محسن انسانیت

April 2, 2014

مصنف: - زمرہ: تنقید

5057

پچھلے دو سو سالوں میں دنیا نے اتنے حیران کن انداز میں ترقی کی ہے کہ یقین نہیں ہوتا. سیاسی نظریات کی پیچیدگی، فن و ادب کی ترقی، سائنسی ایجادات، تجارت اور سفارتی تعلقات وغیرہ نے تمام انسانیت کو ایک لڑی میں پرو دیا ہے اور عالمی حالات میں آئے دن اتنی تبدیلیاں ہو رہی ہیں کے پوری دنیا کو “قوموں کا خاندان” تصور کیا جاتا ہے.

Wendell Willkie کی “واحد دنیا” “One World” کا خواب آج حقیقت کا روپ دھارتا جا رہا ہے. جدید ترین ذرائع مواصلات وجود میں آ گئے ہیں. فاصلے یوں سمٹ گئے ہیں کہ کوئی قطب جنوبی سے پکارے تو قطب شمالی تک سنا جائے. زمین کے کسی کونے میں پیش آنے والا واقعہ لمحوں میں ساری دنیا میں پھیل جاتا ہے. انسان نے اپنی عظمت کے نشان چاند کی تسخیر کے بعد سیاروں پر بھی چھوڑنے شروع کر دیے ہیں اور ان تمام چیزوں کے اثرات بہرحال پوری انسانیت پر مرتب ہو رہے ہیں.

سماجی شعور اور معاشرتی و اخلاقی قدریں تیزی سے تبدیل ہوتی جا رہی ہیں. لیکن ان بدلتی ہوئی قدروں میں کچھ گروہ آج بھی صدیوں پہلے کے سماجی شعور اور قدروں کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں. انسان چاند پر قدم رکھ چکا ہے لیکن مذہبی پنڈتوں کیلیے آج بھی رویت ہلال کا جھگڑا سب سے اہم ہے. آج بھی راسخ العقیدہ لوگوں کی اجارہ داری ہے معاشرہ و سماج پر. اکثر معاشرے مذہبی جنونیوں اور رجعت پسندوں کا گڑھ ہیں، جن کے پاس وحدت انسانیت کو تقسیم در تقسیم کرنے کا ایک نایاب فارمولا ہے. یہ رجعت پسند معاشرے کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے بجاۓ تشدد، جنونیت اور توہم پرستی کی آبیاری کر رہے ہیں. امن و سلامتی کے عقائد کے نام پر انسانیت کا استحصال کرنے میں جتے ہوئے ہیں. امن اور محبت کے نام پر، انسانیت کے نام پر نفرتوں کی فصلیں بوئے جا رہے ہیں، کاٹے جا رہے ہیں. رجعت پسندوں کا، مذہبی جنونیوں کا ہر طبقہ انسانیت کا نعرہ آفرین بلند کر کے اٹھتا ہے اور اپنے ہی جیسے انسانوں کے خلاف صف آراء ہو جاتا ہے. اور رجعت پسندی کے دوسرے مکتبوں کو دبانے کیلیے ہر ممکن طریقہ کار اپناتا ہے. کمیونل ازم، سیکٹیرین ازم کے تناظر میں یہ رجعت پسند معاشرہ کو انسانیت کے نعرہ ہائے تحسین تلے کھوکھلا کرنے میں جتے ہوئے ہیں. یہ جدید دنیا کے پس منظر نامے میں خود کو ایڈجسٹ کرنے کے بجائے اس کی مخالفت کرنے میں جتے ہوئے ہیں. یہ لوگ ماضی سے رشتہ جوڑے ہوئے ہیں اور اسی ماضی میں جی رہے ہیں. ان کی نرگسیت نے انہیں جبر و تشدد اور تنگ نظری سے اپنا دفاع کرنے والا بنا دیا ہے. یہ وہ لوگ ہیں جن کو اب تک یہ پڑی ہے کے کون گستاخ رسول ہے کون توہین رسالت کا مرتکب ہے. کون کافر ہے کون مشرک ہے. یہ دائروں میں گھوم رہے ہیں اور دائرے سے باہر نکلنا بھی گوارا نہیں. دائرے سے نکلیں تو معلوم ہو دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے. یہ لوگ ماضی کے مزاروں میں زندہ ہیں.

شاید علامہ اقبال نے انہی لوگوں کیلیے کہا تھا:

“اے صور اسرافیل بپا شور حشر کر
صدیوں سے ہم آغوش جمود فنا ہیں ہم”

مزید کچھ کہنے سے پہلے قارئین سے چند سوالات پوچھنا چاہوں گا. کیا آپ کے نزدیک ایک ایسا دین امن و سلامتی کا علمبردار ہو سکتا ہے جس کے سینکڑوں فرقے ہوں، اور ہر فرقہ ایک دوسرے سے برسرپیکار ہو، اور اپنے علاوہ دوسرے کو کافر، زندیق، قابل گردن زنی ٹھہرا رہا ہو؟ کیا آپ کسی ایسے مذہب کو امن و سلامتی کی ضمانت سمجھتے ہیں جس میں فرقہ واریت اتنی مضبوط ہو چکی ہو کہ جس کے خاتمے کا سوچنا بھی عبث ہے، اور جن میں سے ہر ایک اپنے مخالف ہر فرقے کے خلاف ہر ممکن ہتھکنڈہ اور انسانیت سوز طریقہ کار اپناتا ہو، محض اسے نیچا دکھانے اور باطل ثابت کرنے کیلیے؟

کیا فرقہ واریت میں لوگوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکا کر فرقہ وارانہ نفرت، بغض، عناد، اور فساد وغیرہ پھیلانے سے کسی معاشرے میں امن و امان قائم ہو سکتا ہے؟

معروف مورخ ڈاکٹر مبارک علی اپنی کتاب میں کہتے ہیں:

“فرقہ واریت چاہے کمیونل ازم کی شکل میں ہو یا سیکٹیرین ازم کے روپ میں، یہ معاشرے کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہے. قرقہ وارانہ جذبات ایک دوسرے کی مخالفت میں اس حد تک چلے جاتے ہیں کے دوسرے سے نفرت، تعصب اور دشمنی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں. اور فرد ایک انسان کے بجائے، انہیں شیطان کی شکل میں نظر آتا ہے کہ جسے مٹانا، ختم کرنا، کمزور کرنا یا دبانا ان کے عقیدہ کا ایک حصہ بن جاتا ہے. جب نفرت کے جذبات عدم رواداری، قوت برداشت، رحمدلی اور دلسوزی کے جذبات کو ختم کر دیتے ہیں اور معاشرہ بربریت اور وحشت کا شکار ہو جاتا ہے. ایک ایسے معاشرے میں ادب، آرٹ، موسیقی اور دوسرے فنون لطیفہ اپنی لطافت
کھو دیتے ہیں. نفرت کے ماحول میں کمزور فرقوں اور مذہبی اقلیتوں کے تعلیم یافتہ اور ماہرین علوم ہجرت کر کے دوسرے ملکوں میں چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے معاشرہ اور زیادہ پسماندہ ہو جاتا ہے. فسادات کی وجہ سے معاشرہ پر نفسیاتی اثرات کے ساتھ ساتھ مالی نقصانات بھی مرتب ہوتے ہیں. نفسیاتی طور پر جب افراد قتل و غارت گری کرتے ہیں تو ان کا انسانیت سے ایمان اٹھ جاتا ہے اور دنیا کے بارے میں ان میں منفی خیالات ابھرتے ہیں کہ جن میں مایوسی نا امیدی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ہے. جو افراد اور خاندان فسادات سے متاثر ہوتے ہیں ان کی دنیا اجڑ جاتی ہے. قتل ہونے والوں کا کوئی نعم البدل نہیں.”

اپنے گرد و پیش نگاہ دوڑائیے، غور و فکر کیجیے، دیکھئیے کس قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں. وہ کیا کر رہے ہیں، کیوں کر رہے ہیں، کس لیے کر رہے ہیں، کیا انسانیت صرف اس فرقے تک محدود ہے جس سے چند انسانوں کا تعلق ہے؟ کیا آپ بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں کہ انسانیت صرف ایک فرقے تک محدود ہے اور باقی فرقے جائیں بھاڑ میں، اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے تو ہیں ہی جہنمی. دیکھیے ایک انسان دوست کیا کہہ رہے ہیں:

“انسانیت ایک خاندان ہے، نہ اس میں کوئی امتیاز ہے نہ تفریق. جو تفریق پیدا کرتے ہیں وہ اس مقدس خاندان میں شامل نہیں.” (جون ایلیا)

کیا کوئی انسانیت میں تفریق و امتیاز کرنے والوں کو انسان دوست کہہ سکتا ہے؟ اور ان تفریق پیدا کرنے والوں کا جس دین سے تعلق ہے، اس دین کو امن و سلامتی کا دین کہا جا سکتا ہے؟ کیا اس دین کے دینے والے کو محسن انسانیت کہا جا سکتا ہے؟ کیا آپ ایسے شخص کو محسن انسانیت کہہ سکنے کی اخلاقی جرآت رکھتے ہیں جس کی شریعت کے نام پر آئے روز نت نئے فتنے اٹھتے ہوں؟ جس شریعت کو لاگو کرنے کیلیے ہر دور میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا گیا ہو، جس شریعت کے نام پر خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی ہو، اور اب بھی یہ سلسلہ متواتر جاری ہے. کیا آپ اب بھی اس شریعت کے دینے والے کو محسن انسانیت اور رحمت العالمین کہیں گے؟ بہت بہتر. گویا آپ انسانیت پر عقیدے کو فوقیت دے رہے ہیں.

