اصول حدیث، تنقیدی مطالعہ

May 18, 2016

مصنف: - زمرہ: تنقید, مذہب

AsmaurRijaal

تاریخ قوموں کے عروج و زوال کی داستان ہوتی ہے جس سے قومیں اپنی خوبیوں اور خامیوں سے آگاہ ہو کر بہتر سے بہتر کی طرف گامزن ہوتی ہیں۔ جو قومیں اپنی تاریخ کو مسخ کرتی ہیں، تاریخ انہیں مسخ کر دیتی ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ خود کو سب سے بہتر ین اُمت ثابت کرنے کے چکر میں اپنی تاریخ کو انتہائی لایعنی قسم کے اصول و ضوابط کے سہارے مسخ کر ڈالا۔

حدیثی و تاریخی روایات سے اسلام کی جو تصویر کشی ہوتی ہے وہ اس اسلام سے یکسر مختلف ہے جس کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔ اب چونکہ یہ بات سب سے بہترین اُمت ہونے کے دعویٰ کی بنیاد منہدم کرنے کے مترادف تھی، اس لئے ایسے اصول و ضوابط مرتب کئے گئے، جن کے سہارے ان احادیث و روایات سے جان چھڑائی جا سکے۔ ہر آنے والے دور میں امت مسلمہ کے آئمہ و محدثین ایسے ایسے اصولوں کی تعداد میں اضافہ کرتے رہے جن سے ان کے متقدمین بالکل لاعلم تھے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر نیا آنے والا دن مسلمانوں کے نزدیک “مستند” احادیث و تاریخ کو مختصر کرتا گیا اور “رطب و یابس” کا نام دے کرکثیر روایات کو ترک کرنے کا وطیرہ اپنا لیا گیا۔ جس کو دیکھ کر یہی ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے بڑے بڑے آئمہ و محدثین نے شاید سوائے”فضول اور خلافِ اسلام” روایات اکٹھی کرنے کے کچھ نہیں کیا۔

اس کے مقابلے میں حقیقت یہ ہے کہ بڑے بڑے آئمہ و محدثین اپنے طور پر جمع کرنے کے لحاظ سے بہت بہترین کام کر گئے تھے لیکن ان روایات سے “ظاہر اسلام” کو ہر آنے والا دن چیلنج کر رہا تھا اور ان روایات کو پھر ایسے اصولوں کی بھینٹ چڑھایا گیا جن کی بنیادیں انتہائی کھوکھلی تھیں اورجن پر عمل کبھی ممکن ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کے بڑے بڑے آئمہ ان اصولوں کی مالا جپتے ضرور نظر آتے ہیں لیکن عملاً ان کو اپنا نہیں سکے۔ ان اصولوں کا صرف یہ فائدہ ہوا کہ جب بھی مخالف نے کسی روایت سے استدلال کیا تو ان اصولوں کے سہارے اس کو ضعیف قرار دے دیا گیا۔

اس مختصر تمہید کا مقصد صرف یہ ہے کہ اختصار کے ساتھ اس نظریہ ضرورت کو واضح کیا جا سکے جس کی خاطر اصول حدیث اور جرح و تعدیل کے وہ ضوابط بنائے گئے ، جن کی بنیاد سوائے ایک دوسرے کو بلادلیل تعریف و تنقید کا نشانہ بنانے اور اپنی مرضی کی روایات و قبول و رَدّ کرنے کے کچھ نہیں تاکہ مخالفین کو ان بے بنیاد اصولوں میں الجھا کر ان روایات سے گلوخلاصی کروائی جا سکے جو اسلام کا اصلی چہرہ عیاں کرتی ہیں اورجو مسلمانوں کے ہی بڑے بڑے آئمہ و محدثین نے اپنی مایہ ناز کتب میں بطور خبر بلکہ بہت جگہ بطور استدلال پیش کر رکھی ہیں۔

