ہم جنس پرستی ایک فطری رویہ!

February 28, 2016

مصنف: - زمرہ: تنقید

Homosexuality

انسان کا جنسی رویہ ہمیشہ سے ہی اس کی توجہ کا مرکز بنا رہا ہے، انسانی تاریخ کے مختلف ادوار میں انسان مختلف جنسی رویوں اور روایات کے مطابق زندگی گزارتا آیا ہے۔ معاشروں اور مذاہب نے انسان کے کچھ جنسی رویوں پر پابندیاں لگانے کے ساتھ ساتھ ممنوعہ جنسی رجحان رکھنے والوں کو کڑی سزائیں دی ہیں، دوسری جانب کچھ مذاہب اور معاشرے ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے مختلف قسم کے جنسی رویوں کو قبول کیا ہے۔
ان رویوں میں سرفہرست ہم جنس پرستی شامل ہے، ہم جنس پرستی انسانی تاریخ جتنی ہی قدیم ہے۔ کچھ قدیم معاشروں میں ہم جنس پرستی کی اجازت رہی، یونانی فلسفی افلاطون نے اپنی ابتدائی زندگی میں ہم جنس پرستی کی حمایت کی، مگر اپنی عمر کے آخری حصے میں اس پر پابندی کا حامی تھا، جبکہ ارسطو نے ہم جنس پرستی کے متعلق افلاطون کے خیالات کو اہمیت نہ دی، اس نے آبادی پر قابو پانے کے لئے ہم جنس پرستی کی افادیت کو تسلیم کیا (گو کہ آج اس کی یہ سوچ ہمیں لغو محسوس ہوتی ہے) ارسطو نے اپنے دور کے مختلف بربر قبائل میں ہم جنس پرستی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان قبائل میں ہم جنس پرستی کو ستائشی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔
دنیا کے کسی ملک یا علاقے کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ہر زمانہ میں کسی نہ کسی صورت میں ہم جنس پرستی موجود رہی ہے، اس معاملے میں شعر و شاعری اور فنون لطیفہ میں ہم جنس پرستی کے قصے بیان ہوتے آئے ہیں، جب کہ ہم جنس پرستی کی مخالفت کرنے والے معاشروں میں ہم جنس پرستی کے مرتکب افراد کو دی گئی سزائیں مؤرخین نے تاریخ کے اوراق میں خون سے قلم بند کر رکھی ہیں۔
یہودیوں کی کتاب احبار میں باب20 کی آیت 13 میں مرقوم ہے:
“اگر کوئی مرد کسی مرد سے صحبت کرے جیسے عورت سے کی جاتی ہے تو اُن دونوں نے نہایت مکروہ کام کیا ہے۔ لہذا وہ ضرور جان سے مار دئیے جائیں۔ اُن کا خون اُن کی ہی گردن پر ہوگا۔”
یہودیت میں ہم جنس پرستی کی سزا سنگساری تھی، مسیحیت نے بھی ہم جنس پرستی کی طرف انتہائی سخت رویہ اپنایا، اسلام نے بھی ہم جنس پرستی کے خلاف سخت رویہ اپنایا، اور اسلامی شریعت کے مطابق ایسے فرد کو اونچائی سے گرا کر یا اس پر دیوار گرا کر ہلاک کرنے کا حکم ہے۔
چرچ کے لئے تقریباً ایک صدی سے اپنے راہبوں کی جنسی بے راہ روی پریشانی کا سبب بنی رہی ہے، وقتاً فوقتاً راہبوں کی بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی داستانیں سامنے آتی رہی ہیں۔ چرچ میں رونما ہونے والے اس طرح کے واقعات کی نشاندہی کرنے کا مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ ایسے مذاہب جن کی تعلیمات ہم جنس پرستی کی سخت مخالفت کرتی ہیں، ان کی اپنی صفوں میں بچوں سے بدفعلی (Sodomy) عام ہے۔ چرچ کی منافقت کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنی صفوں میں غیر فطری بدفعلی سے تو صرف نظر کرتا ہے مگر عالمی منظر نامے پر ہمیشہ فطری ہم جنس پرستی کی مخالفت کرتا ہے جس سے چرچ کی اخلاقی حالت پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