بہت چند باتیں سوالوں کی مد میں اور ہیں. گر قبول افتد زہے عز و شرف. کیا آپ کسی ایسے شخص کو انسان دوست مان سکتے ہیں جو آپ کے گھر میں بغیر اجازت گھس آئے. اور آپ کے سامنے مطالبات رکھے کہ یا تو میری ہر بات بلا چوں چرا مان لو، یا پھر مجھے ہر ماہ کچھ نہ کچھ غنڈہ ٹیکس دو، یا پھر میری جارحیت کا سامنا کرنے کیلیے تیار ہو جاؤ؟ کیا آپ کسی ایسے شخص کو اخلاقی طور پرانتہائی بلند کردار کا مالک خیال کر سکتے ہیں جس نے مال غنیمت میں آنے والی عورتوں سے زنا کیا ہو، ان کے خاندان کو جنگ میں مار کر اسی رات ان سے ہم بستری کی ہو، جس نے یہودیوں کے کے قبائل کو صفحہ ہستی سے مٹادیا ہو، جس نے اپنی ہجو کہنے والوں کو چن چن کر قتل کرایا ہو، کیا آپ ایسی ہستی کو اخلاقی طور پر بلند کردار کا حامل سمجھیں گے اور اس کی عزت و تکریم کرنے میں کوئی کسر نہ رکھ چھوڑیں گے. اور اس متنازعہ ہستی کو محسن انسانیت، رحمت العالمین جیسے القاب سے بھی نوازیں گے؟ کیا آپ اس ہستی کو محسن انسانیت کہیں گے جس کے نام پر تاریخ میں سب سے زیادہ قتال کیے گئے ہوں اور اب بھی کیے جاتے ہیں. جو اجتماع ضدین ہو، جس کے نام پر انسانیت نواز افعال بھی ہیں تو انسانیت سوز افعال بھی. کیا آپ بھی ایسی متنازعہ ہستی کو محسن انسانیت اور رحمت العالمیں کہیں گے؟ اس کے برعکس تاریخ میں کئی ایسی ہستیاں پائی جاتی ہیں جن کی تعلیمات اور جن کا اخلاق اس ہستی سے نہ صرف بہت اعلی تھے. بلکہ ان کی ہستی اس قدر متنازعہ بھی نہیں تھی. مانی، مہاویر اور گوتم کی تعلیمات میں انسان تو کجا کسی جانور کو بھی تکلیف پہنچانے کی ممانعت تھی. اور اسی ایک وجہ سے مانی کی مانویت زیادہ نہ پھیل سکی. کیونکہ اسے ایسے اصحاب میسر نہ تھے جو بات بے بات تلوار نکال لیتے. چونکہ اس کا مذہب عدم تشدد کا قائل تھا، اور کلی طور پر انسانیت پر مبنی تھا. اس لحاظ سے اس کے اصحاب بھی انسان تھے، خونخوار نہ تھے.

مانی کا کہنا تھا کہ ظلمت سے کنارہ کشی اختیار کی جائے. اس نے ہر تکلیف پہنچانے والے کاموں سے منع کیا. لیکن مانی کے اصحاب انسان دوست تھے، انسان دشمن نہ تھے. جو اپنا مذہب دوسروں پر مسلط کرنے کیلیے شرائط رکھتے، یا پھر جنگ و جدل کرتے. چنانچہ اس انسان دوست مصلح کو اس وقت کی مملکت فارس کے شہنشاہ بہرام اول نے زندہ گرفتار کر کے اس کی زندہ کھال کھنچوالی. اس طرح یہ مسیحا اور پیغمبری کا دعوے دار اذیت ناک موت سے دوچار ہو کر فورا ہلاک ہو گیا. اس کی کھال میں بھس بھر کر شہر “ابدی شاپور” کے صدر دروازے پر لٹکا دی گئی.

لیکن مانی کے مقابلے میں گوتم کی تعلیمات کو برصغیر کے عوام نے ہاتھوں ہاتھ لیا. اس کی تعلیمات پھیلنے کا سب سے بڑا سبب اس کا سادہ ہونا تھا. اس لیے عوام اس کی جانب کھینچے چلے آئے. اس لیے کھینچے چلے آئے کیوں کہ وہ موجودہ مذاہب سے بیزار تھے. جن کے ٹھیکیداروں کی اجارہ داری دین و دنیا کے ہر معاملے میں قائم تھی. چنانچہ گوتم کی سادہ تعلیمات اور انسانی برابری کے اصول کو سب کے دل نے لبھایا اور لوگ جوق در جوق اس کے ہم خیال ہوتے گئے.

پھر گوتم کی تعلیمات کو اشوک نے اپنایا اور دنیا کا سب سے پہلا مذہبی رواداری قائم کرنے والا مطلق العنان شہنشاہ بنا. اسی وجہ سے اشوک کو اشوک اعظم کہا جاتا ہے. گوتم کی سادہ اور انسان دوست تعلیمات نے اشوک کی کایا پلٹ دی، جس نے کالنگا کی جنگ کے بعد جنگ و جدل سے منہ پھیر لیا اور انسانی مساوات پر مبنی ایسے معاشرے کی تشکیل کی جس کی نظیر اس سے قبل تاریخ میں ڈھونڈے نہیں ملتی. وہ بھی اس وقت جب فتوحات کا دور تھا. اور تلوار کے زور پر اپنا خدا اپنا مذہب دنیا پر مسلط کیا جاتا تھا. لیکن اشوک نے اس روایت کے برعکس بدھ کی تعلیمات کا پرچار ان اصولوں پر کرایا جو اسلامی صوفیاؤں کے پیش رو ہیں. بدھ بھکشوؤں نے اپنے اخلاق اور پیار سے گوتم کی تعلیمات کو برصغیر کے گوشے گوشے میں پہنچایا. کیا انسانیت کے حقیقی معنوں میں علمبردار گوتم اور اشوک کو محسن انسانیت کہنا ناجائز اور “حرام” ہے؟

اس وقت عرب کی حالت زار کیا تھی جب گوتم انسانیت کی تعلیم عام کر رہا تھا؟ گوتم اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں کیا فرق ہے؟ جن وقتوں میں بدو خانہ کعبہ کا برہنہ طواف کیا کرتے تھے، بتوں کو پوجتے تھے، رفع حاجت کے بعد خود کو نجاست سے پاک بھی نہ کرتے تھے. جب ان بدؤوں کو یہ تک نہ پتہ تھا کہ انسانیت کا احترام کیسے، کیونکر اور کس لیے کیا جائے ان وقتوں میں برصغیر میں، اس خطے اور اس دھرتی کے مہان سپوت مہاتما بدھ نے ذات پات اور انسانی تقسیم کا آریائی مذہبی فارمولا مکمل طور پر رد کر کے یہ اعلان کیا کہ سب انسان برابر ہیں، کوئی نیچ ناپاک اور کسی دوسرے انسان سے کم تر نہیں، انسان کے اچھے برے ہونے کا فیصلہ صرف اس کے اعمال سے کیا جا سکتا ہے.

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غار حرا سے نبوت کا پروانہ لے کر نکلے اور انسانوں کو “روحانی و سیاسی غلام” بنانے میں جت گئے. مہاتما نے نروان حاصل کیا اور “مذہبی اداروں” اور “خداؤں کے تصور” کو یکسر رد کر کے اعلان کیا کہ خدا کی عبادت کیلیے جو وقت درکار ہوتا ہے وہ انسانیت کی خدمت کیلیے وقف کیا جائے. ہند دھرتی کے اس عظیم سپوت نے کسی بھی مصلح کے برعکس بنی نوع انسان کو روحانی غلام بنانے کے بجائے روحانی آزادی بخشی. راجہ سدھارتھ کے بیٹے، سلطنت کے ولی عہد گوتم نے جنگیں نہیں لڑیں، لوٹ مار نہیں کی، مال غنیمت اکھٹا نہیں کیا. نہ ہی جنگی قیدیوں میں سے خوبصورت خواتین کو اپنے لیے پسند کر کے الگ رکھنے کو کہا، بدھ نے کسی کی آبروریزی نہیں کی، بدھ نے لونڈیاں رکھ کر ناجائز اولاد پیدا نہیں کی. گوتم نے کسی رسول کی طرح مذہب کی آڑ میں اپنی نفسانی خواہشات پوری نہیں کی بلکہ اس کی شدید مذمت کی. گوتم نے اپنی تعلیمات کا خراج نہیں مانگا انسانیت سے، اس کے برعکس اس نے سلطنت ٹھکرا دی. دھرتی کے اس مہان پرش نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گیارہ سو سال قبل بنی نوع انسان کو انسانیت کا درس بغیر کسی لالچ کے دیا. محسن انسانیت اور رحمت العالمین جیسے القاب بھی گوتم جیسے اخلاقی مفکرین کو ہی زیب دیتے ہیں.

