دلائلِ نبوت عقل اور نقل کی روشنی میں

April 24, 2014

مصنف: - زمرہ: مذہب

jibrilمحمد صلعم کی ذات ایک ایسی ہستی کی ہے کہ جن کی نبوت پر اس دنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی پر مشتمل مسلمانوں کا ایمان ہے اور دنیا کی اتنی بڑی آبادی پر مشتمل یہ تعداد محمد صلعم کے نام پر ہر وقت مرنے مارنے پر تیار ہے۔ مگر اس حقیقت سے بھی منہ نہیں موڑا جا سکتا یہ اتنی بڑی مسلم آبادی کے 99 فیصد حصے نے شاید کبھی سوچنے کی بھی زحمت نہیں کی کہ ہم لوگ محمد صلعم کو نبی کیوں مانتے ہیں؟ اصولی طور پر بات کی جائے تو “محمد صلعم کی نبوت کا معیار و دلیل کیا ہے؟“
مسلمانوں کے بڑے بڑے علماء تک اس سوال کے جواب اپنے پیدائشی طور پر مسلمان ہونے اور اسی بنیاد پر بچپن سے سیکھی اس بات کو اپنی دلیل سمجھتے ہیں کہ “محمد صلعم اللہ کے آخری نبی ہیں۔” کچھ لوگوں کیلئے تو یہ سوال ہی بڑی حیرت کا باعث ہے حالانکہ جب تمام مسلمان محمد صلعم کا آخری نبی مان کر ساری دنیا کو ان کی پیروی پر دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت دیتے ہیں تو اس بنیادی سوال کا جواب دیا جانا نہایت ضروری امر ہے۔سب سے پہلے ہم ان چند بزعم خویش فراہم کئے جانے والے دلائل کا تجزیہ کرتے ہیں جو مسلمانوں کی جانب سے محمد صلعم کی نبوت کی دلیل کے طور پر عموماً پیش کئے جاتے ہیں۔
معجزوں کی دلیل
مسلمان علماء و عوام بلا سوچے سمجھے جس بات کو محمد صلعم کی نبوت کی دلیل بنا کر پیش کرتے ہیں ان میں سرِفہرست ان کے معجزات کی کہانیاں ہیں جو خود مسلمانوں کی کتب میں موجود ہیں۔ ہم ان معجزوں کی حقانیت وبطلان پر بحث کئے بغیر اس بات کا اصولی جائزہ لیتے ہیں کہ کیا معجزوں کو نبوت کی دلیل مانا بھی جا سکتا ہے یا نہیں؟ایک سابقہ مسلمان کے طور پر مجھے اچھی طرح اندازہ کے کہ مسلمانوں کے بڑے بڑے علماء تک معجزوں کو نبوت کی دلیل بناتے ہوئے کس قدر علمی خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ معجزے کی تعریف میں یہ بات داخل ہے کہ “ایسا خرق عادت کام جو کسی نبی کے ہاتھ پر انجام پائے۔” یعنی کسی بھی خرق عادت کام کو دکھانے والے کو نبی نہیں مانا جا سکتا بلکہ پہلے کسی کو نبی تسلیم کیا جاتا ہے اور جب اس کے ہاتھ پر کوئی خرق عادت کام ظاہر ہو تو اسے معجزہ کہا جاتا ہے۔
یہ تو تھی اصولی بات جو اس غیر علمی دلیل کے رد کے لئے کافی ہے اور دوسری بات یہ کہ خود محمد صلعم نے اپنی نبوت کو پیش کرتے ہوئے کبھی معجزے کو دلیل نہیں بنایا۔ کیا ابوبکر و خدیجہ کوئی معجزہ دیکھ کر ایمان لائے تھے ، اگر نہیں تو یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ نبوت کا معیار و دلیل معجزہ ہرگز نہیں۔ معجزوں کی جو کہانیاں پیش کی جاتی ہیں، وہ تو بہت بعد کا معاملہ ہے،حالانکہ اس سے بہت پہلے محض محمد صلعم کے دعویٰ نبوت کو تسلیم کر کے کئی لوگ مسلمان ہو چکے تھے اور اس دعویٰ نبوت کی تکذیب کر کے ابولہب جیسوں کی مذمت میں قرآن کی آیات باقاعدہ نام لے کر آ چکی تھیں۔ اگر معجزہ دلیل تھا تو محمد صلعم نے جب تک ایسا کوئی کام نہیں دکھایا تو ظاہر ہے کہ اس دلیل کے تحت نبوت ابھی ثابت ہی نہیں اور تب تک ابولہب اگر نہ بھی مانتا یا بُرا بھلا بھی کہتا تو کیا قصور تھا کہ نام لے لے کر قرآن میں اسے کوسنے دئے گئے؟اور جنہوں نے محمد کو نبی مان لیا تھا وہ کس بنیاد پر حقیقی مومن قرار پا گئے تھے جبکہ معجزاتی دلیل پیش کرنے والوں کی رُو سے تو یہ لوگ اندھا ایمان لے آئے۔ مختصر یہ کہ نبوت کی دلیل معجزے کو بنانا سوائے عقلی طور پر ناپختگی کے کچھ نہیں۔ عوامی طور پر چونکہ یہ دلیل زیادہ پیش کی جاتی ہے اس لئے اس پر بحث پہلے کرنا مناسب سمجھا۔ مزید پیش کئے جانے والے دلائل پر تجزیہ آگے پیش کروں گا۔