جیسا کہ جنسی فعل انسان کی فطری ضرورت ہے اور کیتھولک چرچ، راہبوں سے مجرد (Celibate) رہنے کا وعدہ لیتا ہے، اس وعدے کے باعث راہب اپنی جنسی خواہش پر جبر کرتے ہیں اور شادی نہیں کرتے، اس صورت میں جنسی جبر ایک آتش فشاں کی صورت اختیار کر جاتا ہے،  جب بھی ان کو موقع ملتا ہے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دوسری طرف ان کو اپنے تجرد کا بھرم بھی رکھنا ہوتا ہے، اس صورت میں ایسے بچے جو اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی پر کسی دباؤ کی وجہ سے خاموشی کو ترجیح دیں ان کا بہترین شکار ثابت ہوتے ہیں، اور راہب اسی لئے بچوں کا چناؤ کرتے ہیں کیونکہ وہ کسی کو بتاتے نہیں اور راہب کی پارسائی کا پردہ چاک ہونے سے بچ جاتا ہے۔ اسی معاملے میں تحقیق سے سامنے آیا ہے کہ اس طرح کے بچہ باز (Pedophile) راہب دو جنسیہ رویہ رکھتے ہیں، اور کسی بھی طرح سے اپنی جنسی تسکین حاصل کر لیتے ہیں، خواہ وہ کسی خاتون سے ہو، کسی بچے سے یا بچی سے، کیونکہ اس معاملہ میں سازگار حالات کار فرما ہوتے ہیں اور راہبوں کو اپنی مجرد زندگی میں زیادہ تر مواقع عورتوں یا لڑکیوں کے بچائے چھوٹے بچوں سے ملتے ہیں۔ اسی بات کا اطلاق مُلا پر بھی ہوتا ہے اور وہ بھی ساز گار حالات کی فراہمی کے مطابق عمل پیرا ہوتے ہوئے زیادہ تر کم عمر بچوں کو ہی شکار کرتا ہے۔ پاکستان اور دوسرے اسلامی ممالک میں مدارس اور مذہبی اداروں میں بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں۔ گو کہ آج تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ تحقیق نہیں ہوئی لیکن اگر ایسی تحقیق کی جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس کے نتائج یورپ اور امریکہ کے راہبوں پر کی گئی تحقیق سے مختلف نہ ہوں گے۔
بچوں کے ساتھ بدفعلی اور ہم جنس پرستی دو الگ الگ چیزیں ہیں، جہاں تک ہم جنس پرستی کا تعلق ہے تو یہ ایک فطری عمل ہے، جانوروں میں بھی ہم جنس پرستی پائی جاتی ہے، مختلف جانور جن میں خزندے(Reptile)، پرندے، ممالئے اور کیڑے مکوڑے شامل ہیں تمام ہی ہم جنس افعال میں سرگرم پائے گئے ہیں۔ انسان کا تعلق جانداروں کے ممالیہ گروہ سے ہے، اور اس گروہ میں ہم جنس پرستی انتہائی عام ہے، شیر، کتے، لگڑ بگڑ، پینگوئن، ہاتھی، زرافے سے لے کر بنوبو (Bonobo) بوزنہ جو انسان سے 98 فیصد جینیاتی مماثلت رکھتے ہیں سبھی ہم جنس پرستی میں مگن پائے گئے ہیں۔
بنوبو چمپینزی کی ہی طرح انسان کا جینیاتی کزن ہے، یہ وہ جانور ہے جس میں 100 فیصد دو جنسیہ رویہ پایا جاتا ہے، یعنی مادہ بنوبو نر بنوبو کے ساتھ ساتھ مادہ بنوبو کے ساتھ بھی جنسی تعلقات استوار کرتی ہیں، جبکہ نر بنوبو بھی نر بنوبو کے ساتھ جنسی تعلقات استوار کرتے ہیں۔ بنوبو کا رہن سہن ایسا ہے کہ اس میں جنسی عمل کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے، بنوبو کی دنیا میں مادہ قوی ہوتی ہے اور وہی رہن سہن کے طریقے وضع کرتی ہے، وہی گروہ میں نظم ضبط اور امن قائم کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہے، اگر کوئی نر بنوبو وبال کھڑا کرے تو مادہ بنوبو جتھوں کی شکل میں اس کی پٹائی کرتی ہیں، مگر اس جھگڑے کے بعد فوراً ہی جنسی عمل شروع ہو جاتا ہے، اور جھگڑا خوش اسلوبی سے ختم ہو جاتا ہے۔ بنوبو سے متعلق کہنا غلط نہ ہو گا کہ ان کے معاشرے میں جنسی عمل صلح صفائی کا ایک ذریعہ ہے۔ نر بنوبو بھی ایک دوسرے کے ساتھ جنسی عمل میں مشغول رہتے ہیں، جس میں مقعدی جنسی عمل(Anal Sex) کے ساتھ ساتھ دوسرے کی مشت زنی(Masturbation) کرنا بھی شامل ہے۔ اسی طرح مادہ بنوبو میں ایک دوسرے کی اندام نہانی(Vagina) کو ہاتھ سے لذت پہنچانا بھی شامل ہے۔

