چکھنے کی قوت
۴– قوت لامسہ = چھونے کی طاقت
۵– قوت شامہ = سونگھنے کی طاقت

5sencesاب مقدمہ تو یہ ہے کے جن چیزوں کو ہم حواس سے نہیں دریافت کر سکتے، ان کا علم عقل کے ذریعے بھی نہیں ہو سکتا. حقیقت تو یہی ہے کے حواس کے ذریعے جب ہمیں کسی چیز کا علم ہوتا ہے تو اس کے بعد عقل (جو کے ایک ذہنی صلاحیت ہے، ذہنی استعداد ہے) ان کی ترتیب و تقسیم کرتی ہے، ان سے مناسب نتائج نکالتی ہے. لیکن جہاں سرے سے حواس کی رسائی ہی نہ ہو ظاہر ہے عقل کی رسائی وہاں تک ناممکن ہے. اور دائرہ حواس سے نکل کر کوئی اور مصدقہ ذرائع علم نہیں جس پر بھروسہ کیا جا سکے. کیونکہ کائنات کا نہ کوئی اندروں ہے نہ بیروں، جو کچھ ہے عالمِ مظہر ہے. دنیا بھر کے مذاہب دائرۂ حواس سے نکل کر ‘وحی‘ اور وجدان کے بل پر مطلق سچائی جاننے کا دعوی کرتے ہیں. ایسے کسی مصدقہ ذرائع علم کا وجود مذہب کے پاس نہیں جس کے ذریعے اس کائنات کے آغاز و انجام اور واجب الوجود تک پہنچنے کی بات کی جائے. کیونکہ کسی بھی قسم کا علم عالم مظہر میں ہی ہے. مظہر وہ ہے جو زمان و مکان میں ہو جس سے ہمارا رابطہ بذریعہ حواس ہو. جس پر ہم عقل کے بعض خلقی (Innate) سانچوں کی مدد سے حکم لگا سکیں. خود عقل حواس ہی کے دائرے میں احسن طور پر عمل کرتی ہے. اور جب بھی عقل حواس اور زمان و مکان سے ماوراء جاتی ہے، الجھنوں اور مغالطوں میں مبتلا ہو جاتی ہے (جس کا اظہار مذاہب کی رنگا رنگ تعلیمات میں ہوتا ہے). حواس اور عقل کا چولی دامن کا ساتھ ہے. ایک دوسرے کے بغیر ایک پراگندہ اور دوسرا اندھا ہے. عقل اور حواس کی مفاہمت میں عالم فطری اور عالم مظاہر کی تشکیل ہوتی ہے. شے کی ماہیت(Thing -in – itself) یا عالم حقیقی کے بارے میں ہم بر بنائے علم کوئی حکم نہیں لگا سکتے. عقل کا کام مجہول سے معروف کی طرف جاری رہتا ہے. مجہول جو ہماری معلومات میں نہیں ہوتا ہے، اس عمل سے گزرنے پر ہمارے علم میں شامل ہو کر معروف ہو جاتا ہے. یہ عملیت صرف چند تجربات تک محدود نہیں، بلکہ کسی کھیل کے سیکھنے سے لے کر اعلی فنی مہارتیں حاصل کرنے میں بھی یہی عملیت کام کرتی ہے. ہمیں ابتداء میں ہاکی ٹھیک سے تھامنا بھی نہیں آتی تھی، لیکن رفتہ رفتہ اس مرحلے سے گزر کر نہ صرف ہم ہاکی کھیلنا سیکھ گئے بلکہ ہاکی کے کھیلوں میں بھی حصہ لینے لگے. اگر اس عمل کا بغور جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کے جاننے کا عمل سادہ نہیں بلکہ یہ تغیر پذیری کا عمل ہے. زندگی کے ہر شعبے میں اسی کی جھلک ملتی ہے. اور اس سے مراد نفسیاتی کیفیات کی تغیر پذیری یا طبعی حالات کی تبدیلی ہی نہیں، بلکہ ہمارا سماجی و ثقافتی ماحول بھی مائل بہ تغیر نظر آتا ہے. تہذیب و تمدن ان تبدیلیوں اور تغیرات سے دو چار رہتے ہیں، اس اعتبار سے دیکھیں تو یہی معلوم ہوگا کہ تغیر، حقیقت کی صفات و خصوصیات میں سے ہے. اور ظاہر ہے یہ تبدیلیاں ایک مستقل سیاق میں ظہور پذیر ہوتی ہیں۔