دیگر الہامی کتب کی دلیل
محمد صلعم کی نبوت کے اثبات میں ایک اور بہت بڑی دلیل کے طور پر جو بات مسلمانوں کی جانب سے ہمیشہ پیش کی جاتی رہی ہے ، وہ یہ ہے کہ دیگر الہامی کتب توریت و انجیل میں محمد صلعم کے بطور نبی آنے کا تذکرہ موجود ہے۔یہ بات چونکہ قرآن میں بھی موجود ہے کہ اہل کتاب (عیسائی اور یہودی) اپنی کتب میں محمد صلعم کا تذکرہ پاتے ہیں، اس لئے ہر مسلمان بغیر سوچے سمجھے اس بات کو دلیل سمجھتا ہے۔ جس کسی میں بھی تھوڑی سی سمجھ بوجھ بھی ہو تو وہ یہ بات مانے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ بات دلیل نہیں بلکہ الگ سے ایک اور دعویٰ ہے۔ پہلے تو آپ کو نبوت ثابت کرنا تھی اور اب آپ کو یہ بھی ثابت کرنا ہے کہ دیگر الہامی کتب میں بھی محمد صلعم کے آنے کا تذکرہ موجود ہے۔
میں اس بحث میں جائے بغیر کے مسلمان اس ضمن میں اپنی مانی ہوئی تحریف شدہ کتب توریت و انجیل کے کن مقامات کو تروڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں، ایک اور بات کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں، جس سے یہ ثابت ہو گا کہ محمد صلعم اپنے دعویٰ نبوت کی طرح اس دوسرے دعویٰ میں بھی کبھی کوئی دلیل پیش نہ کر سکے۔
مسلمانوں کی امہات الکتب صحاح ستہ وغیرہ ایسے واقعات سے بھری ہوئی ہیں جن میں یہ موجود ہے کہ محمد صلعم نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ یہودیوں کے کئی احکامات ان کی کتابوں سے نکال کر دکھائے،جن کو یہودی چھپانا چاہ رہے تھے جیسا کہ زنا کی سزا رجم وغیرہ۔ عرض یہ ہے کہ کیا محمد صلعم کی پوری سیرت میں کوئی ایک واقعہ بھی ایسا ملتا ہے کہ محمد صلعم نے اہل کتاب کی کتب کو پیش کرتے ہوئے اپنی نبوت بھی ان کتب سے ثابت کی ہو؟ کوئی ایک واقعہ جس میں محمد صلعم نے اپنے تمام ساتھیوں کو ساتھ ملا کر بھی یہودیوں کو یا عیسائیوں کو توریت یا انجیل کا وہ مقام دکھایا ہو ، جہاں پر محمد صلعم کے آنے کا تذکرہ موجود تھا؟ انتہائی قابل افسوس معاملہ یہ ہے کہ ایسا کبھی بھی نہیں ہوا ۔ پچھلی کتب میں محمد صلعم کے آنے کا تذکرہ ایک دعوے کے طور پر کیا تو گیا مگر کبھی بھی اسے ثابت نہ کیا گیا چہ جائیکہ یہ بات خود محمد صلعم کی اپنی نبوت کی دلیل بن پاتی۔
آج مسلمانوں کے بڑے بڑے علماء توریت و انجیل کے ایسے مقامات کو من چاہے مطلب پہنا کر محمد صلعم کی نبوت پر دلیل بناتے ہین جہاں کسی نہ کسی انداز میں کسی آنے والے نبی کا تذکرہ موجود ہے حالانکہ یہ بات آج معنی ہی نہیں رکھتی کیونکہ خود محمد صلعم نے خود کوئی ایسی بات ثابت نہ کر سکے ۔ کیا محمد صلعم کے ماننے والے اپنے نبی سے بڑھ کر توریت و انجیل کے عالم ہیں کہ وہ باتیں بھی ان کتب سے نکال لاتے ہیں جو خود ان کا نبی بھی نکال سکا نہ کبھی پیش کر سکا۔
اس دلیل کے رد میں دوسرا پہلو یہ ہے کہ مسلمان خود محمد صلعم کے دور سے ہی اس بات کو مانتے آئے ہیں کہ توریت و انجیل تحریف شدہ ہیں اور خود قرآن کے مطابق اہل کتاب اپنی کتب میں اپنی مرضی سے کچھ چیزیں ملا لیتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں توریت و انجیل کا کوئی بھی مقام دلیل بننے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا کیونکہ کیا معلوم کہ جو بات توریت و انجیل سے بطور دلیل پیش کی جا رہی ہو، وہ خود تحریف شدہ ہو۔ یہودی اور عیسائی دونوں مذاہب کے ماننے والے کسی نہ کسی نبی کے آنے کے منتظر ہیں، یہ انتظار اس وقت بھی تھا جب محمد صلعم کا دور تھا اور آج بھی یہ انتظار جاری ہے کہ جب محمد صلعم کو گزرے چودہ سو سال گزر چکے ہیں۔ جب مسلمانوں کے اپنے دعوے کے مطابق یہودی اور عیسائی اپنی کتب میں دنیاوی مفاد کے عوض تحریف کر دیتے تھے تو کیا معلوم کس یہودی اور عیسائی نے اس آنے والے کا تذکرہ بھی محض اپنی قوم کو ‘لارا لپا” لگانے کے لئے ڈالا ہو۔لہٰذا مسلمانوں کے توریت و انجیل پر تحریف شدہ ہونے کے تسلیم شدہ الزامات کے بعد اسی کو محمد صلعم کی نبوت پر دلیل بنانا ، اخلاقی طور پر بھی درست ہی نہیں۔ اگر ایسا ہوتا بھی تو الزامی دلیل کو تحقیقی دلیل بنا کر پیش کرنا سوائے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے کچھ نہیں۔
اس بات کی تردید کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ محمد صلعم نے سب سے پہلے جن لوگوں کو اپنی نبوت کی دعوت دی تھی ، وہ اہل کتاب نہیں تھے بلکہ مشرکین مکہ تھے۔ یہ مشرکین مکہ توریت و انجیل کو نہیں مانتے تھے کیونکہ اگر وہ ان کتب کو مانتے تو عیسائی اور یہودی ہوتے نہ کہ بتوں کو پوجنے والے۔ اگر توریت و انجیل میں محمد صلعم کا تذکرہ ہوتا بھی اور محمد صلعم نے وہ تذکرہ پیش کیا بھی ہوتا تو ان مشرکین مکہ پر اس کا پیش کیا جانا ایسا ہی ہے جیسے مسلمانوں پر ہندوؤں کی مقدس کتابیں دلیل بنانا۔ (اسی طرح آج بھی توریت و انجیل سے محمد صلعم کی نبوت کو ثابت کرنے کی لاحاصل کوشش دیگر مذاہب کے لئے یہی حیثیت رکھتی ہے) اب عرض یہ ہے کہ اہل کتاب میں محمد صلعم کا تذکرہ موجود بھی ہوتا تو ابولہب اور ابوجہل کیوں اس نبوت کو مانتے؟ کیا یہ بات سمجھنےکے لئے کافی نہیں کہ محمد صلعم کا دعویٰ نبوت ہرگز بھی توریت و انجیل کے سہارے ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ اس کو پیش کئے بغیر خود محمد صلعم نے اپنی نبوت پیش بھی کی، نہ ماننے والوں کو کافر بھی قرار دیا اور مسلمان ہو جانے والوں کو ایمان کے اعلیٰ درجات کی خوشخبریاں بھی دیں۔ گویا جس دلیل کو آج مسلمان بڑے زور و شور سے پیش کرتے ہیں، محمد صلعم نے اپنی نبوت کا دعویٰ کرتے ہوئےخود اس دلیل کو ٹکے جتنی حیثیت بھی نہیں دی۔
خاندان اور سیرت و کردار کی دلیل
مسلمانوں نے محمد صلعم کی نبوت کی دلیل کے طور پر ایک اور بات جو بہت کثرت سے بیان کی ہے، وہ محمد صلعم کی خاندانی عظمت اور خود محمد صلعم کا اپنے بلند اخلاق و کردار کا تذکرہ ہے،جو مسلمانوں کے مطابق تمام تر مخالفت کے باوجود مشرکین مکہ کو بھی تسلیم تھا۔
اس دلیل کا تجزیہ کرنے سے پہلے اصولی طور پر ایک بات سمجھنی ضروری ہے، وہ یہ کہ مخالف سے اپنی کسی خوبی کو منوانےکے لئے ضروری ہوتا ہے کہ مخالف نے وہ بات خود کہی اور اور خود تذکرہ بھی کیا ہو، ورنہ اپنی خوبیاں دوسروں کے منہ سے خود ہی بیان کرنا کبھی کوئی ثبوت قرار نہیں پا سکتا۔ اس بات کو ایک مثال سے یوں سمجھیں کہ اگر غیر مسلموں کو ایک قوم سمجھیں اور اس پر مسلمانوں سے یہ کہا جائے کہ سلمان رشدی کہتا ہے کہ “مسلمان بھی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ ابوجہل بڑا نیک، پرہیزگار اور رحم دل آدمی تھا” تو ہر مسلمان اس بات کا انکار کرے گا کیونکہ مسلمانوں کا مئوقف بتانے کا حق صرف مسلمانوں کو ہے، سلمان رشدی جیسے مسلمان مخالف کو نہیں۔ انصاف سے فیصلہ کیجئے کہ پھر مسلمانوں کا اپنے علماء کی کتب کے حوالے سے کافروں کا یہ مئوقف بتانا کہ محمد صلعم نبوت سے پہلے بھی صادق و امین تھے یا بڑے بلند کردار کے مالک تھے، ایک غیر اصولی دلیل نہیں تو کیا ہے؟
جس طرح کسی اسلام مخالف کا مسلمانوں کے حوالے سے اپنی یا کسی اور اسلام مخالف کی تعریف کرنا کوئی وقعت نہیں رکھتا تو بھلا مسلمانوں کا کافروں کے حوالے سے محمد صلعم کی خوبیوں کو پیش کرناکیسے غیر مسلموں کے لئے کسی وقعت کا حامل ہو سکتا ہے؟