Bonobo

Bonobo

دوسری جانب ببر شیروں کے نر گروہ میں ہم جنس پرستی انتہائی عام ہوتی ہے، شیر بھی مقعدی جنسی فعل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس میں ایک ہی شیر مختلف اوقات میں نرینہ اور زنانہ کردار ادا کرتا رہتا ہے۔ امریکہ کے بیل نما بائسن تو عین مقعدی جنسی فعل کرنے کے قابل ہوتے ہیں اور بآسانی انزال(Orgasm) تک پہنچ جاتے ہیں۔ اسی معاملے میں لگڑ بگڑ جو بنوبو کی طرح مادر سری معاشرہ میں رہتے ہیں ہم جنس پرستی میں مصروف رہتے ہیں، ان میں مادہ بھی دوسری مادہ پر جنسی سواری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ گدھوں، بگلوں اور مختلف قسم کی بطخوں میں ہم جنس پرستی عام ہے، ان میں نر پرندے مل گر گھونسلہ بناتے ہیں اور ایک ساتھ پوری زندگی گزار دیتے ہیں، بگلوں اور بطخوں میں تو ایسا بھی پایا گیا ہے کہ دونوں نروں میں سے ایک کسی مادہ کے ساتھ جنسی عمل کرنے کے بعد اس کے انڈے دینے کا انتظار کرتا ہے اور جب وہ انڈے دے لیتی ہے تو دونوں نر مل کر اسے بھگا دیتے ہیں، بعد ازاں یہ خود ہی انڈوں کو سیکتے ہیں، چوزے نکلنے پر ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور ان کو جوان کرتے ہیں۔ دو نر بگلوں کی دیکھ بھال کے باعث ایسے بچوں کی شرح اموات دوسرے بچوں سے انتہائی کم ہوتی ہے۔ بکروں اور بھیڑوں میں بھی ہم جنس پرستی عام ہے اور ایک تحقیق کے مطابق مینڈھوں میں سے تقریباً 20 فیصد ہم جنس پرست ہوتے ہیں۔ ڈولفن بھی ہم جنس پرست ہوتی ہے، پانچ سے چھ ڈولفن ایک وقت مین جنسی عمل میں حصہ لیتے ہیں جن میں سے صرف ایک یا دو مادہ ہوتی ہیں باقی نر اسی دوران نر کے ساتھ بھی جنسی عمل میں حصہ لیتے ہیں، ڈولفن دوسرے ڈولفن کے اعضاء خاص کو چھیڑتے ہیں۔ ہاتھی بھی ہم جنس پرستی میں کسی سے پیچھے نہیں، نر ہاتھیوں کے گروہ میں چھوٹے ہاتھے کسی بڑے اور طاقتور ہاتھی کے ساتھ جنسی تعلقات میں مادہ کا کردار اپنا لیتے ہیں جس سے ان کو گروہ میں اہمیت ملتی ہے۔ زرافے بھی ہم جنس پرستی میں کسی سے پیچھے نہیں بلکہ جب بھی زرافوں میں گردنیں لڑانے کا مقابلہ ہوتا ہے اس کے عین بعد ہی مد مقابل زرافوں میں ہم جنس فعل بھی سامنے آ سکتا ہے۔
جانوروں میں ہم جنس پرستی عام ہے، اور بالکل انسانوں کی طرح لازمی نہیں کہ جو جانور ہم جنس افعال میں سرگرم رہا ہو وہ دوسری جنس کے ساتھ جنسی عمل میں دلچسپی نہ رکھتا ہو، بلکہ دو جنسیہ(Bisexual) رویہ انسانوں کی طرح سے ہی جانوروں میں بھی عام ہے، مگر انسانوں ہی کی طرح جانوروں میں بھی کچھ صرف اور صرف اپنی ہی جنس سے جنسی تعلقات استوار کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کو ہم حقیقی طور پر ہم جنس پرست کہہ سکتے ہیں۔
یہاں تک ہم نے جانوروں میں ہم جنس پرستی کے رجحان کا جائزہ لے لیا ہے، اب ہم اس کے اخلاقی پہلو کی طرف آ جاتے ہیں، مختلف مذاہب اور طبقاتِ فکر میں ہم جنس پرستی معیوب بلکہ ممنوع سمجھی جاتی ہے، اور ان مکاتب فکر سے ہمیں ہم جنس پرستی کی کڑی مخالفت دیکھنے کو ملتی ہے۔ مذہب تو ہم جنس پرستی کو خدا یعنی خالقِ کائنات کی جانب سے ممنوع ٹھہراتا ہے، مگر قدرت میں ہمیں خدا کے اس حکم کی نفی ہوتی نظر آتی ہے، اگر خدا کو ہم جنس پرستی اس قدر ہی معیوب اور قابل نفرت معلوم ہوتی ہے تو اس نے بے زبان جانوروں میں یہ خصوصیت کیوں رکھی؟ کیونکہ جانور تو گناہ و نیکی کی تمیز نہیں رکھتے، ایسے میں ان کے تمام افعال خدا کی مرضی کے مطابق مانے جا سکتے ہیں، کیونکہ ابراہیمی مذاہب کے مطابق انسان ہی نیکی و بدی کی تمیز رکھتا ہے اور اسی کے پاس نیکی کو بدی کے مقابلے میں اختیار کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ جبکہ جانور نہ نیکی و بدی کی تمیز رکھتے ہیں نہ ہی ان میں چناؤ کر سکتے ہیں۔ ایسے میں ہم اخذ کر سکتے ہیں کہ خدا ہی چاہتا تھا کہ تمام جاندار جن کا ہم نے ذکر کیا ہم جنس پرستی پر مائل ہوں۔ اس صورت میں یا تو خدا کو ان ہم جنس پرست جانداروں کی تخلیق سے بری الذمہ قرار دینا ہوگایا پھر ان کے ہم جنس پرست غلیظ افعال کا شریک کار، فیصلہ پڑھنے والوں پر چھوڑتا ہوں۔
دوسری جانب اگر قدرتی اخلاقیات(Natural Morality) کے مطابق دیکھا جائے تو قدرت میں ہم جنس پرستی موجود ہے، اور جیسا کہ سائنسی قوانین و تحقیق ثابت کرتی ہے کہ انسان بھی قدرت ہی کے ماتحت ہے اسی لئے انسانی رویوں میں بھی ہم جنس پرستی کا پایا جانا معیوب نہیں۔ بلکہ یہ ثابت کرتا ہے کہ انسان ارتقائی طور پر باقی جانداروں سے جڑا ہوا ہے۔
دنیا کے مختلف معاشرے آج ہم جنس پرستوں کو حقوق دے رہے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہم جنس پرستی ایک قدرتی عمل ہے اور ہم جنس پرست بھی انسان ہیں، اس معاملے میں مختلف مذاہب کی طرف سے ہم جنس پرستوں کے حقوق کی تحریک کی مخالفت ہوتی رہتی ہے، مگر سائنسی تحقیق سے سامنے آنے والے نتائج نے آج ان ممالک اور معاشروں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ ہم جنس پرستوں کو حقوق دیں تاکہ اس چھوٹی سی اقلیت کو معاشرے اور ملک کا ایک فعال رکن بننے میں مدد ملے۔ مگر دنیا کے دقیانوس اور کم علمی کے گڑھے میں گرے ہوئے معاشرے قرون وسطیٰ کی طرح آج بھی ہم جنس پرستوں کا استحصال کر رہے ہیں۔
آج دنیا پر عیاں ہو چکا ہے کہ ملّا، پادری اور ربّی کی اپنی صفوں میں بھی جنسی درندے بیٹھے ہیں جن کا شکار بہت سے طفل و زن ہیں اور حقیقی ہم جنس پرستوں کے حقوق کی مخالفت کیلئے صف اول میں کھڑے ہیں، اور یہ ملا و پادری اپنی منافقت کا سبق ساری دنیا کو نہین پڑھا سکتے۔ اسی لئے آج ہم جنس پرستوں کے حقوق کی تحریک اپنے عروج پر ہے اور ایک کے بعد ایک چوٹی سر کرتی جا رہی ہے۔

