کیا کائنات خود بخود بن سکتی ہے؟

October 17, 2015

مصنف: - زمرہ: سائنس, فلسفہ

10557677_1431681607113664_8169365298591344375_oخدا کو کائنات کے خالق کے طور پر پیش کرنا ہی خدا کے حق میں مضبوط ترین ثبوت مانا جاتا ہے، خدا کے کائنات کے خالق ہونے کے دو دلائل ہیں، یہ کہنا کہ ”خدا نے ابتدا میں آسمان اور زمین کی تخلیق کی“، مطلب کبھی کائنات کی تخلیق ہوئی تھی یعنی خدا اس تخلیق سے پہلے موجود تھا اور اسی نے ہماری کائنات بنائی تھی؟ اس دلیل کے مطابق انتہائی قدیم وقت میں کبھی کائنات خدا سے وجود میں آئی، قدیم ترین ماضی میں ایک وقت کچھ بھی نہیں تھا اور کائنات کی وجود کی پہلی وجہ موجود تھی، ایک ایسی وجہ جو کسی بھی دوسری وجہ سے بے نیاز ہے، ایک ایسی وجہ جس کے باعث کائنات شروع ہوئی ۔

اب جتنی بھی چیزیں وجود رکھتی ہیں، وہ کسی اور چیز یا وجہ کے باعث وجود میں آتی ہیں، اور جس وجہ سے یہ وجود رکھتی ہیں وہ وجہ کسی اور وجہ کا ثمر ہے۔ اس بات سے دو نتائج نکلتے ہیں 1 یا تو وجوہات کا ایک نا ختم ہونے والا لامحدود سلسلہ 2 یا پھر وجہ اول جو کہ کائنات میں ہر ایک چیز کے وجود کی وجہ ہے، ایک ایسی وجہ جوکسی بھی گذشتہ وجہ کے اثر سے بے نیاز ہے۔ اس دلیل کے مطابق، لامحدود وجوہات کا تسلسل ناممکن ہے۔ پہلی وجہ کے بغیر دوسری وجہ نہیں ہو سکتی، اور دوسری وجہ کے بغیر تیسری نہیں ہو سکتی، اس طرح یکے بعد دیگرے وجوہات کا ایک لامحدود سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اب جیسا کہ کائنات اور اس کے باسی وجود رکھتے ہیں تو ہم لامحدود وجوہات کے سلسلے کو مسترد کر سکتے ہیں اور یہ مان سکتے ہیں کہ کوئی پہلی وجہ ضرور تھی۔ ایک ایسی وجہ جس کو خدا پرست خدا کا نام دیتے ہیں۔

خدا پرستوں کی یہ دلیل دو مفروضوں پر مبنی ہے،اول کائنات کسی وجہ کے بغیر کیسے بنی؟ دوئم کہ ہم کائنات کے اندر رہتے ہوئے کائنات کی تخلیق کو مکمل طور پر بیان نہیں کر سکتے، اس لئے کائنات کے وجود کی وجہ کائنات سے بالا تر ہے، اور یہ وجہ(خدا) کسی بھی وجہ اور اس کے اثر سے بالا تر ہے۔ اب جیسا کہ کائنات اپنے وجود کی وجہ خود نہیں دے سکتی کائنات کی بنیادی حقیقتیں جاننے کے لئیے کائنات سے بالا تر ہوتے ہوئے کسی خدا پر انحصار کرنا پڑے گا۔ اگر دہریے خدا کے وجود کا انکار کرتے ہیں؟ تو وہ کائنات کے وجود کی کیا وجہ پیش کریں گے؟ اب کائنات خود بخود تو بننے سے رہی۔اس سے پہلے کہ ہم وجود کے اچنبے کو سلجھائیں، اس دعوے کو قریب سے دیکھتے ہیں۔