اس ضمن میں اصولی طور پر دوسری بات جس پر غور و فکر کیا جانا ضروری ہے ، وہ یہ کہ اگر ایک شخص خاندان ،سیرت و کردار کے حوالے سے بلند ثابت ہو بھی جائے تو کیا یہ اس کے دعویٰ نبوت کے ثبوت کو کافی ہے؟کیا کسی بھی دور میں جو شخص سب سے بلند خاندان اور سب سے بلند سیرت و کردار کا حامل ہو،اس کو نبی مان لیا جانا یا اس کے دعویٰ نبوت کو مان لینا، واقعی درست اور بادلیل ہے؟ اگر ہر دور کے لئے یہ بات درست نہیں تو صرف محمد صلعم کے لئے کس طرح اس بات کو دلیل مان لیا جائے؟
ان اصولی باتوں کو سمجھنے کے بعد آئیے زرا اس دلیل کا تفصیلی جائزہ بھی لیتے ہیں کہ کیا واقعی محمد صلعم خاندان اور سیرت و کردار کے حوالے سے انتہائی بلند اور دوسروں سے امتیازی اخلاق کے حامل واقع ہوئے تھے؟ یا یہ بات نبوت کی دلیل کے طور پر غیر اصولی ہونے کے ساتھ ساتھ مشکوک بھی ہے۔
جب ہم مسلمانوں کی جانب سے لکھی جانے والی قدیم و جدید کتب سیرت کا مطالعہ کرتےہیں تو یہ بات شدت سے ابھر کر سامنے آتی ہے کہ محمد صلعم کے دعویٰ نبوت سے پہلے ، ان کی زندگی کو بڑے مختصر اور سرسری انداز سے بیان کیا گیا ہے۔ محمد صلعم کے دادا، والد و والدہ اور بچپن، لڑکپن، پھر جوانی سے وحی تک کی چالیس سالہ زندگی چند مخصوص واقعات کے گرد ہی بیان کی گئی ہے۔ ان واقعات میں بھی ملے جلے، اچھے بُرےکردار پر مبنی ہر طرح کے واقعات ہیں، جن سے یہ اندازہ لگانا قطعاً مشکل نہیں کہ محمد صلعم اور ان کے آباء و اجداد باقی عرب معاشرے سے کوئی بہت الگ خوبیوں کے حامل نہ تھے بلکہ بہت سے معاملات و واقعات ایسے ضرور ہیں جو نبوت کے دعویدار کسی بھی فرد کے کردار کے انتہائی منافی ہیں۔
محمد صلعم کے دادا کا کردار
محمد صلعم کے دادا عبدالمطلب کی زندگی کے بارے میں جو انتہائی مختصرحالات کتب سیرت میں موجود ہیں، ان میں یہ بھی ہے کہ عبدالمطلب نے محض اپنی اولاد میں دس لڑکے ہونے کی چاہت میں جو کہ ان کا دفاع کر سکیں،یہ نذر مانی تھی کہ ان میں سے ایک لڑکے کو کعبہ کے پاس قربان کر دیں گے۔ (الرحیق المختوم:ص74،المجلس العلمی اعظم گڑھ بھارت بحوالہ سیرت ابن ہشام1/142)
مسلمانوں کے الزام کے مطابق وہ عرب کا جاہلانہ معاشرہ جہاں ایسے ظالم موجود تھے جو بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے ، اسی معاشرے میں بیٹوں کی چاہ میں بیٹے کو بھی قربان کرنے کی ظالمانہ اور شقی القلبی سے بھری نذر ماننے والے بھی کوئی اور نہیں محمد صلعم کے دادا تھے۔ مگر عبدالمطلب کی ایسی ظالمانہ طبیعت کے باوجود وہ اللہ کے ایسے نزدیک تھے کہ ایک سفر میں پانی ختم ہو گیا تو عبدالمطلب پر اللہ نے پانی برسایا اور ان کے مخالفین پر ایک قطرہ تک نہ برسا۔ (الرحیق المختوم، حوالہ ایضاً)
محمد صلعم کے والد کا کردار
قدیم ترین سیرت نگار ابن اسحاق نے یہ واقعہ روایت کیا ہے کہ ایک عورت جوکہ ورقہ بن نوفل کی بہن تھی، نے محمد صلعم کے والد عبداللہ کو یہ پیشکش کی تھی کہ میرے ساتھ ہمبستر ہو جاؤ تو میں تمھیں اتنے اتنے اونٹ دوں گی۔ عبداللہ نے اپنے والد کے ساتھ ہونے کا عذر کیا لیکن بعد میں دوبارہ اس عورت کے پاس آئےاوراس کی ہمبستری مع اونٹوں والی پیشکش کو قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔(سیرت ابن ہشام،مترجم ص149،عبداللہ اکیڈمی لاہور)
یہ ہمبستری والا معاملہ پایہ تکمیل کو پہنچا یا نہیں، اس سے قطع نظر عبداللہ کاصرف اپنے والد کی وجہ سے پہلے ایک غیر عورت کے ساتھ ہمبستری سے انکار اور پھر دوبارہ آکر خود کو اونٹوں کے لئے اس عورت کو پیش کرنا، خوب ان کے کردار پر روشنی ڈالتا ہے۔
محمد صلعم کی ذات، کردارو اخلاق