LGBT

     

, , , , , , , , , , , , , , , ,

تحاریر بذریعہ ای میل

جراتِ تحقیق کی تازہ ترین اور مکمل تحریریں بذریعہ ای میل حاصل کرنے کے لیے ذیل میں اپنا ای میل ایڈریس لکھ کر ارسال کریں کا بٹن دبائیں۔

14 تبصرے تا “ہم جنس پرستی ایک فطری رویہ!”

  1. دانیال تیموری نے کہا:

    کیا ہی خوب مضمون لکھا ہے جناب آپ نے۔
    کاش کہ مسلمان ایک بار ہی آپ کے بتائے گئے حقائق کو پڑھ لیں اور اس پر سوچ و بچار کر سکیں۔۔۔ کاش۔

    جواب دیں

  2. sadaqat نے کہا:

    what do you intend by publishing this article

    جواب دیں

    • Bay Aqqal نے کہا:

      پوری دیانتداری سے کہتا ھوں کہ آرٹیکل پڑھنے کے بعد میرے ذھن میں بھی پہلا سوال یھی ابھرا تھا اس لیۓ اس اھم سوال کا جواب ضرور دیا جانا چاھیۓ۔

      جواب دیں

  3. دانیال تیموری نے کہا:

    حیرت ہے آپ لوگوں پر۔ آپکی مثال وہی ہے کہ ساری رات داستان سنتے رہے اور پھر صبح اٹھ کر پوچھ رہے تھے کہ مجنوں عورت تھا یا مرد۔
    یہ تحریر “مذہب” بمقابلہ “فطرت” کا تقابل تھا ہم جنس پرستی کے موضوع پر۔
    یہ تحریر مذہبی حضرات کو خاص طور پر پڑھنی چاہیے تاکہ وہ ناموسِ مذہب کی خاطر کنویں کے مینڈک ہی نہ بنے رہیں، بلکہ باہر نکل کر بقیہ دنیا کے مؤقف سے بھی جان پہچان حاصل کریں۔
    جو کہتے ہیں کہ اسلام دینِ فطرت ہے، وہ سراسر غلطی کرتے ہیں۔ سائنس آہستہ آہستہ مذہب کو بے نقاب کر رہی ہے۔

    جواب دیں

  4. Bay Aqqal نے کہا:

    مہربانی فرماکر پبلشر صاحبان جواب مرحمت فرمائيں ، مناسب نہیں کہ استفسار گھوڑے سے کیا جاۓ مگر جواب گدھا دے۔

    جواب دیں

    • علامہ ایاز نظامی نے کہا:

      Bay Aqqal صاحب!
      ایک طرف تو آپ دوسروں کی جانب سے غیر مناسب زبان کے استعمال پر تبصروں سے بائیکاٹ کی دھمکی دیتے ہیں اور دوسری طرف پھر اس کا ارتکاب بھی کرتے ہیں، یہ مناسب نہیں، حزب اختلاف کو تو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن آپ سے گذارش کر سکتے ہیں اور امید کرتا ہوں کہ آئندہ خیال رکھیں گے۔ دانیال تیموری صاحب ہمارے لئے بے حد قابل احترام ہیں اور یہ سچائی ڈاٹ کام کے ایڈمن ہیں۔
      آپ کے سوال کا جواب تو ویسے دانیال تیموری صاحب نے دے دیا تھا، اس مضمون کی اشاعت کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہم جنس پسندی کے بارے میں حقائق سے یکسر صرف نظر کرتے ہوئے سوچ قائم کی جاتی ہے، جو بالکل درست نہیں ہے، ہم جنس پسندی ایک فطری عمل ہے، اس کے فطری ہونے کے بارے میں مضمون میں کافی دلائل دے دیئے گئے ہیں، اسے غیر فطری سمجھنا قطعی طور پر غیر حقیقی سوچ ہے۔

      جواب دیں

      • Bay Aqqal نے کہا:

        میرے comments کا محرک دانیال تیموری صاحب کا ابتدائیہ ھے ( حیرت ہے آپ لوگوں پر۔ آپکی مثال وہی ہے کہ ساری رات داستان سنتے رہے اور پھر صبح اٹھ کر پوچھ رہے تھے کہ مجنوں عورت تھا یا مرد۔ ) ایمان سے کہئے نظامی صاحب ، کیا یہ irritating نہیں ھے ۔ اس کے باوجود دست بستہ معافی کا طلب گار ھوں۔۔۔۔

        جواب دیں

  5. Shayhak نے کہا:

    آپ کے آرٹکلز میں پڑھتا رہتا ہوں، اس لئے کہ یہ غیر مذہبی ہوتے ہیں۔ ہر بات میں مذہبی تاویلات پڑھتے اور ہر چیز کو مذہب سے وابستے کرنے والے آرٹیکلز پڑھ کر ایک قسم کی بیزاری ہو گئی کہ ہر معاملے کو ایک ہی نظر سے کیوں دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس بنیاد پر آپ کے آرٹیکلز اس امید کے ساتھ پڑھتا رہا ہوں کہ یہ کچھ مختلف قسم کا طرزِ فکر ہوگا۔
    مگر دوست، آپ کے آرٹیکلز تسلسل کے ساتھ پڑھنے سے معلوم ہوا ہے اس طرزِ فکر اور مذہبی طرزِ فکر میں صرف رائے کا فرق ہے، طرزِ فکر ایک ہی ہے۔ وہ ہر بات کو مذہبی بنیادوں پر ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور آپ عقلی بنیادوں پر۔ دیکھا جائے تو یوں ہے کہ دونوں نے دو مختلف رنگ کے چشمے پہنے ہوتے ہیں اور منظر کے رنگ پر تبصرہ کر رہے ہیں۔
    پیارے دوست، روشن خیالی اور جدت کے معنی یہ ہرگز نہیں ہیں کہ ہم ایک دوسرے کو مات دینے پر اتر جائیں،اگر دیکھا جائے تو یہ تو بالکل ایک نابالغ رویہ ہے ۔