جب بدؤوں کیلیے ہر شے خدا تھی. فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے. اجنہ کو الوہیت کا درجہ دیتے تھے. بتوں کو مظہر خدا مان کر ان کی پرستش کرتے تھے. سینکڑوں بتوں کی پوجا ہوتی تھی. بتوں کے نام پر سانڈ چھوڑے جاتے. ان پر انسانوں کی قربانیاں ہوتی تھیں. بتوں کے نام کے تیروں سے قرعہ اندازی ہوتی تھی. ہر نچلا طبقہ اپنے سے بلند طبقے کا غلام تھا. بلکہ اس سے بھی کچھ پست تھا. جب ان کی اخلاقی حالت انتہائی شرمناک تھی، ایک ایک عورت کئی کئی شوہر کر سکتی تھی. جب بدو ماں بہن کو ایک سمجھتے تھے. بدمستی میں ہر گناہ ثواب بن جاتا تھا. محرمات تک سے بھی تمتع کار ثواب بن جاتا تھا. عصمت کی کوئی قیمت نہ تھی. بڑے بڑے امراء کی عورتیں جامہ عصمت اتار پھینکتی تھیں. بعض طبقے لڑکیاں قتل کر ڈالتے تھے. ان کی تعلیم نے شرافت انسانی کو بالکل مسخ کر دیا تھا. مذہبی تعلیمات بد اخلاقیوں سے محفوظ نہ تھیں بلکہ اخلاقی پستی ان کا معلم تھی. کعبہ کے متولی حجاج کو ستاتے، طرح طرح کے مظالم کرتے، کعبہ کا چڑھاوا کھا جاتے، ایک دوسرے کی ہجو گوئی میں مصروف رہتے. معمولی زیور کی طمع میں چھوٹے بچوں کو قتل کر ڈالتے. لالچ ان کی فطرت میں شامل تھی. ان کی ذلت کی وجہ سے ان کی کوئی سیاسی اہمیت نہ تھی.

جب عرب گھور اندھیروں میں غرق تھا. تب دنیا کے دیگر خطوں کی تہذیبوں کے افق پر کئی نام ستاروں کی طرح چمک رہے تھے. اس وقت برصغیر میں چائنا میں کئی اخلاقی مفکرین آئے. جنہوں نے اس وقت انسانیت کا درس اپنی عوام کو دیا اور “روحانی غلامی” سے نجات کی تحاریک چلائیں، جب بدو جہالت در جہالت کے مزے لوٹ رہے تھے. انہی روشن ستاروں میں سے ایک برہاس پتی تھے. جن کا کہنا تھا کہ:

“سورگ ہے نہ انتم نجات، روح ہے نہ کوئی ابدی دنیا، رسومات نہ ذات پات، خاک میں خاک ہو کر یہ جسم دوبارہ کیسے جنم لے سکتا ہے؟ وہ بھوت ہی ہوگا. موت ترکے میں کچھ نہیں چھوڑتی سوائے مہنگی رسم و رواج کے جو پروہت کا وسیلہ حیات ہیں.” (۸۰۰ قبل از مسیح)

انہی تابندہ ستاروں میں سے ایک مہاویر تھا. جس نے انسان کو انسان ہونے کا احساس دلایا. جس نے مذہب اور خداؤں سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی تحریک چلائی. اس کا کہنا تھا:

“صرف کائنات ابدی ہے، ہمیشہ سے تھی اور ہمیشہ رہے گی، باقی کچھ نہیں. انقلابات، لامتناہی تغیرات، جبلی قوتوں کے باعث وقوع پذیر ہوتے ہیں. ان کے ظہور میں الوہی مداخلت کا کوئی حصہ نہیں.” (۵۵۰ قبل از مسیح)

انہی وقتوں میں جب عرب جہالتوں کا گڑھ تھا، چائنا میں تاؤ اور کنفیوشیس اخلاقیات اور رکھ رکھاؤ کا درس دے رہے تھے. انسانوں سے محبت سے پیش آنے، امن و چین سے زندگی بسر کرنے اور آپس میں بھائی چارہ قائم کرنے کا درس دے رہے تھے. کنفیوشیس کی تعلیمات کا اثر چائنا کی ثقافت اور تہذیب میں آج تک نمایاں ہے. اس کی تعلیم کا مرکزی اصول یہ تھا کہ ہر بات اور ہر کام میں میانہ روی کا سنہرا راستہ اختیار کرنا چاہئیے. اور دوسروں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنا چاہیے. اور اجنبیوں سے نرم برتاؤ اور بہترین سلوک روا رکھنا چاہیے.انہی روشن ستاروں میں سے ایک چارواکاس تھا. جو عقلیت پرستی کی داغ بیل ڈالنے میں پیش پیش تھے. جو انسان کو انسانیت کی راہ پر گامزن کرنے کی قابل صد تحسین جدوجہد میں سرگرداں تھے. دیکھیے کیا فرماتے ہیں:

“روح ایک سراب ہے، واہمہ ہے، ایک وسوسہ ہے. آتما کا تصور ہی محض ایک دھوکہ ہے. تاریخ کے مشاہدے سے ہمیں خداؤں، دیوتاؤں یا مافوق الفطرت قوتوں کی کوئی وضاحت نہیں ملتی. یہ سارا مظہر عین فطری ہے. اصل حقیقت تو مادہ ہے. جسم پٹھوں کا مجموعہ ہے اور دماغ سوچ کا مادہ ہے. کس نے جسم سے روح کو جدا ہوتے دیکھا ہے؟ ابدیت کی کوئی حقیقت نہیں. تناسخ یا آواگون transmigration of soul ممکن نہیں. مذہب ایک لغزش ہے، ایک بیماری ہے، ایک فریب ہے. خدا کا کوئی وجود نہیں. دنیا کو سمجھنے کیلیے اس مفروضے کو بنیاد بنانا کہ خدا موجود ہے، یہ سب بیکار باتیں ہیں. انسان کو مذہب کی ضرورت اس لیے ہوتی ہے کیونکہ وہ اس کا عادی ہو چکا ہے. اس کے بغیر اسے تشنگی اور بیکاری کا احساس ہونے لگتا ہے. حالانکہ یہ تشنگی علم سے دور کی جا سکتی ہے. اخلاقیات فطری عمل ہیں. یہ محض وضع داری کیلیے ایک سماجی ضرورت ہے. اس کا الہامی احکامات سے کوئی سروکار نہیں. سورج دیانت دار، بددیانت، اچھوں اور بروں، عام انسانوں اور صوفیوں پر یکساں چمکتا ہے. جذبات اور جبلت کو دبانے کا کوئی خاص فائدہ نہیں. زندگی کا اصل مقصد بھرپور زندگی گزارنا ہے اور واحد دانشمندی “خوشی” ہے.

اس کا حقیقت کا ادراک چارواکاس کو ہزاروں سال قبل ہوگیا تھا کہ مذہب ایک لغزش ہے، ایک بیماری ہے، سراب ہے. آج ہم شدت سے اس چیز کو محسوس کر رہے ہیں کہ مذہب کے نام پر انسانیت کا کہاں کہاں اور کیسے استحصال کیا جاتا ہے. گو کہ اس میں اچھائیاں بھی ہیں. لیکن اس کا تاریک پہلو اتنی وسعت کا حامل ہے کہ اس نے اس کے اچھے پہلوؤں کو مکمل طور پر ڈھانپ رکھا ہے.

یہ صرف چند مثالیں ہیں ان مفکروں کی، جن کے نظریات اور عمل نے انسانیت سکھائی. اس کے برعکس محسن انسانیت نے کیا کیا؟ ان کی تعلیمات تضادات کا مجموعہ ہے جس میں سے ہر کوئی اپنے مطلب کی چیز نکال لیتا ہے. جن کو اپنانے کے بعد انسان حق اور باطل کی نہ ختم ہونے والی جنگ کا حصہ بن جاتا ہے اور باطل کو مٹانے کیلیے ہر ممکن طریقہ کار کو بروئے عمل لاتا ہے. کیونکہ اسی میں جنت پوشیدہ ہے.

ایک اخن آتون تھے. جس نے فرعونِ وقت ہوتے ہوئے بھی شہنشائیت ٹھکرا دی. جس نے فتوحات کے دور میں فوچ کشی سے توبہ کی. اور فتوحات کے عمل کو ہی ناجائز ٹھہرا دیا. اور کہا کہ یہ ایک انسانیت سوز عمل ہے. اس نے اپنی وسیع تر سلطنت میں پھیلی ہوئی، اور مختلف مہمات میں مصروف فوج کو واپس بلا لیا اور اپنا فوجی ادارہ یہ کہہ کر توڑ دیا کہ اب اس کی ضرورت نہیں. فوج کی جارحیت کبھی انسان دوست نہیں ہو سکتی. اس کے برعکس محسن انسانیت نے تھوڑے عرصے میں بے تحاشہ جنگیں کی، اور جہاد فرض کر کے کہا کے اس میں اللہ کی رضا پوشیدہ ہے. اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا مارا جائے تو شہید کہلاتا ہے. جس کا جسم کبھی نہیں سڑتا. بلکہ اس سے خوشبو آتی ہے. اللہ شہید کو جنت میں عام جنتیوں سے زیادہ نوازیں گے. اس کے درجات زیادہ بلند ہونگے. اضافی حوریں عطا کی جائیں گی. وغیرہ وغیرہ. حکیم الامت فرماتے ہیں:

“میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے
شمشیر و سناں اول طاؤس و رباب آخر”

