خدا وجود اور عدم

January 26, 2015

مصنف: - زمرہ: فلسفہ

جب مؤمنین (تمام مذاہب کے) ملحدین کے دلائل کا جواب نہیں دے پاتے تو ان کی آخری پناہ گاہ بگ بینگ نظریہ ہوتی ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ یہ نظریہ خدا کو ثابت کرتا ہے کیونکہ نظریہ کہتا ہے کہ کائنات عدم سے وجود میں آئی، یہاں مؤمنین اس نظریے میں اپنے خدا کو (بغیر اس سے پوچھے) گھسیٹ لاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بگ بینگ خدا نے شروع کیا، دوسرے لفظوں میں خدا نے کائنات کو عدم سے تخلیق کیا، مؤمن بڑے سادہ لوگ ہوتے ہیں، جس الحاد سے وہ بھاگ رہے ہوتے ہیں انجانے میں پھر اسی میں گھر جاتے ہیں، بقول شاعر:

میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

یہ بھی یاد رہے کہ دنیا کے کسی بھی مذہب میں نا تو کوئی بگ بینگ ہے اور نا ہی وجود اور عدم کی کوئی ڈیفی نیشن، حتی کہ کائنات کا بھی کسی مذہب میں کوئی ذکر نہیں ملتا، مذاہب میں صرف انہی چیزوں کا ذکر ہوتا ہے جو ننگی آنکھ سے کسی کو بھی نظر آسکتی ہیں، جیسے زمین، چاند، سورج، ستارے اور آسمان، تمام تر مذاہب میں خدا انہی چیزوں کو تخلیق کرتا نظر آتا ہے، مذاہب کے خدا نے کبھی کائنات تخلیق نہیں کی، نا ہی اس کا ذکر کیا، کیونکہ جب کچھ فراڈیے خدا کے نام پر یہ فرسودہ مذاہب تخلیق کر رہے تھے تب کائنات کا کوئی تصور نہیں تھا، یہی وجہ ہے کہ ان کے خدا بھی کائنات تخلیق کرتے نظر نہیں آتے، مؤمنین کے ایسے استدلال دراصل جدیدیت کی دین ہیں، اب تو ہر سائنسی دریافت میں خدا کو گھسیڑنا ایک فیشن بن گیا ہے جو کہ مؤمن کی ذاتی توجیہ ہوتی ہے اس کے مذہب کی نہیں، ہونا تو یہ چاہیے کہ یہ باتیں صراحت سے مذہب بیان کرے مگر ہوتا اس کا الٹ ہے، جب تک سائنس نے کائنات، کہکشاؤں اور بگ بینگ کا تصور نہیں دیا تھا خدا بھی ان کا خالق نہیں تھا، لیکن جیسے ہی سائنس نے یہ سب دریافت کیا اچانک خدا بھی ان ساری چیزوں کا خالق بن گیا، خدا کو مؤمنین کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ انہوں نے اسے ایسی چیزوں کی تخلیق کا موقع دیا جو اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچی ہوں گی۔

خیر آئیے دیکھتے ہیں کہ مؤمنین الحاد کے چنگل سے بھاگ کر پھر الحاد کے دام میں کیسے پھنس جاتے ہیں۔