آپ صلعم کے بچپن و لڑکپن کے متعلق مسلمانوں میں یہ بات مشہور ہے کہ جب بھی جاہلیت کی کسی رسم یا مشرکین کی کسی محفل لہو و لعب کی طرف رغبت ہوتی تو قدرت کی جانب سے اس میں رکاوٹ ڈال دی جاتی۔ چنانچہ ایسے ہی ایک واقعہ میں بیان کیا جاتا ہے کہ مشرکین کے میلے میں جانے سے دو فرشتوں نے آپ کو روک دیا۔(سیرت نبوی از دکتور مہدی رزق اللہ، دارالسلام لاہورص 199 بحوالہ دلائل النبوۃ:35/2)
اسی طرح محمد صلعم ایک دو دفعہ باقاعدہ ارادہ کر کے زمانہ جاہلیت کی قصہ گوئی کی محفل کے لئے نکلے، وہاں پہنچنے سے پہلے ہی ایک شادی کے موقعے پر بجتے باجے کو سننے بیٹھ گئے تو اللہ نے کان ہی بند کر دیا اور پھر سو گئے۔(الرحیق المختوم:ص88 بحوالہ طبری 2/279)
مشہور سیرت نگار صفی الرحمٰن مبارکپوری نے بیان کیا ہے کہ “چنانچہ جب بھی بعض دنیاوی تمتعات کے حصول کے لئےنفس کے جذبات متحرک ہوئے یا بعض ناپسندیدہ رسم و رواج کی پیروی پر طبیعت آمادہ ہوئی تو عنایت ربانی رکاوت بن گئی۔” (الرحیق المختوم: ص88)
یہ واقعات اور باتیں یہ ثابت کرنے کے لئے پیش کئے جاتے ہیں کہ محمد صلعم اللہ کی حفاظت میں رہے لیکن ان واقعات سے الٹا یہ ثابت ہوتا ہے کہ محمد صلعم اپنی خواہشات اور طبیعت میں عام انسانوں کی طرح ہی تھے اور دنیاوی و جاہلانہ لہو ولعب کی طرف آمادہ ہوتے تھے، مگر کسی نہ کسی رکاوٹ کی وجہ سے ایسے جاہلانہ کاموں میں شامل نہ ہو سکے۔ باقی اگر کوئی بھی شخص کوئی برا کام کرنا چاہے اور اس کے کرنے سے پہلے ہی وہ سو جائے، گانے سننا چاہے تو کان بند ہو جائے، جاہلیت کے میلوں میں بھی جانا چاہے تو کوئی آ کر روک دے تو اس میں ایسے شخص کے کردار کی عظمت کہاں سے نکل آئی؟ ایسا تو کسی بھی شخص کو برا کام کرنے سے روک دیا جائے تو ظاہر ہے وہ کر ہی نہ سکے گا۔ اندھا اگر کہے کہ میں نے کبھی ناچ نہیں دیکھا تو اس میں اس کا کیا کمال؟ شیطان بھی آدم کو سجدے سے انکار سے پہلے بیہوش کر دیا جاتا یا فرشتے اس کو انکار کرنے سے روک دیتے تو ضرور اس منطق سے نیک پرہیزگار ثابت ہوتا۔
باقی جب مزید تفصیل میں جائیں تو پتا چلتا ہے کہ اس زبردستی کی حفاظت کے باوجود بھی محمد صلعم ایسے معاملات میں مشغول رہے ، جو کسی بلند کردار کے حامل سے توقع نہیں کی جا سکتی۔
چنانچہ محمد صلعم ایسے لوگوں کے ساتھ بھی گئے جو بتوں کا استلام (تبرک کی خاطر انہیں چھونا) کرتےتھے۔ (سیرت نبوی از دکتور مہدی رزق اللہ، دارالسلام لاہورص 199 بحوالہ دلائل النبوۃ للبیہقی: 2/36)
بنو کنانہ اور قریش کے درمیان ایک جنگ ہوئی ، جس میں فریقین نے باہمی حرمتوں کو پامال کیا (سیرت نبوی از دکتور مہدی رزق اللہ، دارالسلام لاہورص 200بحوالہ فتح الباری :3/24) اور جاہلانہ عصبیت کی خاطر خون بہایا گیا۔ اس جنگ کا نام حرب فجار اسی لئے پڑا تھا کہ اس جنگ میں بعض حرام کاموں کو بھی حلال کر لیا گیا تھا۔(سیرت ابن ہشام،مترجم ص174،عبداللہ اکیڈمی لاہور)
یہ ایک انتہائی طویل جنگ تھی اور محمد صلعم نے بھی اس عصبیت پر مبنی حرمتوں کو پامال کرتی جنگ میں کئی دفعہ قریش کی جانب سے اپنے چچاؤں کے ساتھ مل کرحصہ لیا تھااور باقاعدہ دشمنوں کی طرف سے آنے والے تیر اٹھا اٹھا کر اپنے چچاؤں کو دیتے۔ ابن اسحاق کے مطابق محمد صلعم اس وقت بیس سال کے تھے۔ (سیرت ابن ہشام،مترجم ص174،عبداللہ اکیڈمی لاہور)
خدیجہ کے ساتھ شادی کے موقع پر محمد صلعم کا کردار مزید یوں سامنے آتا ہے کہ خدیجہ کے ساتھ باقاعدہ منصوبہ بنا کر نکاح کا پیغام خدیجہ کے والد تک اس وقت پہنچایا گیا جب وہ نشے کی حالت میں ہو کیونکہ باہوش و حواس وہ کبھی خدیجہ کا نکاح محمد صلعم سے نہ کرتا۔ (سیرت نبوی از دکتور مہدی رزق اللہ، دارالسلام لاہورص 208 بحوالہ کشف لاستارللبزار:3/ 237، ومجمع الزوائد:9/222۔ روایت کم از کم حسن درجے کی ہے۔)