میری کوشش ہو گی کہ “اصول حدیث “کے نام پر پیش کئے جانے والے اصول و ضوابط کو دلائل کے ساتھ پیش کروں اور پھر ان پر تبصرہ کرتے ہوئے دلائل کے ساتھ ان کے بودے پن اور آپسی تضادات کو واضح کروں تا کہ یہ بات کھل کر ثابت ہو جائے کہ اصول حدیث کوئی علم نہیں بلکہ محض مختلف وقت کے مختلف لوگوں کی مختلف آراء کا ڈھیر ہے جس میں ہر شخص اپنی اپنی مرضی کی چیزیں اٹھا کر اپنے استدلال اور مخالف کی تردید میں پیش کر دیتا ہے ۔ روایات کو ضعیف و ناقابل استدلال ثابت کرنے کے چکر میں ایسے ایسے نا قابل عمل اصول بنائے گئے کہ بیچارے مسلمان آج اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم )کی کوئی ایک سیرت کی کتاب بھی ایسی پیش نہیں کر سکتے جس میں ان اصولوں کو مد نظر رکھا گیا ہو بلکہ اس مبارک کام کے لئے بھی مسلمانوں کو انہی روایات کا لینا مجبوری ہے جو ان اصولوں کے تحت ضعیف و مردود قرار پاتی ہیں۔

اس سلسلے میں یہ بھی یاد رہے کہ ہمارا تبصرہ اور اٹھائے گئے سوال انہی بنیادوں پر پوں گے جن کے تحت یہ اصول بنائے گئے تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ یہ اصول محض دکھانے کے ہیں کھانے کے نہیں۔ یہ وضاحت اس لئے ضروری ہے کہ کوئی ہمارے تبصرے سے یہ نہ سمجھ لے کہ ہم ان اصولوں کو صحیح سمجھتے ہوئے صرف ان کے عمل میں نہ آنے پر تنقید کر رہے ہیں بلکہ اصولی طور پر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سارے اصول حدیث صرف دفع الوقتی کے لئے ہی بنائے گئے تھے ورنہ اصول و ضوابط کی یہ صورت کبھی نافذ العمل ہی نہیں ہو سکتی۔

اس ضمن میں حدیث اور جرح و تعدیل کے بنیادی ترین اصول پر ہماری گزارشات پیشِ خدمت ہیں جو یہ واضح کرنے کے لئے کافی ہیں کہ جس علم کی بنیاد ہی ایسے کھوکھلے اور من پسند اصول پر رکھی گئی ہو، اس کی باقی عمارت کا حال کیا ہو گا؟

خبر و روایت کی تحقیق کا اصول
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

کسی خبر یا روایت کی تحقیق کیوں کی جائے اس کے لئے مسلمان علماء قرآن کی ایک آیت سے استدلال کرتے ہیں جو کچھ یوں ہے:

“اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو(مبادا) کہ کسی قوم پر نادانی سے جا پڑو، پھر اپنے کئے پر پچھتانے لگو۔ (الحجرات:6)

مولانا مودودی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: “اسی قاعدے کی بنا پر محدثین نےعلم حدیث میں جرح و تعدیل کا فن ایجاد کیا۔۔۔۔اور فقہاء نے قانونِ شہادت میں یہ اصول قائم کیاکہ کسی ایسے معاملہ میں جس سے کوئی شرعی حکم ثابت ہوتا ہویا کسی انسان پر کوئی حق ثابت ہوتا ہو، فاسق کی گواہی قابل قبول نہیں۔” (تفہیم القرآن: ج5 ص74)

پیر کرم شاہ الازہری اس آیت کی تفسیر میں مشہور مفسر امام ابوبکر الجصاص کے حوالے سےلکھتے ہیں: “یعنی اس آیت کا مقتضی یہ ہے کہ فاسق کی خبر کی تحقیق کرنا واجب ہے۔۔۔۔۔ فاسق کی شہادت مردود ہو گی۔ روایتِ حدیث میں بھی اس کا کوئی اعتبار نہ ہو گا۔ کسی قانون، کسی شرعی حکم اور کسی انسان کے حق کے ثبوت کے لئے بھی اس کی خبر غیر معتبراور غیر مقبول ہو گی۔” (ضیاء القرآن: ج4 ص585)