    پیارے دوست، آپ نے جس پیمانے پر ہم جنس پرستی کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ذرا غور کریں کہ کیا وہ پیمانہ واقعی درست ہے؟ آپ نے اپنی دعوے کی بنیاد اس پیمانے پر رکھی ہے کہ چونکہ ہم جنس پرستی کا رجحان مختلف جانوروں میں پایا جاتا ہے، اس لئے یہ درست اور عین فطری ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا پیمانہ ایماندارانہ طور پر سچائی تک پہنچنے کی کوشش ہے یا اپنی بات ثابت کرنے کے لئے محض ایک دلیل؟ اگر دیکھا جائے تو یہ قیاس کرنا لغو بات ہوگی کہ انسان اپنے رویے کی بنیاد جانوروں کے رویے پر رکھے کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ جانوروں کے رویے بہرطور مفید اور موثر ہوں۔ جبکہ اس بارے میں آپ نے بہت ہی بحث بھی نہیں کی ہے ہم جنس پرستی کا رویہ کس حد تک مفید اور ضروری ہے۔ بطورِ ایک نفسیات کے اسٹوڈنٹ میں نے یہ دیکھا اور سمجھا ہے کہ انسان اپنے نفسیاتی بنیاد کے لئے جانوروں کے رویے کو رہنما نہیں بنا سکتا کیونکہ جانور کا رویہ چاہے کتنا ہی جنرل کیوں نہ ہو، وہ غیر صحت مند ہو سکتا ہے۔ بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم طے کریں کہ کوئی رویہ انسانی معاشرے کے لئے کس حد تک معاشرتی اور نفسیاتی بنیادوں پر ضروری اور مفید ہے۔ دوسری بات یہ کہ بطورِ ایک نفسیات کے طالب میں نے اتنا پڑھا ہے کہ انسان اور جانور میں نفسیاتی بنیادوں پر فرق یہ ہے جانور جبلتوں پر عمل کرتے ہیں اور مفید و مضر کے مسئلے سے بے فکر ہوتے ہیں جبکہ انسان اپنے رویے پر اختیار رکھتا ہے اور مفید و مضر کی بنیاد پر اپنے رویے تشکیل دے سکتا ہے۔ ایک اور بات بھی یہاں کہنا ضروری سمجھوں گا کہ سائنس ایک مطلق علم نہیں ہے اور نہ ہی حتمی، سائنس امکانات کی بات کرتی ہے اور ہر لمحہ اپنے آپ میں تبدیل ہونے کا رویہ رکھتی ہے۔ سائنس کو علم کل بنا کر پیش کرنا کوئی صحت مند اور بالغانہ رویہ نہیں ہے بلکہ یہ خود سائنسی مزاج کے خلاف ہے۔ جہاں تک عقل کو رہنمائے کل بنانے کی بات ہےتو ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ شعور عقل سے بہت بڑا ہے، اور عقل اسکا ایک چھوٹا سا حصہ۔انسان ایک عقلی وجود کم اور ایک جذباتی وجود زیادہ ہے۔ اس کے لئے چیزیں جذباتی بنیاد پر حیثیت رکھتی ہیں، ان چیزوں کی قیمت جذباتی ہوتی ہے عقلی نہیں ہوتی۔
    اگردیکھا جائے تو آج ہم جن نفسیات دانوں کے نظریات کے حوالے بڑے فخر سے دیتے ہیں وہ بھی سائنسی معیار پر پورا نہیں اترتے، مثال کے طور پر فرائیڈ یا یونگ، مگر ہم کہتے کہ شاید آگے چل کے سائنسی طریقہء کار میں کچھ ایسی تبدیل آ جائے کہ وہ ان کو تسلیم کر سکے۔
    دانش کا تقاضہ کہتا ہے کہ ” وہ پیڑ سوکھا رہ جائے گا جو یہ ضد کرے کہ وہ بہارے کو سمجھے بغیر تسلیم نہیں کرے گا”
    پیارے دوست، امید ہے کہ آپ میری رائے کو غور سے پڑھو گے اور اس میں اگر کوئی خامی ہے تو اس کی نشاندہی کرو گے۔ (یہ سب میں نے ای میل کے ذریعے سے بھیجا تھا مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا)

    جواب دیں

    • Abeeha Ayan نے کہا:

      آپ سائیکالوجی کے طالب علم ہیں جان کر خوشی ہوئ. آپ نے فرمایا کہ انسان جانوروں کے کردار سے راہنمائی نہیں لے سکتا لیکن ایک نفسیات کے طالب علم ہونے کی حیثیت سے آپ نے یہ بھی ضرور پڑھ رکھا ہوگا کہ جانوروں کے سادہ کردار کو سمجھتے ہوۓ یا مد نظر رکھتے ہوۓ انسان کے پیچیدہ کردار کی وضاحت کی جاتی ہے. . یعنی اک ماہر نفسیات جانور کے کردار کو اگنور نہیں کر سکتا. یقینن آپ نے آموزش سے متعلقہ تمام تھیوریز بھی پڑھ رکھی ہو نگی مجھے ان کی تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں . اگلا پوائنٹ آپ نے عقل اور شعور کا اٹھایا عقل اور شعور.دونوں الفاظ ہی انفارمل ہیں لیکن آپ نے کہا کہ شعور عقل سے بڑا ہے تو معذرت کے ساتھ یہ ایک علمی مغالطہ ہے عقل ایک وسیع ٹرم ہے جو شعور کے سسٹم میموری اور وقوف کا احاطہ کرتی ہے. اور شعور فقط حالیہ آگا ہی کو کہا جاتا ہے…. واٹسن آپ بھی بخوبی جانتے ہوں گے کہ وہ شعور کو اہمیت نہیں دیتا نہ ہی کرداریت کے ماہرین شعور جیسی ٹرمنالوجی کو تسلیم کرتے ہیں کیونکہ اسکی تجربی نفسیات میں کوئی اہمیت نہیں پھر آپ نے فرمایا کہ انسان عقلی وجود کم اور جذباتی وجود زیادہ ہے. یہ بات درست نہیں ہے. ہر انسان میں یہ دونوں چیزیں بالکل توازن میں موجود ہیں اگر ان کا توازن بگڑ جائے تو انسان نارمل نہیں رہ سکتا. کیونکہ دونوں چیزوں کا ماخذ برین ہے جو بیلنس بناۓ رکھتا ہے. امید ہے ایک سائیکالوجی کے سٹوڈنٹ ہونے کے ناطے یہ بات بخوبی سمجھ گئے ہونگے.
      Regards
      Abeeha Ayan.