یہ کیسی انسانیت ہے جس میں کفار کے خلاف مسلسل حالت جنگ میں رہنے کا کہا جا رہا ہے؟ یہ کون سا حق ہے جو غیر مسلمانوں کو روئے ارض سے مٹا دینے کے بعد ہی ثابت کیا جا سکتا ہے؟ کیا دوسرے مذہب کے لوگ اور غیر مذہبی لوگ انسان نہیں. کیا باطل اس عالم کا حصہ نہیں، عالم سے باہر ہے؟ پھر رحمت العالمین اور محسن انسانیت کہنا چہ معنی دارد؟ یہ محسن انسانیت تھے، جو اپنے ایک مخالف کو عرب میں برداشت کرنے کو تیار نہ تھے. جنہوں نے ہجو گوئی کرنے والوں کو نہ چھوڑا. آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو محسن انسانیت تھے. ہجو گوئی کرنے والے شعرا کو اپنے اخلاق سے رام کر سکتے تھے، لیکن نہیں کیا. اس کے برعکس انہیں چن چن کر قتل کرایا. آنخصرت تو رحمت العالمین تھے، مدینہ کے یہودیوں کے ساتھ مدینے میں رہ لیتے. آنحضرت تو بہترین مدبر تھے، مدینہ کے یہودیوں کی “سازشوں” اگر کے وہ کر رہے تھے، کا توڑ با آسانی کر لیتے اور انہیں اپنے بہترین اخلاق سے قائل کر کے صراط مستقیم پر لے آتے. لیکن نہیں، کیونکہ شاید مدینہ کے یہودی اس عالم کے نہیں تھے. اس لیے رحمت العالمین نے انہیں نہیں بخشا. ان پر جنگ مسلط کی پروپیگنڈہ کر کے ان کا قتل عام کرایا. یہ اس لیے بھی ضروری تھا کہ مسلمان جو اس وقت عرب کی ابھرتی ہوئی طاقت تھی ان کی دھاک اچھی طرح وہاں کے لوگوں پر بیٹھ جاتی. چنانچہ ایسے ہر مواقع پر رحمت العالمین کی رحمت نے قطعی جوش نہ مارا. بلکہ رب العالمین بھی فرمان جاری کرتے رہے کہ یہود و نصاری کبھی تمہارے دوست نہیں ہو سکتے، یوں رحمت العالمین کی رحمتوں کے بادل نہ برسے. اور وہ اور ان کی ابھرتی ہوئی سپاہ قتال کرتی رہی، مال غنیمت اکھٹا کرتی رہی، عورتوں کو بھنبھوڑتی رہی.

فتوحات کے دور میں، جب جنگ و جدل پر فخر کیا جاتا تھا. اور اپنے مذہب اور اپنے خدا کو دوسری تہذیبوں پر مسلط کرنے کا رواج ہر خطے ہر تہذیب میں رائج تھا. اس وقت بھی ایسے مفکرین آتے رہے جنہوں نے اہل مذاہب کے اس فعل پر لعن طعن کی، اور فتوحات کے اڈے قائم کرنے والوں کے انسانیت سوز جرائم کے آگے انسانیت نواز نظریات کا پرچار کیا. ان مفکرین نے اپنی تعلیمات سے بنی نوع انسان کو محبت کا سبق اور اخلاق کا درس پڑھایا. جس وقت عربوں کی اخلاقی حالت جانوروں سے بھی بدتر تھی، اس وقت چائنا میں laoste نے انسانیت کا درس دیا. لیکن ان اخلاقی مفکرین نے انسان کو بغیر کسی حرص و طمع کے انسانیت کا درس دیا. اپنی تعلیمات کو پھیلانے کیلیے کسی جہاد کا سہارا نہیں لیا. اس کے برعکس ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو جہاں سچائی ملے گی وہ وہاں کھینچے چلے آئیں گے. اور ہوا بھی یہی. لوگ ان مفکرین کی سادہ تعلیمات اور انسان دوست نظریات کی طرف کھنچتے چلے آئے.

ان اخلاقی مفکرین میں سے کسی ایک نے بھی اپنی “خدمات” کے عوض زن پرستی نہیں کی، ان میں سے کسی ایک مصلح نے قتل و غارت گری کا بازار گرم نہیں کیا. بلکہ اس کی شدید مذمت کی اور اس سے باز رہنے کو کہا. کسی ایک نے اپنے نظریات کا خراج خون اور عورت کی صورت میں نہیں مانگا. ان لوگوں نے اپنی بات نہ ماننے والوں کو جہنمی، بندر، سور نہیں کہا. ایسے اوچھے ہتھکنڈے نہیں اپناۓ، لوگوں کو کسی قسم کا “معجزہ” دکھلا کر اپنا گرویدہ نہیں بنایا.

انسانیت کا سبق پڑھانے والے اخلاقی مفکرین کے قریبی اصحاب کو کیسا ہونا چاہئیے؟ ظاہر ہے انسان دوست ہونا چاہیے. کیونکہ وہ انسانیت کے عظیم مفکروں کے دست راست تھے. اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ کے اصحاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت سے تین روز قبل آپ کے گھر میں اکھٹے ہوئے تو آپ نے یہ خواہش فرمائی کے کاغذ اور قلم لایا جائے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایسی تحریر لکھ دیں کہ لوگ ہمیشہ کیلیے گمراہی سے بچ جائیں لیکن بعض احباب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش کا احترام نہیں کیا اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہذیان گوئی کی تہمت لگائی (نعوذ
باللہ). چنانچہ رسول اللہ برہم ہوئے اور ان تمام اصحاب کو اپنے گھر سے نکال دیا.

اس کے برعکس گوتم کی موت کے وقت اس کے احباب اور شاگرد اس کے پاس آئے اور اس نے اپنے خاص شاگرد آنند کو وقت رخصت بلا کر کہا:

“اے بھکشو! اب مجھے فنا ہونا ہے، شوق و ذوق سے من کی سچائی کی جستجو جاری رکھنا چاہئیے. یاد رکھ! سچائی کو من کے علاوہ کسی اور ذات کے حوالے سے جاننے کی ضرورت نہیں.”

اپنی بات مکمل کر کے گوتم سکون سے فنا کی گود میں اتر گیا. ایسے وقت میں گوتم کے کسی مصاحب نے اس پر “ہذیان گوئی” کی تہمت نہیں باندھی. بلکہ سلیقے اور محبت سے اس کی بات سنی. حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محسن انسانیت تھے، لیکن محسن انسانیت سے انسانیت والا سلوک خود ان کے اصحاب نے نہیں کیا. بدھ انسانیت کا علمبردار تھا. اس کے اصحاب نے اس کی تعلیمات کا بھرم رکھا اور آخری وقت میں بھی گوتم کی تعظیم کی. یاد رہے دونوں انسانیت کے علمبرداروں میں تقریباً “گیارہ سو سالوں” کا فرق تھا. حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات پر ان کے اصحاب اقتدار کیلیے لڑتے رہے. لیکن گوتم کی وفات پر اس قسم کا کوئی ہنگامہ نہ مچا.

رحمت العالمین کے کریڈٹ پر چند کارناموں کے علاوہ ایسا کوئی کارنامہ نہیں جس بنا پر انہیں رحمت العالمین اور محسن انسانیت کہا جائے. محسن انسانیت جنہیں رحمت العالمین بنا کر بھیجا گیا. کیا انہوں نے عرب سے غلامی کے بدترین رواج کا خاتمہ کر دیا؟ ہرگز نہیں. بلکہ خود رسول اللہ نے غلام اور کنیزیں رکھیں. اور ان کنیزوں سے بغیر نکاح کے صحبت اختیار کی. کیونکہ لونڈی اور کنیز ان پر اللہ میاں نے “حلال” فرما دی تھی. بلکہ یہی نہیں، یہاں تک فرمایا گیا کہ کوئی بھی اپنی مرضی سے رسول اللہ کو عورت دان کر سکتا ہے.
غلامی ایک بدترین لعنت ہے. انسانیت کی تذلیل ہے. لیکن افسوس رسول اللہ نے غلامی کو نہ صرف جاری رکھا بلکہ اس سے استفادہ بھی کیا. حالانکہ ان کو تمام عالموں کیلیے رحمت بنا کر بھیجا گیا تھا. لیکن شاید غلام نامی مخلوق اس عالم کی نہیں یا پھر انسان ہی نہیں. ورنہ محسن انسانیت سے ایسی چوک کب ہو سکتی تھی بھلا. ان کی دنیا میں تشریف آوری کا مقصد ہی بنی نوع انسان کی بھلائی تھا. اس کے برعکس ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ غلامی کی بدترین رسم، روایت، رواج، ریت، بدعت جو مرضی کہہ لیں، ختم کرنے کی سعادت کافروں کے حصے میں آئی جو نہ تو رحمت العالمین بنا کر بھیجے گئے نہ ہی جن کا کام بنی نوع انسان کو سیدھی راہ پر لانا تھا.

یہ کافر ابراہم لنکن، ولیم فورس وغیرہ تھے. ابراہم لنکن نے اپنی مخلصانہ کوششوں سے ۱۸٦۳ میں حبشیوں کی آزادی کا اعلان کیا. اس نے اس ضمن میں تحاریک چلائیں اور سر توڑ کوششیں کیں. اس کے نزدیک غلامی انسانیت سوز اور غیر فطری ہے. انسانوں کو غلام بنا کر ان کا استحصال کرنے کے خلاف سب سے موثر آواز برطانیہ کے امیر ولیم فورس نے اٹھارویں صدی میں اٹھائی. ولیم نے ۱۷۸۷ میں پارلیمنٹ میں پہلی بار غلاموں کی تجارت کے خلاف بل پیش کیا. لیکن شنوائی نہ ہوئی. لیکن اس نے ہمت نہ ہاری. وہ ہر سال اسمبلی میں بل پیش کرتا رہا. یہاں تک کے بیس برس بعد ۲۵ مارچ ۱۸۰۷ میں جیت گیا. یوں ۲۵ مارچ ۱۸۰۷ کو برطانیہ میں غلاموں کی تجارت پر پابندی لگ گئی. ہر سال برطانوی عوام ۲۵ مارچ کو غلامی کی بدترین اور قبیح رسم ختم کرنے کی یاد میں ولیم ویلمبر فورس کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جس نے انسانوں کو انسان ہونے کا فخر واپس کر دیا.