پھر باقاعدہ اس سازشی منصوبے پر عمل کیا گیا اور خدیجہ کے والد نے نشے کی حالت میں ہی اپنی بیٹی خدیجہ کا نکاح محمد صلعم کے ساتھ کیا۔ (سیرت نبوی از دکتور مہدی رزق اللہ، دارالسلام لاہورص 209بحوالہ مجمع الزوائد:9/220، ہیثمی نے یہ روایت احمد اور طبرانی کے حوالے سے نقل کرنے کے بعد لکھا:”احمد کے راوی صحیح کے راوی ہیں۔)
اس سارے واقعے سے خدیجہ اور محمد کے اعلیٰ اخلاقی اقدار کا زبردست نمونہ سامنے آتا ہے۔
ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ محمد صلعم کی نفسیاتی و ذہنی حالت کیسی تھی؟ یہ ایک انتہائی اہم بات ہے کیونکہ ایک شخص اخلاقی لحاظ سے چاہے مضبوط بھی ہو لیکن نفسیاتی و ذہنی طور پر اس کی حالت صحیح نہ ہو تو اس کی بات پر یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ ایسے شخص کی باتوں کو وزن دینا خوامخواہ کی زیادتی ہے۔
حیرت انگیز امر یہ ہے کہ محمد صلعم پر اس دور کے مطابق بچپن سے ہی یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ ان پر کوئی شیطانی اثر ہے۔ سب سے پہلے جس نے یہ شبہ ظاہر کیا وہ محمد صلعم کی دائی حلیمہ اور ان کے شوہر تھے۔ چنانچہ حلیمہ نے تو باقاعدہ آپ کی والدہ آمنہ کے سامنے اس بات کا اقرار کیا کہ محمد پر کسی شیطانی اثر کا خوف ہے۔۔(سیرت ابن ہشام، مترجم ص154، عبداللہ اکیڈمی لاہور)
اگرچہ آپ صلعم کی والدہ نے شیطان کے اثر والی بات کو تسلیم نہ کیا لیکن اس سے اتنا ضرور پتا چلتا ہے کہ بچپن سے ہی کچھ لوگ ایسے خدشات کا شکار ضرور تھےاور بعد میں آنے والے واقعات حلیمہ کی تائید کرتے نظر آتے ہیں۔ مزیدار بات یہ ہے کہ خود محمد صلعم نے گھنٹی کی آواز کو شیطان کا باجا قرار دے رکھا ہے۔(صحیح مسلم، کتاب اللباس، باب کراہۃ الکلب و الجرس فی السفر، حدیث:5548) اور خود محمد صلعم کے ہی مطابق ان پر جو وحی آتی وہ گھنٹی بجنے کی طرح بھی ہوتی۔ (صحیح بخاری، کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکہ،حدیث 3215)
محمد صلعم کی اپنی ہی بات سے صاف پتا چلتا ہے کہ حلیمہ کی بات ہی درست تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ جسے شیطانی اثر سمجھا جاتا ہے وہ اصل میں سارا نفسیاتی خلل ہے۔ چنانچہ مشرکین مکہ محمد صلعم پر اس لحاظ سے اعتراض کیا کرتے تھے ، جس کا تذکرہ خود قرآن نے کیا ہے کہ “اور وہ کہتے ہیں کہ یہ شخص تو مجنون ہے۔” (القلم:51)
کافروں کی یہ بات محض اسلام دشمنی کا نتیجہ نہ تھی جیسا کہ مسلمان باور کرواتے ہیں کیونکہ محمد صلعم خود اپنے متعلق دعویٰ نبوت سے بھی پہلے کچھ ایسے ہی خدشات کا شکار تھے۔چنانچہ نبوت ملنے سے پہلے خدیجہ سے اس بات کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:مجھے کوئی روشنی سی نظر آتی ہے اور میں ایک آواز بھی سنتا ہوں، مجھے خیال گزرتا ہے کہ کہیں یہ جنون تو نہیں۔“(سیرت نبوی از دکتور مہدی رزق اللہ، دارالسلام لاہورص 226بحوالہ الفتح الربانی:20/207، روایت کی سند حسن درجے کی ہے۔)
ایک ایسا شخص جسے بچپن سے ہی آسیب زدہ سمجھا گیا ہو، خود اسے کبھی روشنیاں نظر آئیں تو کبھی نا معلوم آوازیں اور اس کا اپنا خیال یہ ہو کہ اسے جنون لاحق ہے، ایسے کی ذہنی و نفسیاتی حالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ ان نامعلوم آوازوں اور خوفناک شکلوں سے گھبرا کر محمد صلعم کی حالت یہ ہو جاتی کہ جاتے جاتے زمین پر گر پڑتے۔(صحیح بخاری، کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکہ،حدیث 3238)