sensesweb.اب کوئی یہ سوال پوچھ سکتا ہے کے علم کیا ہے؟ علم کے معنی جاننا ہیں. لیکن جب ہم یہ کہتے ہیں کہ مجھے فلاں بات کا علم ہے یا مجھے معلوم ہے کہ دو جمع چار ہوتے ہیں تو ایک شخص یہ سوال کر سکتا ہے کہ آپ کے علم میں یہ بات کیونکر آئی. اور جو بات آپ جان رہے ہیں وہ درست ہے یا نہیں؟ اب ظاہر ہے بغیر جانے ہوئے ہم کسی چیز کے ہونے نہ ہونے کا فیصلہ نہیں کر سکتے، جان کر کسی چیز کو ماننا یہ تو علم ہے. اور بے جانے ہوئے کسی شے کا اعتراف کر لینا، اسی کا نام وہم ہے. پس وحی اور عقائد سے حاصل ہونے والا علم اور عقائد وہم کے زمرے میں آتے ہیں. جن کی تجرباتی و مشاہداتی سطح پر کوئی توجیہ نہیں پیش کی جا سکتی. عقل کا کام ہمارے تصورات کی تحلیل و ترتیب کرنا ہے اور یہی علم حاصل کرنا ہے. اور اسی طرح حاصل شدہ علم کائناتی وسعت کا حامل ہے. اخلاق کا مسئلہ ہو یا سیاسی اصول یا کسی بھی شے کے فیصلے ہوں، بذریعہ عقل ان تک پہنچا جا سکتا ہے. اور عقل اس بارے میں جو بھی حکم لگائے اسے قطعی اور آخری سمجھا جائے. عقلیین کے مطابق علم کی بہترین صورت ریاضیاتی ہے. جس طرح استخراجات (Deduction) میں تیقن (Certainity) نظر آتا ہے. وہی قطعیت علم کی ہر شاخ میں ہونی چاہئے. یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب کہ اس ریاضیاتی طریقہ کار کو کل علمی زندگی پر پھیلا دیا جائے. ریاضی کے طریقہ کار کی خصوصیت یہ ہے کہ وہاں چند غیر تعریف شدہ تصوارت، جنہیں بدیہی تصورات (Primative Concepts) کہتے ہیں، کو قبول کرکے ان غیر تعریف شدہ تصورات سے تعریفات وضح کرنا ہے. چند اصول تسلیم کیے جاتے ہیں اور ان کی مدد سے مسائل کا ثبوت دیا جاتا ہے. یہ طریقہ ہمیں ہندسہ یا اقلیدس میں نظر آتا ہے. ہندسہ میں فاصلہ، لمبائی اور چوڑائی کے تصورات کو بغیر ان کی تعریف کیے مان لیتے ہیں. ان کی مدد سے نقطہ خط مستقیم اور زاویہ اور دائرہ کی تعریفیں دیتے ہیں. پھر بعض بدیہات تسلیم کرتے ہیں اور اس سادہ ڈھانچے سے رفتہ رفتہ جیومیٹری یا ہندسہ کا کل استخراجی نظام حاصل کرتے ہیں. جس میں ہر نتیجہ کی صحت تسلیم شدہ تصورات اور قضایا سے حاصل ہوتی ہے. یہاں یہ ممکن نہیں کہ بدیہیات کو قبول کریں اور نتائج کی صحت سے انکار کر دیں. ظاہر ہے اس قسم کے استخراجی نظام کے بنیادی تصورات اور بدیہات عقل کی پیداوار ہیں. یعنی حقائق میں سے جو چیز تجربہ میں نہ آ سکے، موجودات میں سے جس چیز کو پرکھا نہ جا سکے، وہ قابل تسلیم نہیں ہے. اس کائنات کو جاننے اور اس پر غور و فکر کرنے کیلئے کسی مابعد الطبیعی نظریہ یا کسی مافوق البشر ہستی کے وجود کی ضرورت نہیں. کائنات کی میکانکی توجیہ ہی مدلل اور علمی طریقہ ہے اور اس کے علاوہ ہر فکری سانچہ، ہر توجیہ، اور ہر قسم کا طرز استدلال غیر معقول اور غیر علمی ہے. جو شے عقل کی گرفت میں نہ آئے وہ بے حقیقت ہے. سچائی کو جاننے کیلئے اسے کسی خدا سے منسوب کرنے کی ضرورت اضافی ہے. اس ضمن میں تاریخ فلسفہ جدید کے مؤلف ڈاکٹر ہرلڈ ہوفڈرنگ کہتے ہیں: “ہمارے علم کے نتائج صرف ریاضی کے ذریعہ سے پوری طرح یقینی ہو سکے ہیں، عقل تجربہ کا ماحصل ہے لہذا زمانہ کی پیداوار ہے. وہ تمام تخیلات قابل رد ہیں جن کی تائید تجربہ سے نہیں ہوتی کیونکہ تجربہ ہی تمام علوم کی ماں ہے.”
اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ مذہب میں “مستند ہے میرا فرمایا ہوا” کا اصول کام کرتا ہے. مذہب عالم مظاہر کو ان ذرائع سے جاننے اور دریافت کرنے کا دعوی کرتا ہے. جو عقل و حواس کے دائرے سے باہر ہیں گویا اس عالم سے باہر ہیں. مذہب عالم فطری اور عالم مظاہر کی حقیقت پر بر بنائے“وہم” حکم لگاتا ہے. جس وجہ سے ایسی ایسی خامہ فرسائیاں عقل و دانش کے نام پر دیکھنے سننے کو ملتی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے. ظاہر ہے مذاہب کا وحی اور وجدان کے بل پر اس عالم کو جاننے کا دعویٰ کسی دیوانے کی بڑ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا. عقل و حواس کے دائرے سے نکل کر جن ذرائع سے مصدقہ علم تک رسائی کا دعوی کیا جاتا ہے اس “مصدقہ علم” کی بوالعجبیوں کی فہرست طویل تر ہے. لیکن اس مصدقہ ذرائع سے حاصل ہونے والے مصدقہ علم کی چند باتیں از خود لغو ثابت کرنے کیلیے کافی ہیں. یہ مصدقہ علم کبھی زمین کے چپٹا ہونے کا دعوی کرتا ہے تو کبھی زمین کو مچھلی کی پیٹھ پر کھڑا بتاتا ہے. یہ مصدقہ علم کہتا ہے کہ سورج گدلے پانیوں کی دلدل میں ڈوبتا ہے، عیسیٰ بغیر باپ کے پیدا ہوئے، موسی کا عصا اژدھا بن جاتا تھا، چاند کے دو ٹکڑے ہو جانا، حیات مابعد الموت کا تصور جس میں خدا پر ایمان نہ رکھنے والوں کو لامتناہی عرصے تک جہنم کی آگ میں جلنا، اور خدا کو ماننے والوں کا کروڑوں برس تک حور نامی مخلوق کے ساتھ مباشرت میں مصروف رہنا، سیاروں اور ستاروں کا کام شیاطین و جنات کو مار بھگانا بتانا وغیرہ وغیرہ. انسان تصورات کی دنیا بسا کر اکثر انہی قسم کے اوہام میں مبتلا ہو جاتا ہے. اور اس “مصدقہ ذرائع سے حاصل ہونے والے مصدقہ علم” کو قطعی اور حرف آخر سمجھتا ہے. یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کے اگر وحی اور وجدان کو مصدقہ ذرائع علم تصور کر بھی لیا جائے، تب مذاہب عالم کی رنگا رنگ تعلیمات اور ان کے خدا اور ابتداءِ کائنات سے لے کر اختتامِ کائنات تک کے تصورات ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتے. اگر یہ ذرائعِ علم درست ہوتے تب مذاہب کے بیشتر مسائل ایک دوسرے سے مختلف اور جدا نہ ہوتے. خدا، ابتداء کائنات، اختتام کائنات، جزا و سزا وغیرہ سے متعلق ان کے تصورات ایک جیسے ہوتے. جبکہ ہم دیکھتے ہیں کے مذاہب کے پاس مصدقہ علمی ذرائع ہوتے ہوئے بھی ان کے نظریات و تصورات میں قطعی اتفاق مفقود ہے جو کہ ہونا چاہئے تھا. ان مصدقہ ذرائع علمی سے ہٹ کر جو انسان عقل سے کام لیتے ہوئے پوری کائنات کو جاننے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، اس لگاتار کوشش کے نتیجے میں انسان نے سائنسی ایجادات کیں اور وہ خلاؤں میں سفر کرنے لگا. بپھرے ہوئے سیلاب پر قابو پا گیا. جنگلوں اور بیابانوں کو جنت بنایا. روئے زمین کو عظیم الشان عمارات و محلات سے مزین کیا. انسان کی آسائش کیلئے ہر قسم کی مشینیں ایجاد کی گئیں تاکہ انسانی عقل کو تعمیری کاموں کی طرف راغب کر کے دنیا کو “جنت الفردوس” بنا سکے. دنیا بھر کے مروجہ علوم اور سائنس نے انہی حواس خمسہ کے ذریعے عالم کو دریافت کیا اور اس سے تعلق پیدا کیا، اس نے طبعی قوانین اور ظواہر معلوم کیے، ہمارے پاس مناظر و مرئیات، مسموعات اور محسوسات کا خزانہ ہے. جن کے ذریعے روز بروز اس عالم کے اسرار و رموز کو جان کر ان سے پردہ ہٹایا جا رہا ہے اور جھوٹے بے بنیاد دعووں کی قلعی کھولی جاری ہے. عقل کے مقدمات محسوسات ہی ہوتے ہیں جو ان کا تحلیل و تجزیہ کرتی ہے. حقائق کی نئی نئی دنیاؤں تک پہنچنے اور لاعلمی کے بڑے بڑے سمندروں کو عبور کرنے میں عقل کا ہی ہاتھ ہے. جس کی اساس حواس خمسہ ہیں.