حدیثِ نبوی میں پی ایچ ڈی لقمان السلفی لکھتے ہیں: “یہ آیت دلیل ہے کہ فاسق کی خبر رد کر دی جائے گی اور خبر دینے والا چاہے راوی ہو، شاہد ہو، یا مفتی ہو، اس کا ثقہ اور عدل ہونا ضروری ہے، اور اگر وہ ثقہ و عادل ہے تو اس کی روایت قبول کی جائے گی، اگرچہ وہ اکیلا راوی ہو۔”
(تیسیر الرحمٰن لبیان القرآن: ص1449، ناشر دارالداعی للنشر و التوزیع، ریاض)

امام المفسرین ابن کثیر نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا: “اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ فاسق کی خبر کا اعتماد نہ کرو۔”
(تفسیر ابن کثیرمترجم: ج5 ص89، طبع مکتبہ اسلامیہ، لاہور)

مشہور محدث امام مسلم نے اس آیت کو پیش کرتے ہوئے کہا: “ثابت ہوا کہ فاسق کی خبر ساقط اور ناقابل قبول ہے۔”
(صحیح مسلم مع اُردوترجمہ: مقدمہ،ج1 ص53، طبع دارالسلام )

کچھ آگے اور لکھا: “جہاں اہل علم کے ہاں فاسق کی خبر ناقابل قبول ہے وہاں ان تمام کے ہاں اس کی گواہی (بھی) مردود ہے۔ ”
(صحیح مسلم مع اُردوترجمہ: مقدمہ،ج1 ص53، طبع دارالسلام )

ان تمام مستند حوالہ جات سے ثابت ہے کہ کسی بھی خبر اور روایت کو قبول کرنے لئے یہ اصول اور قاعدہ اہل اسلام کے ہاں مسلمہ ہے کہ اس کا راوی ثقہ و مستند ہو۔ اس کے برعکس فاسق کی خبر اور روایت نا قابل قبول اور مردود قرار پائے گی۔ اصول حدیث کے انتہائی دقیق اور بڑے بڑے علماء تک کے ہاں بھی “سمجھ میں آنے کی ہے نہ سمجھانے کی” جیسے ضابطوں کے مقابلے میں یہ انتہائی بنیادی ترین اور آسان فہم اصول ہے۔ مگر آنے والے شواہد یہ بات ثابت کریں گے کہ اس بنیادی اصول کو انتہائی کھوکھلی بنیادوں پر استوار کیا گیا ہے اور محض اپنی مخصوص اغراض و مقاصد کی خاطر ہی استعمال کیا گیا۔ چنانچہ

1) اس اصول کے بنانے والوں نے اس حقیقت کو بالکل فراموش کر دیا کہ جس آیت سے استدلال کرتے ہوئے راویوں کے لئے فاسق نہ ہونے کی شرط عائد کی جا رہی ہے وہ دوسرے راویوں سے پہلے خود صحابہ کرام کے دور میں ان کے لئے ہی اتری تھی۔ چنانچہ اس آیت کے متعلق امام المفسرین حافظ ابن کثیر نےلکھا:

“اکثر مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ یہ آیت ولید بن عقبہ بن ابو معیط کے بارے میں نازل ہوئی تھی جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قبیلہ بنومصطلق سے زکوٰۃ لینے کے لئے بھیجا تھا۔” (تفسیر ابن کثیرمترجم: ج5 ص89، طبع مکتبہ اسلامیہ، لاہور)

“سلف میں سے حضرت قتادہ کے علاوہ اور بھی بہت سے حضرات نے یہی ذکر کیا ہے جیسے ابن ابی لیلیٰ، یزید بن رومان، ضحاک، مقاتل ابی حیان وغیرہ۔ ان سب کا بیان ہے کہ یہ آیت ولید بن ابی عقبہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، واللہ اعلم۔”
(تفسیر ابن کثیرمترجم: ج5 ص91، طبع مکتبہ اسلامیہ، لاہور)