پہلی وحی کا جو قصہ بیان کیا جاتا ہے اس سے بھی واضح ہے کہ محمد صلعم اسے اپنی ہی کسی شدید ذہنی و نفسیاتی کشمکش کا نتیجہ سمجھ رہے تھے، چنانچہ بعد میں جسے پہلی وحی قرار دیا گیا، اس کے بعد حالت یہ تھی کہ “آپ کی گردن اور کندھے کے درمیان کا گوشت حرکت کر رہا تھا۔” اور “جب خوف و ہراس کی یہ کیفیت دور ہوئی تو فرمایا:”خدیجہ میرا کیا حال ہو گیا ہے؟“
اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ محمد صلعم اسے اپنے ہی کسی حال کا نتیجہ سمجھتے تھےاور اس حد تک پریشان تھے کہ صاف کہا: “مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے۔“
(صحیح بخاری، کتاب التعبیر، باب اول ما بدی بہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من الوحی،حدیث 6982)
افسوس کہ یہ روشنیاں ، خوفناک شکلیں نظر آنا اور اس شدیدذہنی و نفسیاتی بیماری کے غلبے سے جاتے جاتے گر پڑنے کو خدیجہ کے کہنے سننے میں آ کر بیماری سمجھنے کی بجائے فرشتہ سمجھ لیا جو ان کے پاس اللہ کا پیغام لے کر آ رہا تھا۔ اب بھلا بتائیے، ایسے میں اگر کفار و مشرکین محمد صلعم کو جنون زدہ قرار دیتے تھے تو کیا غلط کہتے تھے؟ اس سے بڑھ کر ظلم کیا ہو گا کہ جس شخص کو خود اپنی وحی کا یقین نہ تھا اور وہ اسے اپنے جنون کا کرشمہ سمجھ رہا تھا بعد میں دوسروں سے یہ مطالبہ کرتا پھرے کہ اسے بلا دلیل صرف اس کے دعویٰ پر نبی مان لیا جائے۔
یہاں پر میں ایک اور اہم نقطے کی جانب اشارہ کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ اس پہلی وحی کے قصے کے بعد خدیجہ نے ہی آپ کا ذہن اس طرف مبذول کروایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کوئی ذہنی عارضہ نہیں بلکہ آپ شاید نبی بن رہے ہیں، حالانکہ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اگر اس قصے کو پہلی وحی مان بھی لیا جائےتو اس میں دور دور تک محمد صلعم کو نبی بنائے جانے کا تذکرہ ہی موجود نہیں۔ شروع کی چند آیات چھوڑئے، ساری کی ساری سورۃ العلق پڑھ جائیے، آپ کو یہ نہیں ملے گا کہ محمد صلعم کو نبی بنایا جا رہا ہے، مگر خدیجہ سمیت تمام کی تمام امت مسلمہ اس پہلی وحی کو ہی بنیاد بنا کر محمد صلعم کو نبی مانتی آ رہی ہے۔
ممکن ہے کہ کسی کے ذہن میں یہ بات ہو کہ اگرفرشتہ آ یا ہے اور محمد صلعم سے اس نے بات بھی کی تو ظاہر ہے کہ محمد صلعم نبی ہیں تو عرض ہے کہ قرآن کی رُو سےبھی یہ بات باطل ہے کیونکہ فرشتہ تو عیسیٰ کی والدہ (مریم علیہا السلام) پر بھی آیا تھا اور اس نے مریم (علیہا السلام) سے بات بھی کی تھی۔(مریم:17-21) کیا مریم بھی نبی تھی؟
اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ محض اپنے اجتہاد سے خدیجہ نے محمد صلعم کو نبوت پر فائز کر دیا تھا اور امت مسلمہ اسی اجتہاد کی پیروی کرتے کرتے آج محمد صلعم کو نبی مان رہی ہے۔ورنہ محمد صلعم کی نبوت صرف ایک ذہنی و نفسیاتی مسائل کے شکار شخص کے خالی دعووں کے کچھ نہیں تھی۔
یہی وجہ ہے کہ محمد صلعم نے مکہ والوں پر جب اپنی نبوت کو پیش کیا تو سوائے دعووں کے آپ کو کچھ نہ ملے گا۔” میں نبی ہوں کیونکہ میرے پر وحی آتی ہے اور میرے پر وحی آتی ہے کیونکہ میں نبی ہوں” کا ایسا فلسفہ ہے کہ آج بھی محمد صلعم کی نبوت ماننے والوں کے پاس خود محمد صلعم کی اپنی ذات کے کوئی دلیل نہیں۔ اس لئے اس ذات اقدس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے کہ ماننے والوں کے سامنے وہ حقیقی حالات بھی آ سکیں کہ جن کی روشنی میں کسی بھی انصاف پسند کے لئے فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ ایسی ذات شریفہ کا کوئی بھی دعویٰ کیا وزن رکھ سکتا ہے؟