اس احسن کام کو محسن انسانیت بھی کر سکتے تھے؟ جو بنی نوع انسان کیلیے رحمت بنا کر بھیجے گئے تھے. غلامی کے بدترین اور انسانیت سوز عمل کو تاریخ میں تقریباً ہر مصلح ہر بادشاہ نے جاری رکھا. افسوس تو یہ ہے کہ محسن انسانیت نے بھی اس عمل کی مذمت نہیں کی بلکہ اس کو جاری رکھا. پتہ نہیں کیوں اللہ نے ہر اچھے کام کافروں کے نصیب میں لکھ دیئے ہیں. ہمارے پیارے رسول اللہ کو اللہ تعالی نے دو جہانوں کی بادشاہت عطا کی لیکن اس نیک کام کو سر انجام دینے کیلیے اخلاقی جرآت عطا نہیں کی کہ وہ ابراہم یا ولیم کی طرح غلامی کی لعنت کو اپنی تہذیب سے اکھاڑ پھینکتے. کیا محسن انسانیت انسانوں کو انسان ہونے کا فخر واپس نہیں کر سکتے تھے؟ اگر رسول اللہ واقعی رحمت العالمین تھے تو غلامی کو ختم کر سکتے تھے. اگر سماجی و معاشی مجبوریاں ان کے راستے میں حائل تھیں تب ان میں اور عام انسان میں کیا فرق رہ گیا؟

تاریخی مادیت ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارا وجود، یعنی سماجی وجود ہمارے شعور کو محدود کرتا ہے. لہذا اس تناظر میں یہ سوال اپنی اہمیت کھو دیتا ہے کہ رسول اللہ نے چودہ سو سال پہلے غلامی ختم نہ کی. کیونکہ پھر وہ دیگر انسانوں جیسا سماجی شعور و آگہی رکھنے والے تھے. اگرچہ محسن انسانیت نے بہت سی باتوں پر شرائط رکھیں کہ غلام آزاد کرو تو ثواب ملے گا، ان سے اچھا سلوک کرو. یعنی اس دور میں بھی ان کو غلام آزاد کرا دینے کی فکر تھی. جبکہ اس طرح کی کئی مثالیں اس سے قبل کی تاریخ میں مل جاتی ہیں، لہذا سماجی شعور اتنا تھا کہ غلامی کی لعنت سے چھٹکارے کیلیے کچھ عملی اقدام کیے جاتے. جبکہ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ رسول اللہ کا شعور اس وقت کے سماجی شعور کے حساب سے نہ ہوتا. کیونکہ بالآخر دو جہانوں کا علم ان کو دیا گیا تھا. اور ان کے پاس قرآن جیسی حکمت بھری کتاب بھی تھی. جس میں ہر طرح کا علم ہے.

عرب چودہ سو سال پہلے تجارت کرتے تھے کیونکہ انہیں اور کچھ نہ آتا تھا، اور اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ وہ قبائلی معاشرہ ہی تھا. ہر قبیلے کے اپنے قوانین تھے. آنخضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن کے قوانین لاگو کر کے اس کو قبائلی نظام سے نکال کر ایک ریاست اور بادشاہت کی طرف ہی لیکر گئے تھے. حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چودہ سو سال پہلے ٹرین تو نہیں بنا سکتے تھے نہ ہی پولیو ویکسین ایجاد کر سکتے تھے، مگر انہوں نے وہ سب کیا جس کی ان کو عرب قبائلی نظام اجازت دیتا تھا. جیسے شراب کو تیرہ سال بعد سختی سے اس وقت منع کیا جب ان کے پاس مکمل طاقت آ گئی تھی. غلامی ختم کرنا ان کے بس میں نہیں تھا اس لیے نہیں کر سکے. کیونکہ رحمت العالمین کا سماجی شعور اس وقت کے حساب سے ہی تھا.

کوئی صاحب غلامی کو جتنا مرضی خوش کن بنا کر پیش کر دیں، کتنی ہی تاویلیں گھڑ لیں، کتنی ہی احادیث لے آئیں کے غلاموں کو آزاد کرنے سے ثواب ملتا ہے، اور ان سے اچھا سلوک کرو وغیرہ وغیرہ لیکن اس سب سے بہرحال حقیقت پر فرق نہیں پڑنے والا. غلامی بہرحال غلامی ہے. جو کسی بھی حال میں یا رنگ میں ہو بہرحال انسانیت سوز ہے. جتنا مرضی کہہ لیں کے فلاں غلام فلاں عہدے پر پہنچا. ڈھمکاں غلام نے اتنی ترقی کی. مگر کیا وہ آزاد ہو گیا؟ وہ بہرحال غلام ہی رہا. اور غلام جتنی مرضی ترقی کر لے، اسے بہرحال غلام ہی پکارا جائے گا. اس لفظ کو عزت و تکریم کے ما بعدالطبعی افق پر پہنچا دیں، لیکن اس لفظ سے جڑی حقیقت اسے بے توقیر ہی رکھے گی. اس کا استہزا اڑتا رہے گا. مذاق بنتا رہے گا. غلام اور غلامی کو کوئی مہذب معاشرہ اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا. جتنی مرضی اس پر حسن و وقار کی لیپا پوتی کر لی جائے، حقیقت وہی، نتیجہ وہی رہنا ہے: “ڈھاک کے تین پات”.

اخلاقیات کا تعلق سماجی شعور سے ہوتا ہے. اخلاق افراد کے مابین باہمی تعامل کا نام ہے. میکس شیلر کا کہنا ہے کہ اقدار مثالی معروض ہیں جو ایک عالم اقدار سے تعلق رکھتی ہیں اور ہم تک ایک منفرد حساس قدر میں پہنچتی ہیں. یہ حساس قدر عام نفسیاتی اور تاثراتی تجربات سے مختلف ہے. یہ موضوعی کیفیت نہیں بلکہ خارجی معروضی حقیقت کی جانب ایک منفرد عمل ہے. بہرحال اخلاقی قدروں کی فلسفیانہ بحث سے قطع نظر ہمیں اس سے سروکار کرنی چاہیے جو اخلاقی قدروں اور سماجی شعور کا تعلق جوڑتی ہیں. جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ یورپ و امریکہ میں اخلاقیات نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ وہاں anti-bullying قوانین بنائے جا رہے ہیں. جس کی رو سے اگر آپ کسی نظر کا چشمہ لگانے والے کو چشماٹو کہہ دیں یا پھر اس کی تضحیک کیلیے کوئی اور غیر مناسب یا اخلاق سوز پھبتی کسیں، تب ان اخلاقی قوانین کے تحت آپ پر فرد جرم بھی عائد کی جا سکتی ہے. جرمانہ بھی ہو سکتا ہے. جبکہ محسن انسانیت اور رب العالمین کا اخلاقی شعور اس وقت کے سماجی شعور کے حساب سے ہی تھا. رسول اللہ کو بات بے بات لعنت ملامت کرنے کا ازحد شوق تھا. وہ اپنے ہی جیسے انسانوں کو صرف اس بات پر جھنجھلا کر لعنت ملامت کرتے تھے. کیونکہ وہ ان کی بات نہیں مانتے تھے. اور رحمت العالمین کو زچ کرنے کیلیے خوب عقل کے گھوڑے دوڑاتے تھے. اور جو رسول اللہ کی بلا چوں چرا مان لیتے، ان پر بالکل لعنت نہ فرماتے. بلکہ کہتے کہ میں راضی تے رب راضی.

رب العالمین نے اپنے کلام میں جابجا خود اپنی ہی مخلوق انسان کو بندر، سور، ملعون اور نجانے کیا کیا گالیوں کوسنوں سے نوازا. اگر محسن انسانیت اور رب العالمیں عہد حاضر میں یورپ و امریکہ کے شہری ہوتے تو وہاں کے مروجہ اخلاقی قوانین کے تحت اس قسم کے غیر مہذبانہ رویوں پر فورا دھر لیے جاتے. اور قانون تو پھر قانون ہوتا ہے. قید بھی ہو سکتی ہے اور جرمانہ بھی. استغفر اللہ. لیکن اللہ تعالی کیونکہ رب العالمین ہیں اور انسان سے ستر ماؤں جتنی محبت بھی کرتے ہیں چنانچہ اگر کچھ گالیاں قرآن میں ارشاد کر ہی دی ہیں تو ہمیں اس پر بالکل خفا نہیں ہونا چاہیے. قادر مطلق ہے. اور “جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے” . اور رحمت العالمین بھی چونکہ محسن انسانیت ہیں، اور انسانیت کو “انسانیت” کے مقام پر فائز کرنے آئے تھے. لہذا اگر کوئی انسان خود ہی انسانیت کی صف میں آنے کو تیار نہ ہو، تب اس قسم کے نہ ماننے والوں پر رسول اللہ کا جھنجھلا کر لعنت ملامت کرنا عین جائز حق ٹھہرتا ہے. سور، بندر وغیرہ کہنا اس صورت میں قطعی جائز تھا. اور اس پر کسی کو چنداں برا نہیں منانا چاہیے. بلکہ خندہ پیشانی سے ان ملامتوں، گالیوں، کوسنوں کو قبول کرنا چاہیے. اور اس طرح کی باتیں کرنا بھی ہمیں زیب نہیں دیتا. لہذا آگے بڑھتے ہیں. اور دیکھتے ہیں کہ اخلاقی معیار کس قسم کا ہونا چاہئیے.