لقمان السلفی نے لکھا کہ “ابن قتیبہ نے اپنی کتاب “المعارف” میں لکھا ہے کہ ولید بن عقبہ بن ابی معیط ، عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا سوتیلا بھائی تھا۔ دونوں کی ماں اردیٰ بنت کریز تھی، فتح مکہ کے دن اسلام لایا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بنی مصطلق کی زکاۃ لانے کے لئے بھیجا تھا لیکن وہ راستہ سے ہی واپس آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دیا کہ انہوں نے زکاۃ دینے سے انکار کر دیا ہے، وہ جھوٹا تھا۔ اسی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔”
(تیسیر الرحمٰن لبیان القرآن: ص1449، ناشر دارالداعی للنشر و التوزیع، ریاض)

ان حوالہ جات سے بالکل واضح ہے کہ اصحاب رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) میں ایسے ایسے لوگ بھی موجود تھے جو خود محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے جھوٹ بولتے بھی نہ شرماتے تھے اور جن کے فاسق ہونے پر قرآن نے گواہی دی۔ کسی کو اپنے ہی جمہور مفسرین کے خلاف اس آیت کے شان نزول پر اختلاف ہو تو ہو لیکن اس بات سے تو اختلاف ممکن نہیں کہ یہ آیت صحابہ کے دور میں ہی نازل ہوئی تھی، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ خود اصحاب رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) میں بھی فاسق ہو سکتے ہیں اور ان کی خبر اور روایت بھی ناقابل قبول قرار پائے گی۔

مگر محدثین کی کمال چابکدستی دیکھئے کہ جس آیت سے استدلال کرتے ہوئے دوسرے راویوں پر جرح و تعدیل کا سارا بے بنیاد سلسلہ شروع کیا، وہ آیت جن کے لئے اتری تھی ان کے بارے میں اصول یہ بنا دیا کہ

“امت کا تمام صحابہ کرام کی عدالت پر اجماع ہے اور ان صحابہ کرام کی عدالت پر بھی جو ان میں سے فتنہ میں مبتلا ہو گئے، ان سے حسن ظن رکھنے اور دین کے لئے عظیم خدمات پیش کرنے کے سبب، گویا اللہ نے امت کو ان کی تعدیل پر جمع کر دیا، اس لئے کہ وہ اس کے دین کے ناقلین ہیں۔”
(معرفۃ انواع علوم الحدیث لابن صلاح: ص 171 بحوالہ علم جرح و تعدیل: ص 97، ڈاکٹر سہیل حسن)

اسی طرح مشہور امام حافظ ابن عبدالبر فرماتے ہیں: “تمام صحابہ عادل، رضایافتہ، ثقہ اور ثبت ہیں اوراس پر محدثین کا اجماع ہے۔”
(التمہید لابن عبدالبر22/47، بحوالہ علم جرح و تعدیل، ص 96،ڈاکٹر سہیل حسن)

؎ تیری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہی تیرگی جو میرے نامہ سیاہ میں تھی

٭ کیا اصحاب رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) میں ولید بن عقبہ بن ابی معیط جیسے لوگ نہ تھے جو نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے بھی جھوٹ بولتے نہ شرماتے تھے اور جو اکثر مفسرین کے نزدیک قرآن کی رُو سے فاسق قرار پائے اور جس کے باپ عقبہ بن معیط نے جب قتل ہوتے وقت اپنی اولاد کے کفیل کے بارے میں سوال کیا تھا تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے جواب میں” آگ “کہا تھا ۔ (سنن ابو داؤد، حدیث 2686)

٭ کیا اصحاب رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) میں ایسے لوگ نہ تھے جن کو حدود میں رجم کیا گیا اور جن کو کوڑے مارے گئے؟ یہ بھی یاد رہے کہ کسی پر بھی حدود کا نفاذ اس پر فاسق ہونے کاالزام ثابت کرنا ہے۔

٭ کیا صحابہ کرام میں ایسے نہ تھے جو ایک دوسرے پر منافقین کا کردار ادا کرنے اور منافقین کا دفاع کرنےکے الزامات عائد کرتے؟ (صحیح بخاری، حدیث 4141، 4750)