اگر یہ دعوی درست ہے، تو وجہ اول کی دلیل صرف یہ بیان کرتی ہے کہ کائنات کے بننے یا کائنات سے پہلے وجود رکھنے والے خدا کی ایک عجیب و غریب پہلی وجہ ضرور تھی۔ اس مفروضے سے کہیں یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پہلی وجہ یا خدا آج بھی وجود رکھتا ہے یا نہیں۔ مطلب اگر اس بات کو مان بھی لیا جائے کہ کائنات خودبخود وجود میں نہیں آ سکتی اور اس کو بنانے کے لئیے خدا یا کسی اور ابتدائی وجہ کی ضرورت ہے تو اس سے قطعاً یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ پہلی وجہ آج بھی موجود ہے یا خدا جس نے کائنات بنائی آج بھی زندہ ہے، اور پھر جس چیز یا شخص نے کائنات بنائی وہ عقل کل رکھتا تھا یا نہیں، اور اگر رکھتا تھا تو آج بھی رکھتا ہے یا نہیں؟ اور اگر وجہ اول بے عقل تھی تو اس کا خدا پرستوں کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔

اگر ہم پہلی بے وجہ وجود میں آنے والی وجہ کو مان بھی لیں تو اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ ابتدا میں کچھ ایسا تھا جس کی خود کوئی وجہ نہیں تھی۔ اور جب یہ مان سکتے ہیں کہ کوئی چیز بغیر کسی وجہ کے پیدا ہو سکتی ہے تو یہ کیوں نہیں مان سکتے کہ مادہ یا قوت بھی بغیر کسی وجہ کے وجود میں آ سکتے ہیں۔ اب خدا کے ماننے والے کہیں گے کہ صرف پہلی وجہ ہی نہیں بلکہ یہ پہلی وجہ قدرتی کائنات سے بالا تر ہے یعنی اس کائنات کا حصہ ہی نہیں ہے۔

اب س دوعوی کے مطابق کائنات خود اپنے ہونے کی وجہ بیان نہیں کر سکتی، مافوق الفطرف وجہ اول ہی ہمیں کائنات کے وجود کی دلیل دے سکتی ہےاور یہی باقی سب چیزوں کے وجود کو بیان کر سکتی ہے۔

اگر خدا کائنات کو وجود میں لانے والا ہے تو، وہ کائنات کو ناموجود سے وجود میں کیسے لایا؟ یہ کہنا کہ خدا کائنات کا خالق ہے، جبکہ ہم خدا کی فطرت کے بارے میں حتمی طور پر کچھ بھی نہیں جانتے اور کس طرح سے اس نے کائنات بنائی؟ اب اگر خدا کائانت کا خالق ہے، تو ہمارے پاس خدا کی ہئیت کے بارے میں کچھ علم تو ہونا چاہیے کہ وہ کس طرح سے ناموجود میں مادہ پیدا کرسکتا تھا؟ اب اگر خدا وجہ ہے تو اس وجہ کے بارے میں ہم صرف قیاس آرائیوں کی بنیاد پر ہی کیوں یقین رکھتے ہیں۔ بات تو ایسی ہے کہ “انجانے شخص نے انجانے طریقے سے کائنات کو وجود میں لایا”، یہ سوال ہمارے وجود کے بارے میں تجسس کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھاتا ہے۔ خدا کو ماننے والا یہ کہتا ہے کہ انسان کبھی بھی کائنات کے وجود کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتا۔ خدا کو ماننے والے کائنات کے وجود کی ایک ایسی وجہ پر یقین رکھتے ہیں جس کی کبھی بھی تشریح نہیں ہو سکتی۔ اگر ایک مافوق الفطرت خدا وجود رکھتا بھی ہے تو موجود اور ناموجود کا سوال جوں کا توں رہے گا۔ بحرحال اس نے کائنات کو کو ناموجود سے وجود میں کیسے لایا؟ اب اگر یہ کہا جائے کہ یہ خدا ہماری سوچ سے بالا تر ہے تو پھر یہ اندھی تقلید کی دعوت ہے۔ خدا پر ایمان رکھنے والا اپنے ہی سوال میں پھس کر رہ جاتا ہے اور اس کو ایک ایسی کائنات میں ہی رہنا پڑے گا جس کو وہ کبھی بھی نہیں سمجھ سکتا۔ اب سوچیں کیا پہلی وجہ والی دلیل درست ہے یا غلط؟ کیا کائنات کو وجود رکھنے کے لییے کسی وجہ کی ضرورت ہے؟