کچھ عرصہ قبل میرے ایک جاننے والے نے بتایا کہ اس کے خاندان کے ایک بزرگ جن کی عمر کوئی پچپن ساٹھ سال ہوگی. جو بلا کے متقی، پرہیزی، نمازی، ولی، صوفی، حاجی، باریش بارعب وغیرہ وغیرہ ہیں. ان کے ساتھ یکایک نظر کا ایک حادثہ پیش آ گیا. انہیں خود سے عمر میں کئی گنا چھوٹی بچی پسند آ گئی. اور وہ اس چھوٹی عمر کی نابالغ بچی سے شادی کے شدید خواہشمند ہوگئے. جس کی عمر گڑیوں سے کھیلنے، سہیلیوں سے اٹھکیلیاں کرنے، ہم جولیوں سے لڑنے جھگڑنے اور پڑھنے لکھنے کی تھی. لیکن ان بزرگ نے ہر شرم کو بالائے طاق رکھ کر اس معصوم بچی سے شادی کر کے ہی دم لیا. کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بزرگوار کی یہ حرکت قابل ستائش اور صد آفرین ہے،ایک انقلابی قدم ہے معاشرے کو بدلنے کا، جہالت مٹانے کا؟ آپ کے خیال میں ان بزرگوار کو بہترین اخلاق کا مالک گردانا جا سکتا ہے؟کیا آپ کی نظر میں یہ عمل اخلاقی، معاشرتی اور سماجی جرم نہیں؟ کیا آپ ان بزرگ کہ اس عمل پر ان کو داد سے نوازیں گے جنہوں نے پیرانہ سالی کی عمر میں ایک دس سال کی نابالغ بچی سے محض اپنی نفسانی خواشات کی تسکین کیلیے بیاہ رچایا؟ کیا آپ ایسے شخص کو قابل تعظیم گردانیں گے اور اس کے اس عمل کو جائز قرار دیں گے؟ اگر آپ کا جواب ہاں ہے تب یقین کریں یا نہ کریں لیکن آپ نے اخلاقیات کی قبر کو ایک عظیم لات شریف رسید کر دی ہے. اگر آپ “واقعتاً اور حقیقتاً” اس عمل کو احسن سمجھتے ہوئے اس کی تائید کیلیے تاویلات ڈھونڈ لانے میں پیش پیش ہیں، تب آپ معاشرے اور سماج میں ہونے والے کسی بھی اخلاقی جرم کی مذمت شریف کرنے کے قطعی مجاز نہیں ہیں. لیکن خدانخواستہ اگر ایسی ہی صورتحال آپ کی اپنی عزیز خواتین میں سے کسی کے ساتھ درپیش ہو؟ تب؟ اب بھی اگر آپ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی اپنی عقیدت پر قائم ہیں، تب آپ منافقت کر رہے ہیں. ایک بدترین منافقت. جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ میں اتنی اخلاقی جرآت نہیں کے غلط کو غلط کہہ سکیں.

خیر، اگر محسن انسانیت ہی کہنا ہے تو اس انسان کو کہیے جو واقعتاً اور حقیقتاً اس گرانمایاں لفظ کا صحیح معنوں میں حق دار ہو. ڈاکٹر یونس جیسے لوگوں کو کہیے. جس نے گرامین بینک جیسے بینک کی بنیاد رکھی. جو بینک سے زیادہ ایک سماجی ادارہ ہے. جس سے دنیا کے پندرہ کروڑ لوگ فائدہ اٹھا چکے ہیں. اس بینک نے بنگلہ دیش کے لاکھوں مزدوروں کو خیرات، زکوۃ، صدقات، بھیک لینے والوں کے بجائے معاشرے کا کارآمد اور فعال رکن بنا دیا. گرامین بینک کی تقلید میں اب دنیا بھر میں بینک بتائے جا رہے ہیں. محسن انسانیت ہی کہنا ہے تو عبدالستار ایدھی، مدر ٹریسا، فلورینس نائٹ اینگل جیسے عظیم انسانوں کو کہیے. ٹھہرئیے! اگر ان عظیم انسانوں کو بھی محسن انسانیت کہنا گوارا نہیں تب کلکتے کی ایک مشہور مغنیہ گوہر جان کو ہی اس منصب پر فائز کر دیجیے. جس کے اخلاق کے آگے محسن انسانیت کا اخلاق ہیچ ہے. جس نے اپنی گزر بسر کرنے اور معاشرے میں اعلی مقام حاصل کرنے کیلیے کسی مالدار شخص سے شادی نہیں کی. جس پر اکبر الہ آبادی نے فرمایا:

“خوش نصیب آج بھلا کون ہے گوہر کے سوا
سب کچھ اللہ نے دے رکھا ہے شوہر کے سوا”

گوہر جان نے اپنے فن کی کمائی کھائی اور غریبوں، فقراء و مساکین پر بے دریغ لٹائی. اور بدلے میں ان کی وفاداریاں نہ مانگیں. نہ ہی اپنی بات ماننے اور تعظیم کرنے کو کہا. گوہر جان آرمینیا میں پیدا ہوئی. وہ ہندوستان کب اور کن حالات میں آئی یہ تو معلوم نہیں. البتہ اس کا بچپن ہندوستان میں گزرا. وہ خوبصورت ہونے کے ساتھ خوبصورت آواز کی مالک تھی. اور بہترین رقاصہ بھی تھی. اردو، ہندی، فارسی، عربی، بنگالی، انگریزی، سنسکرت زبانوں کی ماہر تھی. اس کی مقبولیت مشرق و مغرب میں یکساں تھی. برٹش گورنمنٹ نے اسے کئی اعزازات سے نوازا. جب شہنشاہ جارج پنجم نے دہلی میں اپنا دربار منعقد کیا، گوہر جان کی خدمات کے اعتراف میں اسے سونے اور چاندی کے تغموں سے نوازا. گوہر جان نعت پڑھتی یا بھجن گاتی تو مجلس میں شریک ہر ذی نفس کو گویا سانپ سونگھ جاتا. لوگوں پر ایک وجد سا طاری ہو جاتا اور حاضرین محفل جھومنے لگتے. چاہے وہ ہندو ہوں یا سکھ ہوں، مسلمان ہوں یا عیسائی ہوں یا یہودی. گوہر جان بلاشبہ ایک بڑی فنکارہ تھی. جس کا جادو مغرب و مشرق میں یکساں چلتا تھا. وہ لاکھوں نگاہوں کا مرکز اور لاکھوں دلوں پر راج کرتی تھی. اس نے فلاح عامہ کے بے تحاشہ کام کیے. کئی یتیم خانے، اناج گھر وغیرہ اس کے عطیات سے چلتے تھے. وہ بلا کی غریب نواز تھی. اس نے اپنی موت سے کچھ روز قبل اپنا تمام اثاثہ، جو اس وقت بھی کروڑوں میں تھا شہر کے غریبوں میں تقسیم کر دیا. بلاشبہ اسے بھی ان ہستیوں میں گنا جا سکتا ہے جو حقیقی معنوں میں محسن انسانیت کہلائے جانے کی حقدار ہیں. گوہر نے کبھی کسی کو تکلیف نہ پہنچائی چہ جائیکہ جنگ جیسی واہیات شے کسی پر مسلط کر کے اس کے ناک میں دم کرتی.

اگر گوہر جان پر بھی آمادہ نہیں بل گیٹس کو کیوں نہیں کہتے؟ میری نظر میں بل گیٹس اس وقت دنیا کا سب سے بڑا انسان ہے. جس نے ۲۰۰۸ میں اعلان کیا کہ وہ مائیکروسافٹ کو چھوڑ دے گا اور اپنی باقی ماندہ زندگی بنی نوع انسان کی خدمت کرتے ہوۓ گزارے گا. چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا، اس کے شب و روز فلاح عامہ کے کاموں میں گزرتے ہیں. اس کا زیادہ وقت “بل اینڈ میلینڈا گیٹس فاؤنڈیشن” کا ہے. بل گیٹس اپنی نوعیت کا واحد شخص ہے جس نے پوری تاریخ میں عام انسانوں کی خدمت کیلیے اس دنیا کی سب سے بڑی کمپنی چھوڑ دی. گویا انسانیت کی خدمت کرنے کیلیے بادشاہت چھوڑ دی. اس کا کہنا ہے کہ اس کی دولت اس دنیا کے ضرورتمندوں کیلیے ہے اور وہ اپنے بچوں کو ورثے میں صرف ایک ایک ملین ڈالر دے گا. بل گیٹس متعدد بار دنیا کی امیر ترین اشخاص کی فہرست میں سر فہرست رہا ہے. لیکن “بل اینڈ میلینڈا گیٹس فاؤنڈیشن” کی بدولت وہ رہتی دنیا تک دنیا کا سب سے بڑا انسان رہے گا.

کیا آپ بل گیٹس جیسے عظیم ترین انسان کو محسن انسانیت، رحمت العالمین کہنے کی اخلاقی جرآت بھی نہیں کر سکتے؟ کیوں کہ اس سے عقیدے اور تقدس پر ضرب پڑتی ہے. کیونکہ عقیدہ تو کہتا ہے کہ رحمت العالمین صرف رسول اللہ ہیں. اور محسن انسانیت بھی صرف انہیں کہا سنا جائے، بیشک انہوں نے انسانیت کیلیے کوئی خاص کارنامہ سر انجام نہیں دیا تو کیا ہوا. ایک بل گیٹس پہ کیا موقوف، ایسے عظیم ترین انسان دوستوں کی طویل فہرست ہے. جن کی انسانیت کیلیے کی گئیں خدمات کسی بھی پیغمبر/مصلح کو شرما دینے کیلیے کافی ہیں. انہی میں سے ایک وارن بفٹ ہیں جنہوں نے اپنی دولت کا ۸۷ فیصد حصہ بل گیٹس کی فلاح و بہبود کی فاؤنڈیشن کو عطا کر دیا. ان کا کہنا ہے کہ:

“میں نے بل گیٹس کی فاؤنڈیشن کو اس لیے منتخب کیا کہ یہ امریکہ کا واحد ادارہ ہے جو اپنے فنڈز کا ۷۰ فیصد حصہ امریکہ سے باہر دوسرے ممالک میں خرچ کرتا ہے. اور یہ امیر ترین شخص آج بھی سادہ ترین زندگی گزارتا ہے.”