٭ کیا وہ لوگ صحابہ کرام میں سے ہی نہ تھے جنہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیوی عائشہ تک پر محض سنی سنائی باتوں سے انتہائی گھناؤنے الزامات عائد کئے۔ جن میں سے تین پر جھوٹے الزام لگانے کی حدِ قذف خود نبی (صلعم) نے جاری کی (سنن ابو داؤد: 4474) اور جن میں سے ام المومنین زینب کی بہن حمنہ کے لئے عائشہ نے خود کہا کہ ” ہلاک ہونے والوں کے ساتھ وہ بھی ہلاک ہوئی تھیں۔” (صحیح بخاری: حدیث 4141، 4750) اور حسان جیسے صحابی کو عائشہ کے سامنے ان کے شاگرد مسروق نے قرآن کی آیت کے مطابق عذاب عظیم کا مستحق قرار دیا۔ (صحیح بخاری: حدیث 4146)

٭ کیا اصحاب رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) میں ایسے نہیں تھے جن کے لئے خود دوسرے صحابی ابن عباس نے فرمایا کہ “معاذ اللہ !یہ تو اللہ تعالیٰ نے ابن زبیر اور بنو امیہ ہی کے مقدر میں لکھ دیا ہے کہ حرم پاک کی بے حرمتی کریں۔۔۔۔ابن زبیر نے تو دُم دبا لی ہے” (صحیح بخاری: حدیث 4665) اور صحابی رسول ابن زبیر نے ابن عباس کے لئے کہا: “اللہ نے ان کے دلوں کو بھی اندھا کر دیا ہے۔” (صحیح مسلم: حدیث3429، دارالسلام)

٭ کیا ایسی صحابیہ نہیں تھی کہ جس کے بارے ابن عباس نے کہا: “وہ عورت اسلام میں (داخل ہونے کے باوجود) اعلانیہ بُرائی (زنا) کرتی تھی۔” (صحیح مسلم: حدیث3758، دارالسلام)

٭ کیا اصحاب رسول میں امیر معاویہ جیسے لوگ شامل نہ تھی کہ جن کے بارے ثقہ تابعی نے دوسرے صحابی عبداللہ بن عمرو بن العاص کے سامنے گواہی دی کہ “یہ جو آپ کے چچا معاویہ رضی اللہ عنہ ہیں، وہ تو حکم دیتے ہیں کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے کھائیں اور ایک دوسرے کو قتل کریں۔” (صحیح مسلم: حدیث4776، دارالسلام) مزے کی بات یہ کہ صحابی عبداللہ بن عمرو نے اس الزام کو ہرگز نہیں جھٹلایا۔

٭ کیا آپ کے اصحاب میں ہی وہ لوگ نہ تھے جن کے لئے خود محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ “تم لوگ مجھ پر اعتماد نہیں کرتے۔” (صحیح بخاری، حدیث 4351)

٭ کیا ان اصحاب میں وہ بھی شامل نہ تھے جنہوں نے اسلام اس حال میں قبول کیا تھا کہ ان کی گردن پر تلوار رکھی ہوئی تھی۔ (صحیح بخاری: حدیث 4357)

ایسی بہت سی مثالوں کے ساتھ ساتھ یہ کون جھٹلا سکتا ہے کہ دور نبوی کے مسلمانوں میں منافقین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی اور جو وہ تمام حقوق حاصل کئے ہوئے تھے جو دیگر مسلمانوں کو حاصل تھے۔خود محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے بھی کبھی ان منافقین کو دیگر مسلمانوں سے علیحدہ نہ کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد تو اس بات کی گنجائش ہی موجود نہ تھی کہ ان منافقین کو علیحدہ کیا جا سکتا۔ چنانچہ مشہور صحابی خذیفہ سے روایت ہے کہ “نفاق تو نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دور میں تھا، آج کل تو کفر ہے یا ایمان۔” (صحیح بخاری، حدیث7114)

اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ تمام لوگ جو دور نبوی میں مسلمان تھے سمیت منافقین کے، وہ سب کے سب بعد میں درجہ صحابیت پر ہی فائز ہوئے۔ مسلمان علماء اس بات پر کبھی کوئی یقینی بات پیش ہی نہیں کر سکتے کہ ختمی ایمان والے صحابہ اور ختمی منافقین (صحابہ) کو الگ الگ بیان کر سکیں ۔ایسے میں یہ کتنا بڑا دھوکہ ہے کہ اس دور کے تمام کے تمام لوگوں کو پکے ایمان والے صحابہ کے برابر سمجھ کر یک جنبش تحقیق و جانچ پھٹک کے قرآنی اصول سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا۔