     

, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

تحاریر بذریعہ ای میل

جراتِ تحقیق کی تازہ ترین اور مکمل تحریریں بذریعہ ای میل حاصل کرنے کے لیے ذیل میں اپنا ای میل ایڈریس لکھ کر ارسال کریں کا بٹن دبائیں۔

2 تبصرے تا “علم اور عقیدے کا فرق”

  1. روشن خیال نے کہا:

    ایان شاہ صاحب، فیس بک پر بھی آپ کی تحریریں پڑھتا رہتا ہوں، آج جرات تحقیق پر آپ کی تحریر دیکھ کر بے انتہا خوشی ہوئی۔ امید کرتا ہوں کہ جرات تحقیق پر گاہے بگاہے آپ کی تحریروں کا سلسلسہ جاری رہے گا۔ جرات تحقیق پر آپ کی پہلی تحریر ہی ایک شاہکار نمونہ ہے۔ پڑھ کر بہت لطف آیا۔

    جواب دیں

  2. Tanvir S نے کہا:

    محترم ایان صاحب آپکی تحریرات نظر سے گزرتی رہتی ہیں اور کچھ دلچسپ بھی ہوتی ہیں اور صرف اس لحاظ سے قابلِ قدر بھی ہوتی ہیں کے ایک انسان نے ان تحریروں کو قارئین تک پہنچانے میں خاصی دماغ سوزی اور محنت سے کام لیا۔باقی جہاں تک انکے موٗثر ہونے کا تعلق ہے وہ انکی علمی حثیت سے ہی ثابت ہوجاتا ہے کیونکہ اگر اسی زیرِ نظر تحریر کا پوسٹ مارٹم کیا جائے تو یہ بات بار بار واضع ہوکر سامنے آتی ہے کہ لکھنے والا کٹر یہودی یا کٹر عیسائی(جیسے یاہووا کنگڈم والے) یا وہابی طرز طریق اختیار کرتے ہوئے قاری کو بار بار یہ باور کروانے کی کوشش میں ہے کہ وہ جو کہہ رہا ہے وہی حرفِ آخر ہے یا پھر جان بوجھ کر وہ موضوع زیرِ بحث لانے سے گریز کررہا ہے جس کے چھیڑنے سے قاری کو سوچ کا منصفانہ معیار نہ دستیاب ہوجائے جو ایک علمی بددیانتی ہے۔یا پھر گمان غالب یہی ہے کہ مصنف خود بھی اس معاملہ میں قدرے پیدل واقع ہوا ہے اور واقعی اَن امور و دلائل پر بات کرنے سے قاصر ہے۔ علمی بدیانتی کا تو آپکے بارہ میں سوچابھی نہیں جاسکتا لہذا یہی تصور کیا جاسکتا ہے کہ دوسری توجیح زیادہ کارفرماہے۔