اگر کائنات کی وجہ خدا کو مان لیا جائے تو ایک اور سوال اٹھ کھڑا ہوتا ہے، کیونکہ اس دلیل کا پہلا حصہ کہتا ہے کہ ہر چیز کی کوئی وجہ ہونی چاہیے، اور اس بات سے یہ اخذ کیا جاتا ہے کہ یہ وجہ خدا ہے۔ تو خدا اس اصول سے بالا تر کیسے ہو گیا؟ ”اب اس لئے خدا کائنات کا خالق ہے کیونکہ کوئی چیز بھی خود بخود نہیں بن سکتی“ یہ دلیل خود ہی اپنی نفی کرتی ہے۔ مگر بہت سے لوگ جب اس دلیل کو استعمال کرتے ہوئے خدا تک پہنچ جاتے ہیں تو اسی دلیل کے مفروضے کو بھول جاتے ہیں۔ اگر دلیل خود اپنے ہی مفروضے کی نفی کرے تو پھر دلیل ہی غلط ہوتی ہے۔ اب بہت سے لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ کائنات کے وجود میں آنے کی وجہ اول(خدا) ہمیشہ سے موجود تھی، تو ْپھر یہ ماننے میں کیا قباحت ہے کے کائنات اور اس کے اجزا ہمیشہ سے ہی وجود رکھتے تھے۔ اب جس چیز کو ہم نہیں جانتے اسکو اس چیز کی بنا پر بیان کیا جاتا ہے جسکو ہم جانتے ہیں، نہ کہ جسے ہم جانتے ہیں(کائنات) اس کو انجانے(خدا) کی بنیاد پر بیان کیا جائے۔

جب ہم کسی چیز یا واقعہ کی وجہ کے بارے میں پوچھتے ہیں، تو یہ پوچھتے ہیں کہ اس سے پہلے کیا ہوا تھا کن حالات اور کس وجہ سے یہ ہوا تھا،اب کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے اور جو بھی چیزیں ہیں وہ اپنے سے پہلے کی چیزوں کی بنیاد پر بیان کی جا سکتی ہیں، اور ہر ایک چیز کی ایک وجہ ہوتی ہے۔ جتنی بھی چیزیں وجود رکھتی ہیں وہ اپنے سے پہلے عملوں یا وجوہات کا ہی نتیجہ ہوتی ہیں۔ ہر چیز کی وجہ اس سے پہلے موجود ہوتی ہے۔ اب کائنات میں ہر چیز کی وجہ مانگنا ایک تضاد پیدا کر دیتا ہے۔ کیونکہ اگر وجہ موجود ہے تو اس کا اثر بھی ہو گا، اگر وجہ موجود ہی نہیں تو اس کا اثر بھی کبھی سامنے نہیں آ سکتا اور ناموجود کبھی بھی موجود نہیں بن سکتا۔ کیونکہ وجہ وجود سے پہلے آتی ہے، اس لئے خدا کے بجائے وجود ہی پہلی وجہ ہے۔اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر چیز کی کوئی وجہ ہوتی ہے یہ دلیل صرف اس بات پر زور دیتی ہی کہ کئانت کیسے وجود میں آئی؟ اور یہ ایک فضول سوال ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے کہ کوئی(خدا) کسی چیز(کائنات) کی وجہ بنے اسے وجود میں آنا ہوتا ہے۔ اور وجود میں آنے کے لئے اس کو(خدا) کو کسی کائنات(نظام بالا جو ہماری کائنات سے بے نیاز ہے) کا حصہ بننا پڑتا ہے۔

سائنس میں وجود کو اس بات سے بیان کیا جاتا ہے ”مادہ یا قوت کبھی بھی بنائے یا مٹائے نہیں جا سکتے، یہ صرف حالتیں بدلتے رہتے ہیں“ اب مادی کائنات کی اپنی کوئی وجہ نہیں ہے، ہاں مادے اور قوت کی حالت بدلنے کی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اب کائنات کو اس سے بالا تر قوانین کی مد میں بیان کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ ایک پرندے کی اڑان کو آب و ہوا کے بغیر بیان کرنا۔ کیونکہ پرندہ آب و ہوا کے بغیر نہیں اڑ سکتا اور کائنات مادے کے بغیر نہیں وجود رکھ سکتی۔ خدا پرستوں کے لئیے یہ کہ کائنات ہمیشہ سے موجود تھی اور ہمیشہ ہی موجود رہے گی اس کی نسبت آسان ہے کہ مان لیا جائے خدا ہی نے سب کچھ تخلیق کیا ہے۔ یہ بات انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ لوگ ہمیشہ سے وجود رکھنے والے خدا کو تو مان لیتے ہیں مگر مادہ یا قوت کی ازلی نوعیت ان کو انتہائی معیوب محسوس ہوتی ہے۔ جب تک خدا پر ایمان رکھنے والے ہر چیز کی وجہ مانگتے رہیں گے تب تک ان کا دعوی غلط ہی رہے گا۔ اور اپنی دلیل میں پائے جانے والے تضاد کو نظر انداز ہی کرتے رہیں گے۔