      جواب دیں

      • Shayhak نے کہا:

        جناب،
        میرا مقصد ایک مختلف سمت کی طرف اشارہ کرنا تھا اور جو باتیں میں نے کہی تھیں وہ کسی بات کو رد کرنا نہیں بلکہ اس کو مختلف پہلوؤں سے وسعت دینا تھا، سائنس کبھی حتمی رائے کا رجحان نہیں رکھتی خاص طور پر سماجی اور رویے کی سائنس، اور نہ کہ میں اپنی دعوے کو حتمی فیصلہ سمجھتا ہوں۔ بس کچھ چیزوں کی وضاحت کرنا ضروری سمجھوں گا جیسا کہ شعور، جس سے میری مراد تمام تر ذہن اور عقل سے مراد اس کا وقوفی (Cognitive) حصہ تھا جو کہ ریشنا لیٹی اور منطق کا ذمہ دار ہے۔ واٹسن اور اس کے بعد کے کرداری نفسیات دانوں(اسکنر، تورنڈائیک ویغیرہ) نے جو موقف پیش کیا ، اس کا تو آپ کو پتہ ہے کہ وہ انسانی نفسیات کی کس حد تک ترجمانی کرتا ہے اور ان کا شعور کو رد کرنا آج کوئی اہمیت نہیں رکتھا۔
        میں نے یہ بھی ہرگز نہیں کہا کہ جانوروں کے رویے سے رہنمائی حاصل نہیں کی جا سکتی، بلکہ یہ کہا تھا کہ وہ رویہ کس حد تک مفید، موثر اور ضروری ہے، اس بنیاد پر فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
        آخری بات یہ کہ دوست، میں اپنی بات کو سچ اور حتمی ثابت کرنے کا کوئی رجحان نہیں رکھتا اور نہ ہی آپ کی بات کو رد کرنے کا۔ جن تنائج تک میں اس وقت تک پہنچا ہوں، ان کا آپ کے سامنے رکھنا ضروری تھا۔ شاید میرا اور آپ کا، ہم سب کا ایک ہی رجحان ہے کہ بہتر نتائج تک پہنچنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

        جواب دیں

  6. abdullah نے کہا:

    میں ایک ہم جنس پرست ہوں اور اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ یہ فطری ہے، شادی ہونے سے پہلے تک میرا خیال تھا کہ میں یہ چھوڑ سکتا ہوں مگر اب ۲ بچوں کا باپ ہوں مگر اب پتا چلا ہے کہ یہ اختیاری فعل نہیں۔
    میں بہت اچھا مسلمان تھا مگر روز روز کے احساس گناہ نے مجھے مذہب سے دور کردیا اور اب یہ بات میرے زہن میں راسخ ہوچکی ہے کہ یہ ایک فطری فعل ہے اور مزہب کا کوئی حق نہی اس بارے میں سزایئں متعین کرتا پھرے۔ آپ کہ سکتے ہیں کہ میری اس sexual orientation اور مذہب کی حد بندی نے مجھے ملحد بنا دیا۔ میں اپنے ذہن میں اٹھنے والے سوالوں کا جواب لاکھ جستجو اور کوشش کے باوجود نہ حاصل کرپایا اور بالاخر مذہب سے جان چھڑا بیٹھا۔
    لیکن اس سب کے باوجود میرے کچھ سوالات ہیں:
    اگر جانوروں کو مثال بنایا جاے تو سانپ اپنے بچے کھا جاتا ہے، کیا انسان بھی ایسا کر سکتے ہیں، کیوںکہ یہ بھی فظری ہے۔
    دوسرا یہ کہ اگر آپ ہم جنس پرست ہیں تو آپ کا خاندانی نظام ضرور تباہ ہوگا اگر آپ نے شادی کر لی ہے تو۔
    میرا ذاتی تجربہ ہے مجھے اپنی بیوی میں کوئی دلچسپی نہیں، وہ سمجھتی ہے کہ میرے دوسری عورتو٘ں کے ساتھ تعلقات ہیں جس وجہ سے میں اس میں دلجسپی نہیں لیتا۔ اور اس بات پر آئے روز جھگڑے ہوتے ہیں۔
    نہ ہی مجھے اپنے بچوں میں کوئی خاص دلچسپی ہے۔

    جواب دیں

    • Arlene Rose نے کہا:

      پہلی بات تو یہ ہے کہ سانپ اپنے بچے نہیں کھاتا یہ ایک دیسی محاورہ ہے جسمیں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ سپنی اپنے بچے اپنے منہ میں ڈال کر محفوظ مقام پر ضرور منتقل کرتی ہے۔

      ہمجنس پرستی فطری اور قدرتی عمل ہے، ایک موصوف نے اسی مضمون پر سوال اٹھایا کہ پھر تو چیر پھاڑ بھی فطری ہے، تو جناب چیر پھاڑ کسی کی زندگی ختم کرتی ہے، مگر یہ بھی یاد رکھیں کے جانوروں کی دنیا میں چیر پھاڑ زیادہ تر صرف اور صرف خوراک حاصل کرنے کے لئے کی جاتی ہے۔ مگر اگر آپکا مطلب چیر پھاڑ سے قتل و غارت ہے تو یاد رکھیں کہ قتل غارت سے معاشرہ قائم ہی نہیں رہ سکتا، اور قتل و غارت معاشرے کے انصاف کے نظام کو ہی یکسر پلٹ کر رکھ دیتی ہے۔