    آپ نے عقلِ انسانی کو جو حواسِ خمسہ تک محدود کرنے کی سعی فرمائی ہے اور حواسِ خمسہ کے دائرہ اختیار سے باہر کی ہر شے کے وجود کو باطل اور غیر حقیقی بلکہ سرے سے ہی ماننے سے انکار کا فارمولہ وضع فرمایا ہے وہ بالکل ارتقا پذیر ذہنی اپروچ کی نمائیندگی نہیں کرتابلکہ ایک جامد سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو زمانہ قدیم سے ہر معاشرہ میں پنپتی رہی اور اپنے بنائے گئے متعین اور مروجہ اصولوں کی کسوٹی پر ہی ہر نئی آنے والی ایجاد ودریافت اور نظریہ کی نفی کو اپنے ’’عظیم الشان ‘‘ دلائل سے ردّ کرتی رہی۔ مزید وضاحت یوں کہ جب تک زمانہِ جدید کی ہر نئی دریافت لیزر ریز سے لیکر انسانی آنکھ سے نظر نہ آنے والے جرثوموں تک اور روشنی کے فوٹان پیکٹ سے لیکر اُس ذرے تک جو روشنی کی رفتار سے بھی تیز سفر کرسکتا ہے کیا یہ سب دریافتیں حواسِ خمسہ کے احاطہ میں آسکیں؟ یا جب تک شمالی امریکہ کے قدیم باشندے اور نیوزی لینڈ کے ماووری باشندے کسی مہذب انسان کے حواسِ خمسہ کے احاطہ میں نہ آسکے تو بقول آپکے اُنکا وجود تھا ہی نہیں۔ بجائے اسکے کہ یہ کہا جائے کہ ٹھیک ہے وہ وجود ہونگے یا اُنکے اثرات آپ نے یا آپ جیسے اور افراد نے اپنے اوپر محسوس نہیں کئے یا آپکا علم ابھی اس بارہ میں محدود ہے جو اُن نادریافت شدہ اشیاء کا احاطہ کرسکے مگر یہ بات آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اُنکا سرے سے وجود ہی نہیں؟ حقیقت میں بات کچھ اور ہے ا ور شاید وہ یہ ہے جسے ہمارے اسی سوچ کے دیگر دوست بھی ماننے سے انکاری رہتے ہیں کہ اس سے اُنکی کم علمی واضع ہوجاتی ہے اُنکے ارفع عقلی زُعم پرذد پڑتی ہے کہ وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ وہ مسلسل طبیعات کے فارمولوں سے جغرافیہ کے سوالوں کا جواب ڈھونڈنے کا جتن کرتے ہیں یا کیمیا کے فارمولوں سے معاشرتی علوم کے پرچہ میں پوچھے گئے سوالات کا جواب حل کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ہاتھ میں ریاضی کی کتاب پکڑے کوکنگ کلاس میں بیٹھے ہیں اور کھانے کی تراکیب والا صفحہ ڈھونڈ رہے ہیں اور نہ ملنے پر ٹیچر سمیت دیگر طالبعلموں کو کند ذہن اور بیوقوف جان کر نخوت سے دیکھ رہے ہیں۔ کیا جو شے یا وجود محدود علم کے احاطہ یا بقول آپکے حواسِ خمسہ کے احاطہ میں نہیں آتا اُسکا وجود ہوتا ہی نہیں؟ اور کیا موجودہ عقلی معراج پر ہر شے کی ماہیت واضع ہوچکی ہے؟ اور محدود عقلِ انسانی کے احاطہ سے باہر کسی اور وجود کا ہونا ممکن نہیں؟ اور کیا واقعی آپ سمجھتے ہیں کہ عقلِ انسانی لامحدود ہے اور ہر علم کا احاطہ ہر انسان ایک سا کرسکتا ہے اور جن علوم سے آپکی آشنائی ہے صرف وہی علوم ہی یہ طاقت رکھتے ہیں کہ کائنات میں موجود ہر شے کا ادراک کرسکیں؟ اگر ان میں سے کسی ایک سوال کا جواب بھی آپکی نظر میں اثباتی رنگ رکھتا ہے تو پھر براہِ کرم ابھی آپ کو کُھلے ذہن سے مزید کھوج اور تحقیق کی حاجت ہے۔

    جواب دیں

تبصرہ کریں