2) اس ضمن میں یہ بھی مدِ نظر رہے کہ اس گروہ صحابہ میں بڑی تعداد ان لوگوں کی بھی تھی جو ایک دوسرے کی جانوں کے دشمن ہو گئے۔ جنگ جمل اور جنگ صفین میں بڑے بڑے صحابہ ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہوئے اور ان کی تلواریں اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے خون سے رنگین ہوئیں۔ ہمارے مسلمان بھائی ان جنگوں پر اجتہادی غلطی، نیک نیتی وغیرہ کے جتنے چاہے پردے ڈالیں، یہ بات تو طے ہے کہ ان صحابہ کو ہی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کہا تھا کہ “تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔” (صحیح مسلم، حدیث 225)

اب جن صحابہ نے اس صریح نبوی حکم کی نافرمانی کی ان کی گردنوں کو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بیان کردہ کفر سے بچانے کے لئے جتنی مرضی تاویلیں گڑھ لی جائیں ، وہ کم از کم فسق سے تو نہیں بچ سکتیں اور فاسق کی روایت مردود و ناقابل قبول ہونے کا قرآنی حکم پس پشت ڈال کر تمام کے تمام صحابہ کو تحقیق و تفشیش سے بری قرار دینا ،وہ شکستہ بنیاد ہے جس پر یہ ساری بناوٹی عمارت کھڑی کی گئی ہے۔ جب بنیاد میں ہی تحقیق نہیں کی گئی تو بعد والوں پر تحقیق کی تلوار لٹکانا صرف لوگوں کو دھوکہ دینا ہی ہے۔

3) ایک اور بات جو بہت غور طلب ہے وہ یہ کہ آج ہمیں جو روایات اس طرح ملتی ہیں کہ کسی صحابی نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے روایت کیا، وہ ضروری نہیں کہ اس صحابی نے خود براہِ راست سُنی ہو۔ چنانچہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ایک صحابی براء ابن عازب خود بیان کرتے ہیں کہ “ہم جو روایات بیان کرتے ہیں وہ سب ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنیں، ان میں سے کچھ ہم نے آپ سے سُنی ہیں اور کچھ ہمارے ساتھیوں نے ہمیں بتائی ہیں اور ہم لوگ جھوٹ نہیں بولتے۔”
(مسند احمد: 283/4، محقق شعیب الارنووط، بحوالہ علم جرح و تعدیل: ص 21، ڈاکٹر سہیل حسن)

اس سے پتا چلتا ہے کہ یہ بات بھی یقینی نہیں کہ کس صحابی نے کیا خود سنا تھا اور کیا کسی مجہول صحابی سے؟ اب کوئی یہ بات نہیں جانتا کہ جو کسی صحابی نے کسی دوسرے سے سنا تھا وہ بھی اس کا اپنا سنا تھا یا مزید کسی اور کا؟ پھر ان تمام صحابہ میں پہلے بھی ثابت کیا جا چکا کہ وہ لوگ بھی تھے جو دور نبوی میں منافقین شمار ہوتے تھے۔ انتہائی عجیب بات تو یہ ہے کہ یہ صحابی محض اس بات پر دوسروں پر اندھا اعتماد کئے جاتے کہ ہم میں سے کوئی جھوٹ نہیں بولتا۔ کیا کبھی کسی نے اپنے منہ سے یہ مان کر بھی خبر سنائی ہے کہ وہ جھوٹ بولتا ہے؟ کیا ان کو یہ خبر نہیں کہ قرآن کی وہ آیت جس پر تحقیق و تفشیش کو لازمی قرار دیا گیا وہ اتری اس لئے تھی کہ اس دور میں بھی جھوٹ بول کر خود محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو دھوکہ دیا گیا؟ کیا بڑے بڑے مفسرین و علماء نے یہ نہیں کہا کہ وہ صحابی ہی تھا جو خود محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تک سے جھوٹ بول گیا۔ پھر کیا صرف جھوٹ بولنا ہی ایسا فسق ہے جس کی بنیاد پر خبر کی تحقیق قرآن نے بیان فرمائی؟ ممکن ہے کہ وہ خبر بیان کرنے والا کسی دوسرے کبیرہ گناہ کی وجہ سے فاسق ہو یا کسی اور کمزوری کا شکار ہو اور آپ نے محض صحابی ہونے کی رواداری میں سب قبول کر لیا۔