اگر آپ ان کافروں پر بھی مطمئن نہیں، تب اور بہت سے کافر ہیں. انگوار کیمپارڈ ہے. جو اپنی نوعیت کا واحد شخص ہے جسے اسراف پسند نہیں. حد درجے سادہ زندگی بسر کرتا ہے. ایک روپیہ فالتو نہیں خرچتا، بلا کا کنجوس ہے. لیکن بات جب فلاح عامہ کے کاموں کی ہو تب وہ لاکھوں کروڑوں ڈالر بلا دریغ خرچ کر ڈالے گا. ایک طرف وہ اپنے کسی ورکر کو کاغذ تک ضائع کرنے پر سرزنش کرتا ہے تو دوسری طرف اربوں کھربوں ڈالر خیرات کر دے گا لیکن اس کی تشہیر نہیں ہونے دے گا. اکانومسٹ میگزین کے مطابق انگوار کیمپارڈ، بل گیٹس سے بھی زیادہ رقم فلاح عامہ میں خرچ کرتا ہے. اس نے INGKA Foundation کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بنا رکھا ہے اور اس ادارے کے ذریعے اب تک تقریباً پچاس بلین ڈالر کی چیرٹی کر چکا ہے.

محسن انسانیت ہی اگر کہنا ہے تو ان لوگوں کو کہئیے جنہوں نے اصل معنوں میں انسانیت کی خدمت کی اور انسانیت کیلیے سوچا. یہ لفظ ان عظیم لوگوں پر ہی جچتا ہے، جو اصل معنوں میں اس کے حقدار ہیں. “گول” اور “فوڈ بینک” جیسی تنظیمیں بنانے والوں کو کہئیے. نیلسن منڈیلا، میلکم ایکس کو کہئیے. کارل مارکس کو کہیے جو انسان کے غم میں رویا، جسے مزدوروں کا غم کھا گیا. جس نے انسانی مساوات کیلیے بلند ترین آواز اٹھائی. جس نے انسان کی وحدت کا خواب دیکھا.

یہ پیغمبران جو تاریخ میں نظر آتے ہیں، جو انسان اور انسانیت کے سب سے بڑھ کر وارث اور ٹھیکیدار نظر آتے ہیں. انہوں نے کیا کیا ہے؟ کون سا ایسا کارنامہ کیا ہے جو انسانیت کے مفاد میں ہو؟ کیا انہوں نے انسانیت کو بانٹنے اور نفرتیں پیدا کرنے کیلیے مذہب ایجاد نہیں کیا؟ جو رہتی دنیا تک، انسان کو انسان سے لڑاتا رہے گا. نفرتیں بانٹتا رہے گا. ان میں تفریق پیدا کرتا رہے گا. تقسیم کرتا رہے گا. یہ اور ان کے پیروکار دراصل انسانیت سے خارج ہیں کیونکہ انہوں نے ایسا لازوال فارمولا مذہب کی صورت میں انسان کو تھما دیا ہے، جو انسانوں میں تفریق اور امتیاز پیدا کرتا رہے گا. فسادات پیدا کرتا رہے گا. جبران انہی تفریق اور امتیاز کرنے والوں کے متعلق کہہ گئے ہیں کہ یہ درحقیقت مردہ ہیں لیکن ان کو اب تک لحد میں نہیں اتارا گیا.

انسانی تقسیم کا فارمولا بنانے والوں کو محسن انسانیت، رحمت العالمین جیسے القاب سے نوازنا، کل انسانیت کے منہ پر طمانچہ مارنے کے مترادف ہے. وہ جو باغی ہیں، جو آزادی کی علمبردار روحیں اور محبت کے پیغمبر ہیں، تمام اشیا کی آفاقیت، اتحاد اور شخصی آزادی پر یقین رکھتے ہیں. یہ وہی تو ہیں جنہوں نے انسانیت کے مفاد میں کام کیے. اور ہر چیز پر انسانیت کو مقدم سمجھتے ہیں. بس انسان کو ہی ہر چیز پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے. چاہے وہ عقیدہ ہو یا کوئی نظریہ، کسی کو انسان پر فوقیت حاصل نہیں. عقائد انسانیت کی تقسیم کا باعث ہیں. مذہب اور مذہبیت، انسانیت کے استحصال پر کھڑے ہیں. منشور انسانیت کسی ایسے نظریے، قاعدے، اصول، عقیدے کو نہیں مانتا جو انسان دشمنی کو فروغ دے. اس منافقت سے بھی باز آئیں جو کسی نام نہاد انسانیت کے علمبردار کو محسن انسانیت کہنے پر مجبور کرتی ہے.

محسن انسانیت ہی کہنا ہے تو ان سائنسدان حضرات کو کہیے جنہوں نے انسانیت کو بہم آسانی پہنچانے کیلیے اتنا کچھ ایجاد کیا. جنہوں نے زندگی کو سہل ترین بنا دیا، پر آسائش بنا دیا. ان لوگوں کو کہیے جن کی بدولت میڈیکل سائنس نے اتنی ترقی کی، اور کئی بیماریوں کا علاج دریافت کیا اور کئی کا علاج ڈھونڈا جا رہا ہے. جنہوں نے ہر قسم کی ویکسینیش ایجاد کی، جنہوں نے انتہائی خطرناک بیماریوں کا علاج ڈھونڈا. ورنہ محسن انسانیت تو یہ کہہ کر فارغ ہو گئے تھے کے اونٹ کا پیشاب پیجیے پڑئیے گر بیمار!

ان ایجادات کرنے والے موجد حضرات کو محسن انسانیت کہیے جن کی ایجادیں، آپ ہر وقت ہر جگہ استعمال کرتے ہیں. ان محقق حضرات کو کہیے جن کی دریافت کے بدولت انسان کا علم یہاں تک پہنچا کہ جن کے بغیر عام زندگی تک میں گزارا نہیں. لیکن ان سب چیزوں سے استفادہ کرنے کے بعد بھی انہیں کافر، ملعون، زندیق، جہنمی اور “جاہل” گردانا جاتا ہے. اور انہیں محسن انسانیت کہا جاتا ہے جنہوں نے انسانیت کیلیے کچھ نہ کیا.

لگتا ہے اللہ میاں نے ہر اچھا کام ان لوگوں کے نصیب میں لکھ دیا ہے. جو اس کے معیار پر پورے نہیں اترتے، جو کافر، بندر، سور، بدترین جانور، ملعون وغیرہ ہیں. لیکن محسن انسانیت کو ان اچھے کاموں کی بالکل توفیق نہ دی اور انہیں بغیر کسی اچھے کام کے سب سے افضل سب سے محبوب قرار دے کر رحمت العالمین کے درجے پر فائز کر دیا. صرف ایک ایسا کام جو محسن انسانیت کے کریڈٹ پر ہو جس سے تمام انسانیت نے فیض اٹھایا ہو یا اٹھا رہی ہو؟ اس کے برعکس ان کی ہر سنت پر بیک وقت ہزاروں فرقے لڑ رہے ہیں. قرآن کی ایک آیت کے ترجمے سے لیکر تفسیر تک پر، بیک وقت سینکڑوں فرقوں کے کروڑوں لوگ لڑ رہے ہیں، جھگڑ رہے ہیں، کشتوں کے پشتے لگا رہے ہیں. اب بھی انہیں محسن انسانیت، رحمت العالمین کہہ کر پکارا جائے؟

“شرم تم کو مگر نہیں آتی”

     

, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

تحاریر بذریعہ ای میل

جراتِ تحقیق کی تازہ ترین اور مکمل تحریریں بذریعہ ای میل حاصل کرنے کے لیے ذیل میں اپنا ای میل ایڈریس لکھ کر ارسال کریں کا بٹن دبائیں۔

13 تبصرے تا “محسن انسانیت”

  1. Awais نے کہا:

    Bilkul b islam ki study nai hai ap ki ikhlaqi dras to ap bht dy rahe hn lekn islam k khilaf nafart ap k chehry sy jhalak rahi hy raha sawal ap k mghrb k nazam ka karal marks ny kya kia bilgates ny weghra weghara to islam ka nazm e zakat ko study kr lejye mery khyal sy wo ap byan krna chahye gy b nai sirf mahashi nazam jo qauran aik e qulye main byan krta hy k sarmya sirf mehnt ka hna chye wo sarmya daru k munh par tmacha hy ye to ap ghlti sy b byan nahi kryen gy q k ap ny kbhi prha e nahi ho ga

    جواب دیں

    • علامہ ایاز نظامی نے کہا:

      محترمی اویس صاحب!
      مناسب تو یہ تھا کہ جس طرح ایان شاہ نے اپنے دعویٰ کو دلیل سے مزین کیا ہے آپ بھی ان کے دعویٰ کو دلیل سے ردّ کرتے، لیکن آپ نے وہی حسب معمول رویہ اختیار کیا ہے کہ بس اسلام اچھا ہے، اسلام میں کوئی خرابی ممکن ہی نہیں۔ معاف کیجئے گا جس قدر نفرت کا شکار مومنین ہوتے ہیں اس کی مثال دنیا بھر میں ملنی مشکل ہے، آپ کی نفرت کا یہ حال ہے کہ دنیا میں اگر کوئی غیر مسلم انسانیت کی فلاح کیلئے کوئی کارنامہ سرانجام دے تو اسے رد کرنے کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ غیر مسلم ہے، اور منافقت کا یہ عالم ہے کہ کفار کی ایجادات اور خدمات سے پورا پورا استفادہ بھی کریں گے۔ دنیا بھر میں 56 اسلامی ممالک موجود ہیں کسی ایک میں نظام زکٰوۃ نافذ کرکے اور مطلوبہ نتائج حاصل کرکے دکھا دیں، تو کسی کو ماننے میں کیا عار ہوگا؟ نیز میں انتظار میں ہوں کہ آپ قرآن میں جہاں محنت اور سرمایہ کا ذکر ہے اس آیت کا حوالہ ضرور دیں گے۔