      باقی وہ موصوف جنہوں نے یہ سوال اٹھایا میری بات کو سمجھ ہی نہیں پائے میرے مضمون میں قدرت میں موجود ہمجنسیت کو لے کر خدا پر سوال اٹھایا گیا ہے، کیونکہ یہ فطرت انسانوں اور جانوروں دونوں ہی میں پائی جاتی ہے، چلیں اگر مان بھی لیں کہ خدا نے انسان کو ایسی فطرت نہیں دی اور وہ اپنی مرضی کے مطابق ہی ہمجنسیت کا رویہ اختیار کرتا ہے، مگر جانوروں کو تو ہمجنسیت کی فطرت خدا ہی نے دی ہے، اور اگر خدا نے دی ہے تو پھر خدا ان کے ہمجنسیت کے گناہ میں برابر کا شریک ہوا، منطقی نتیجہ یہی بنتا ہے۔

      مگر خالصتاً سائنسی طور پر دیکھا جائے تو انسانوں اور جانوروں دونوں میں ہمجنسیت کا پایا جانا اس بات کی نشاندھی کرتا ہے کہ ہمجنسیت ایک فطری رویہ ہے۔ اور قدرت میں موجود ہے۔ باقی اسکو قتل و غارت سے منسوب کرنا دراصل ایک fallacy ہے کیونکہ قتل و غارت سے ایک انسان کی جان جاتی ہے، مگر باہم رضامندی کی ہمجنسیت سے کسی کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔

      abdullah نے کہا
      ////دوسرا یہ کہ اگر آپ ہم جنس پرست ہیں تو آپ کا خاندانی نظام ضرور تباہ ہوگا اگر آپ نے شادی کر لی ہے تو۔
      میرا ذاتی تجربہ ہے مجھے اپنی بیوی میں کوئی دلچسپی نہیں، وہ سمجھتی ہے کہ میرے دوسری عورتو٘ں کے ساتھ تعلقات ہیں جس وجہ سے میں اس میں دلجسپی نہیں لیتا۔ اور اس بات پر آئے روز جھگڑے ہوتے ہیں۔////

      یہ کچھ آپکی ہمجنسیت کے باعث نہیں ہوا بلکہ آپ کے اندر موجود اپنی ہمجنسیت کو لے کر جو کنفیوزن ہے اسکی وجہ سے ہوا ہے۔

      اور آپکی آخری بات کے آپکو اپنے بچوں میں کوئی دلچسپی نہیں، دنیا میں ایسے بہت سے ہمجنسیت پر عمل پیراء لوگ ہیں جو آج بچے گود لینے کے حقوق حاصل کرنے کے لئے دنیا میں بڑی بڑی تحریکیں چلا رہے ہیں۔ لیزبئین جوڑے تو بڑے آرام سے سپرم ڈونر کے ذریعے اولاد حاصل کر لیتے ہیں۔

      جواب دیں

  7. ارشاد سہیل نے کہا:

    جناب تحریر بڑی دلچسپ ہے۔ تبصرے بھی قابل غور وفکر ہے۔
    تحریر میں جملہ امور پر غور کرنے کے بعد بہت سے سوالات آتے ہیں جس کا جواب فاضل مصنف کو دینا ہوگا۔
    اگر مصنف کے خیال میں ہم جنس پرستی عین فطرت ہے اور یہ جانوروں میں ابتداء سے پائی جاتی ہے تو قتل بھی عام ہے۔ قتل کرنا ، مار ڈالنا بھی جانوروں میں پایا جاتا ہے۔ تو کیا یہ بھی ہم جانوروں سے اخذ کرلیں۔ قتل و غارت گردی بھی تاریخ کی ابتدائی تاریخ سے پائی جاتی ہے۔ قتل کی تاریخ بھی بہت پرانی ہے ، شاید تفصیلات کی ضرورت نہیں ہے۔
    جناب عالیٰ اچھی اور بُری چیزکا فیصلہ کسی چیز کے عالم وجود میں ہونے سے نہیں کیا جاتا ہے اگر اس طرح ہوتا تو ہر بُرے چیز بتدائی سے پائی جاتی ہے ۔
    مصنف نے ایک جگہ لکھا کہ انسان صحیح اور بُرے چیز میں امتیازکرسکتا ہے اور جانور اس سے قاصر ہے۔ تو میرا سوال ہے پھر جانوروں سے سبق کیوں حاصل کررہے ہو۔ جانوروں کے فعل سے دلیل کیوں قائم کی جارہی ہے۔ یا پھر انسانی عقل ہی سب کچھ جانتی ہے اور کچھ فیصلہ کرسکتی ہے تو انبیاء اور کتابیں کیوں نازل کی جاتی۔
    اگر جانور اور جانور کی افعال ہمارے لیے دلیل ہے تو قرآن و حدیث اور شریعت اور اخلاقی تعلیم کو نظر انداز کرکے جانوروں کی افعال و حرکات کو دلیل و شریعت بنالیں۔
    اس طرح وہی کرسکتا ہے جو واقعی جانور ہو ۔ اور اس کی عقل بھی جانوروں جیسی ہو۔

    جواب دیں

  8. Arlene Rose نے کہا:

    Abdullah کو دئے گئے جواب ہی میں آپکا جواب ہے

    جواب دیں

تبصرہ کریں