4) فاسق کی گواہی یا روایت کو قبول نہ کرنے کے لئے ضروری یہ ہونا چاہئے تھا کہ کوئی شخص یا راوی فاسق ثابت کر دیا جائے کیونکہ محض الزام تو کوئی بھی لگا سکتا ہے۔ مگر یہاں آئمہ و محدثین کی جانب سے انتہاء درجے کی بے اصولی دیکھنے کو ملتی ہے وہ یہ کہ محض الزامات کے سہارے کسی بھی راوی کو ضعیف قرار دیا جا سکتا ہے چاہے وہ الزام ثابت ہو یا نہ ہو۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بے شمار راویوں پر جو کلمات جرح و تعدیل نقل کئے جاتے ہیں، ان کی یقینی جانچ پرکھ کا کوئی طریقہ موجود نہیں۔ ایک ہی راوی کو ایک محدث ثقہ قرار دے گا تو دوسرا شدید ضعیف بلکہ بعض اوقات کذاب بھی۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ اگر کذاب تھا تو ثقہ کہنے والے کے پاس کیا دلیل تھی اور اگر ثقہ تھا تو کذاب کہنے والے کے پاس کیا ثبوت تھا؟ صرف یہی نہیں خود ایک امام کی ایک ہی راوی پر مختلف رائے مل جاتی ہے کہ ایک وقت میں اسے ثقہ کہا تو کسی اور وقت ضعیف بھی اور ایسی کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔

یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ یہ جرح و تعدیل محض مختلف محدثین کی ایک راوی پر اپنی اپنی رائے ہے جو کسی ثبوت اور ضابطے کی بنیاد پر نہیں بلکہ محض تاثر پر کھڑی ہے۔ افسوس در افسوس یہ کہ ایک راوی پر دو، تین، چار، پانچ صدیوں بعد آنے والے بھی اس بیچارے کو ثقہ یا ضعیف قرار دینے کی اتھارٹی سمجھے جاتے ہیں۔ کوئی اللہ کے ماننے والا یہ نہیں پوچھتا کہ حضور! اتنے سو سال بعد پیدا ہونے والا کیسے اس راوی پر اپنی گواہی پیش کر سکتا ہے؟ جب ایک دور سے تعلق رکھنے والے کسی شخص پر کسی کا محض الزام کوئی حیثیت نہیں رکھتا تو اتنی صدیوں بعد والے لوگوں کی کیا حیثیت ہے کہ ان کی سُنی سنائی باتوں پر کسی راوی کو ضعیف قرار دے دیا جائے۔

اس سے بڑھ کر اس شکستہ معیار کو کیسے ثابت کیا جائے کہ صحابہ کی فہرست میں شامل ہونے والے کسی بھی شخص کے لئے ثابت شدہ فسق کو بھی تسلیم نہیں کیا گیا اور بعد والے راویوں پر محض الزامات کو فرد جرم بنا دیا گیا۔ اس پر بھی زعم یہ کہ ہمارے اصول بڑے کڑے معیاروں پر کھڑے ہیں اور یہ صرف ایک بنیادی اصول کا حال ہے، باقی

؎ کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا؟

     

, , , , , , ,

تحاریر بذریعہ ای میل

جراتِ تحقیق کی تازہ ترین اور مکمل تحریریں بذریعہ ای میل حاصل کرنے کے لیے ذیل میں اپنا ای میل ایڈریس لکھ کر ارسال کریں کا بٹن دبائیں۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں.

تبصرہ کریں