      جواب دیں

      • Awais نے کہا:

        Communism k pas koi jazba mohrka esa nahi jo kisi frd ko es pr amada kr dy k wo jan mr kr mehnt kry aor phr apni mehnt ka mahasl dosry ko dy dy ishtrakyet k almbdaru ny roos main kya kia?? Anuh ny wahan mafluk hal mzdoru or nadr mehrom ghrebo ko ye keh kr obara k ye brhy brhy sarmaya dar kis trha tmra khon chos rahy hn tm utho aor in k amlak o delt ko in sy chen lo yeni un k dil main nafrt or intaqam k jazbat ko musht’al kia or es trha inqlab brpa kia es k bad kya hoa es pr roos ki tarekh shaid hy zahir hy nafrat or intaqam k jazbat zyda arsa tk qaim nahi reh skty jb srmyadar tbqa khtm ho gya logu mai jazba baki na raha jo dosru k khatir kam krny pr amada krta hy es k lye roos k arbab hal o aqad ko istabdad sy kam lyna prha is qism k istbdad sy awam to aik trf wahan k leader b chala uthy astalan k sitm k waqyat samny aye ye is nazam ka fitri natija tha jis ki bunyad nafrat o intaqam k elawa kisi taameri jazba pr na thi yahi haqeqt thi jis ka ehtraf lenan ny kia tha k” inqlab aik esa amal hy jis ki ro sy abadi ka aik hisa dosry pr apna ikhtyar o tslat qoat nok e shamsher golyou ki bochar dhmaku sy zabrdsti krata hy” na sirf istbdad sy blky makr o freb sy b Gollancz apni kitab “our threatenend valuess” mai likhta hy k ishtraki leader dr. Lucknz sy pucha gya k kya ishtraki jmat k leaders k lye jaiz hy k wo apni jamat k afrad sy b kazab or fareb dehi sy kam lyen? Us ny jawab diya k” ishtraqi aikhlaq ki ro sy ye fareza sb sy ehm hy k isy tasleem kya jye zrurt k wkt badyanti or beimani sy kam lia ja skta hy ” jajub ki bat h lekn es main koi ishtraqi asul k mutabiq koi tajub nai q k jis zabta zindgi main mustaqil iqdar ko tasleem na kia jata ho es main hour hrba jis sy maksd hasal hta ho jaiz hy ab quran ki rbobyt pr aye ye apny andr aik esi thos haqet rakhta hy jis ka wasta dor dor tk na to mgrbi jmhoryet sy hy na communism sy balky islam or ye donu zid hn islam har fard ki nshonama k lye es lye muztrab o beqrar rehta hy k wo is par iman rakhta hy is sy khud is ki apni nshonma hti hti hy ” jo dusru ki noshonma mahya krta h wo khud dr haqeq apni zat ki noshonma krta hy ” jo dusru ko samany zeest sy mehrom rakhta hy wo dr haqeqt khud apni nashonma se mehrom rehta hy 47:38 ye hy wo iman jis sy esi qom peda ho jati. Jis ki kefeyt ye 59:9 wo hamesha dosru ko apny ap pr tarje dyty hn khwa inheh tangi or mushkil sy guzrna q na prhy bahi mery ap aik ayat ko puchty har har shobaye zindgi mashi smaji main pura pura qnun h jo qisu ki sorat main byan h raha sarmya dari ka byan fion ka qisa prh lejye ayt 9:34 arbabe shryet aor arkan tareqat ki aksryet ka ye alam hy wo bghair kisi tameri kam krny k awaml ki kmai muft main kha jaty hn har kism k hrby tlash krty hn” mohtrm mera taluk na to mojuda mzhb sy hy na kisi firka sy ye mulaon ka mzhab hy jism main qurani asol dor dor tk nahi mulhad khtm krny par tuly hoy hn talaban apni pata nai kn c sehreyt nafaz krna chaty hn quran kch or byan krta h ye ye rawaiton k kothy hoy hn raha pr bighar koe b kch nai skta esy e ibrahem nabi ny kaha tha main pehla muslman hon esy e nabi mohammasd sa ny kaha tha k pehla muslman hon

        جواب دیں

        • علامہ ایاز نظامی نے کہا:

          اویس صاحب ! یقیناً یہ جواب لکھتے ہوئے آپ نے بہت محنت کی ہوگی، آپ کی کوشش بہت قابل قدر ہے، لیکن آپ کی رومن اردو پڑھنا بہت مشکل ہے، پوری بات واضح نہیں ہوسکی، اگر آپ تھوڑی محنت اور کوشش مزید کرلیں اور اردو فونٹ میں جواب عنایت کریں تو آپ کی بہت مہربانی ہوگی۔

          جواب دیں

          • Awais نے کہا:

            G itni mehnt to nai lagi bs mobile par urdu font nai es lye roman mai type krna shru kr dia khair farsi zuban mai to nai likha jo smjhna mushikil ho koshish kru ga k pc sy aon to urdu main type kru.

  2. Awais نے کہا:

    مرض اهل غرض لاعلاج است از صحبت ایشان باید الحذر [مغفور بادشاه حضرة عالمگیر رح]

    ترجمہ: مطلبی لوگوں کے مرض(مطلب پرستی) کا کوئی علاج نہیں ہے انکی صحبت سے بچنا چاہئے
    {رقعات عالمگیری}

    جواب دیں

  3. Awais نے کہا:

    Mohtram mje in ki mozmon main koi dalel nazar nahi ai jahan enhu ny dunya k rehmanyet ka ikhalqi daras diya k es fard ny esa kam kia to mai ny b usi tra islam ka nazam byan kia k agr bil gates apni sari dolt ghrrebu main bant skta hai to islam ka nazam e zakat main kya burai h jo sirf ikhali pehlu nahi balky qanun nafiz kia gya ye byan q nai kia gya? Es sy nafrat ka izhar nai hta musnif k chehry sy? Agr karal marks ny sarmyadari k khilaf awaz uthai to rehmaniyet hy to quran ka mahashi nazam deyna jesy sarmya mehnat ka hna chye to bat qably ghor nahi ?

    جواب دیں

    • نابغہ روزگار نے کہا:

      موبائل فون پر گو اردو کی بورڈ انسٹال کرلیں پھر آپ موبائل سے بھی اردو لکھ سکیں گے۔

      جواب دیں

  4. Awais نے کہا:

    Urdu kis trha type ho skti hy es website par koi option hy?

    جواب دیں

    • علامہ ایاز نظامی نے کہا:

      جرات تحقیق کی ویب سائٹ پر ہائیڈر کے اوپر آپ کو Urdu Support کا بٹن نظر آئے گا، وہاں سے پاک اردو انسٹالر پروگرام ڈاؤن لوڈ کرکے انسٹال کرلیں۔ اس طرح آپ اردو لکھ پائیں گے۔

      جواب دیں

  5. Awais نے کہا:

    Yaken janye muje ye kisi b trha ye mazmon mantqi nukta nazar sy nai laga chlye mzhb ko chorye sirf mantaq ki rooh sy se parkhye to es main kn c logic hy?

    جواب دیں

  6. Confused نے کہا:

    واہ کیا جاندار مضمون ہے !!
    اس پہ یاد آیا، کچھ عرصے پہلے حسن نثار نے اپنے ایک کالم میں ہینری فورڈ کو ‘محسن انسانیت ‘ قرار دیا تھا – خیر بچت ہو گئی کسی ‘فنڈو ‘ نے نوٹ نہیں کیا!

    اگر مجھ سے پوچھا جاے تو نیوٹن، پاسچر ، ایلن ٹیورنگ ، کلاڈ شینن ، ان میں سے کسی کو بھی یہ لقب دیا جاے توکوئی مضائقہ نہیں !

    ویسے ایک بات سوچتا ہوں ، کیا یہ ضروری تھا کہ آنحضرت گوشت تناول فرماتے؟ آخر حضرت عیسی بھی تو بقول مسلم صوفیا ایک ‘vegetarian ‘ تھے. میں نہیں کہتا کہ ساری امّت کو شاکاہاری بنا دیا جاتا، مگر کم از کم ایک ‘precedent ‘ تو بن سکتا تھا !! آخر رحمت للعالمین کی امّت اگر جانوروں کی گلو خلاصی کر دیتی تو کیا حرج تھا!
    ویسے بھی ماڈرن سائنس نے ثابت کیا ہے کہ vegetarianism اتنا ہی صحتمندانہ ہے جتنا گوشت خوری پر مبنی طرز زندگی ، بلکہ شاید بہتر ہی ہو! ہاں vegetarian ڈیل ڈول میں شاید مار کھا جائیں ، مگر مسلمان کو دنیوی ‘شو شا’ سے کیا لینا دینا ، ہیں نا بھئی !!
    (ویسے بعض کج بحث لوگ پوچھتے ہیں کہ جانور اور نباتات دونوں ہی ‘life forms’ ہیں ، انسے التماس ہے کہ ‘dispersal of seeds ‘ نامی سبق پرائمری اسکول کی سائنس کی کتاب میں پڑھ لیں )

    جواب دیں

  7. کامران خالد نے کہا:

    بہت خوب۔۔۔! آہ کیا سوچ پروان چڑھ رہی ہے۔۔۔کاش ہم اس بحث کو سمجھ پاتے۔
    ہم ٹھہرے جاہل ،اجڈ،اندھیروں کے راہی۔۔۔کہاں ہم اور کہاں علامہ ایاز نظامی صاحب

    جواب دیں

تبصرہ کریں