     

, , , , ,

تحاریر بذریعہ ای میل

جراتِ تحقیق کی تازہ ترین اور مکمل تحریریں بذریعہ ای میل حاصل کرنے کے لیے ذیل میں اپنا ای میل ایڈریس لکھ کر ارسال کریں کا بٹن دبائیں۔

5 تبصرے تا “دلائلِ نبوت عقل اور نقل کی روشنی میں”

  1. Confused نے کہا:

    انسان دوست صاحب ،
    ابو لہب کے قصّے سے یاد آیا : کیا جو خدا ابو لہب کو کوس رہا ہے، یہ وہی تو نہیں جو ‘جس چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے ‘ (٣٦: ٨٢)-

    تو کیا ابو لہب کے ہاتھ اس سورہ کے آنے سے پہلے ٹوٹ چکے تھے؟ اگر ہاں تو اس سورت میں بد دعا کا لہجہ کیوں ہے ، عبرت آمیزی کا کیوں نہیں؟ اگر نہیں ، تو ہمارے الله میاں اپنا ہاتھ اس دشمن خدا پر اتنا ہولا کیوں رکھ رہے ہیں ؟

    جواب دیں

  2. ابو الحکم نے کہا:

    بہت عمدہ تحریر اور دلچسپ و سلیس اندازِ بیاں۔ امید ہے نوازشیں جاری رکھیں گے۔

    جواب دیں

  3. نابغہ روزگار نے کہا:

    Why I still do not see correct font on this site though I have installed most urdu fonts. which font do you use here?

    جواب دیں

  4. کامران خالد نے کہا:

    یہ ساری بحث محض ایک انتشاری سوچ کاخلاصہ ہے اور کچھ نہیں

    جواب دیں

تبصرہ کریں