کائنات کی وجہ اول اور ہر چیز بشمول خدا کی وجہ اول ترین دو الگ الگ باتیں ہیں۔ کائنات کی پہلی وجہ وہ ہے جس نے کائنات کے وجود میں مدد کی مگر یہی اول ترین وجہ ہو یہ ضروری نہیں۔ اب اس وجہ اول ترین کی ضرورت صرف کائنات کے وجود کی وجہ کو بیان کرنے کے لئے پیش آتی ہے۔ اور اس کا وجود لامحدود اور ابدی مانا جاتا ہے۔ اب قدیم وقت میں وجہ اول کی کوئی اہمیت نہیں رہتی اور وجوہات ماضی میں قدامت کی طرف بڑھنے لگتی ہیں۔ اب اگر ہم یہ مان لیں کہ مادہ اور قوت ہمیشہ ہی سے موجود تھے تو ہمیں کسی وجہ اول ترین کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ مگر خدا پرست یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ پہلی تبدیلی کس وجہ سے ہوئی، پھر دوسری، پھر تیسری سے لے کر اب تک کی تمام تبدیلیاں۔ مگر جیسا کہ تبدیلیلں اب تک رونما ہو رہی ہیں، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی تو پہلی تبدیلی ہو گی واضح رہے تبدیلیاں کوئی شعور اور عقل نہیں رکھتیں۔ یہ بات جزوی طور پر درست ہے، پہلی وجہ کے بغیر دوسری، اور تیسری وجوہات نہیں ہو سکتیں۔ اسی طور پر ہم بتا سکتے ہیں کہ کونسی وجہ دسویں وجہ ہے اور کونسی ہزارویں۔ اب بات ایسی ہے کہ اس وجہ اول والی دلیل کو بغیر کسی ثبوت کے رد کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ وجوہات ماضی میں لامحدود ہیں۔ اور ان کو ہندسے نہیں لگائے جا سکتے۔ مگر وجہ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہماری کائنات کے بارے میں حتمی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ محدود ہے اور اگر کائنات لامحدود یا ہمیشہ سے وجود رکھنے والی ہو تو کسی خدا کسی وجہ اول یا وجہ اول ترین کی ضرورت نہیں رہتی۔ سائنسی حلقوں میں تو بگ بینگ کو بھی کائنات کا شروع نہیں مانا جاتا بلکہ اس کو ایک تسلسل کے ٹوٹنے کا ثبوت مانا جاتا ہے جس سے پچھلے تمام شواہد ناپید ہو گئے۔

اب اگر مادہ اور قوت ہی کو لامحدود مان لیا جائے تو تو کسی پہلی وجہ کی ضرورت نہیں رہتی، یہ دلیل متضاد، اور بے مقصد لگتی ہے۔ اور منطقی خدا پرستوں کوخدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لئیے اس دلیل کے بجائے کسی اور جانب دیکھنا ہو گا۔
(جاری ہے)

Derived from Atheism – A Case Against God by George Hamilton Smith

     

, , , , , , , , , , , , , ,

تحاریر بذریعہ ای میل

جراتِ تحقیق کی تازہ ترین اور مکمل تحریریں بذریعہ ای میل حاصل کرنے کے لیے ذیل میں اپنا ای میل ایڈریس لکھ کر ارسال کریں کا بٹن دبائیں۔

ایک تبصرہ تا “کیا کائنات خود بخود بن سکتی ہے؟”

  1. wasim نے کہا:

    Do you know any law of physics which endorse the sudden creation of universe or matter, without using anY previous matter/energy ? . while, First law of thermodynamics is opposite to it. IF so, then the universe would have to violate this laws for creation of itself.

    جواب دیں

تبصرہ کریں