ہمارے پاس صرف دو حالتیں ہیں، ❞وجود❝ اور ❞عدم❝، یہ دونوں حالتین کبھی نہیں ملتیں، ❞عدم❝ سے کبھی ❞وجود❝ نہیں آسکتا، اور ❞وجود❝ سے کبھی ❞عدم❝ نہیں برآمد ہوسکتا، تاہم ان دونوں حالتوں کی ایک مشترکہ خصوصیت ہے، اور وہ ہے ❞لا متناہیت❝، اگر ❞عدم❝ ہوگا تو وہ یقیناً ❞لا متناہی❝ ہوگا، اور اگر ❞وجود❝ ہوگا تو وہ بھی یقیناً ❞لا متناہی❝ ہوگا، یہاں ❞لا متناہی❝ سے مراد منظر کا تمام تر ابعاد میں غیاب یا حضور ہے، یعنی اگر ❞وجود❝ ہوگا تو وہ ہر چیز پر محیط ہوگا، اور اگر ❞عدم❝ ہوگا تو وہ بھی محیط ہوگا، اب چونکہ ہم، جانور، کہکشائیں اور خود خدا ❞موجود❝ ہیں لہذا (ماضی میں کسی وقت) ❞عدم❝ کا ہونا محال ہے کیونکہ ❞عدم❝ نا تو کچھ پیدا کر سکتا ہے اور نا ہی کسی چیز کے وجود کی اجازت دیتا ہے، یوں ہم ❞عدم❝ کو بڑے آرام سے ایک طرف کر سکتے ہیں کیونکہ اس سے کچھ پیدا ہونا محال ہے۔

اب خدا کی جو بھی شکل ہے (جیسے چاہیں خدا کا تصور کر لیں) عدم میں وجود نہیں رکھ سکتا کیونکہ خدا ❞شے❝ ہے ❞لا شے❝ نہیں کیونکہ اگر ہم خدا کو ❞لا شے❝ مان لیں تو پھر تو جھگڑا ہی ختم ہوجاتا ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ وجود ہی نہیں رکھتا جو مؤمنین کے عقائد کے بر خلاف ہے، اب چونکہ ❞عدم❝ اپنے اندر کسی چیز کی موجودگی کی اجازت نہیں دیتا چنانچہ یہ لازم ٹھہرا کہ خدا عدم کی متضاد دوسری جگہ یعنی ❞وجود❝ میں موجود ہو، کیونکہ خدا ❞شے❝ ہے ❞لا شے❝ نہیں، اب چونکہ ❞وجود❝ کی لازمی صفت ❞لا متناہیت❝ ہے لہذا وجود ہر چیز اور تمام تر ابعاد پر اس طرح محیط ہوگا کہ کوئی ایسی جگہ نہیں ہوگی جس کا وہ احاطہ نہ کرے، اس طرح یہ بات تو یقینی ہوجاتی ہے کہ ہم اور خدا ایک ہی جگہ میں رہتے ہیں یعنی ❞وجود❝ کے اندر کیونکہ وجود ❞لا متناہی❝ ہوتا ہے۔

اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ ماضی میں کبھی ❞مطلق عدم❝ کی کوئی حالت نہیں رہی کیونکہ ہم اور خدا دونوں وجود رکھتے ہیں اور چونکہ عدم اپنے اندر کسی چیز کے وجود کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ وہ موجود ہی نہیں ہوتا، لہذا ہم اور خدا دونوں عالمِ وجود میں ساتھ ساتھ رہتے ہیں، اگر کوئی کہے کہ کیا وجود ❞عدم❝ پیدا کر سکتا ہے یا ❞عدم❝ میں تبدیل ہوسکتا ہے تو جواب ہے نہیں کیونکہ ❞وجود موجود❝ ہے، اور اگر ایسا ہوا تو ہمارے ساتھ ساتھ خدا بھی مارا جائے گا کیونکہ وہ بھی ہماری طرح اسی وجود کا حصہ ہے اور ❞شے❝ ہے ❞لا شے❝ نہیں، اس بحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہم اور خدا دونوں اس ❞وجود❝ میں نقطہء ❞نا آغاز❝ سے نقطہء ❞لا انتہا❝ تک موجود ہیں۔

اب چونکہ ہم اور خدا اس لا متناہی وجود میں بطور ❞شے❝ ہونے کی حیثیت سے موجود ہیں جس کا نا تو کوئی آغاز ہے اور نا ہی کوئی انتہا ہے چنانچہ اس وجود میں ہمارا ساتھی ہونے کے ناطے ہم خدا کی عمر کے بارے میں غور کر سکتے ہیں، کیا خدا کی عمر بیس ارب سال ہے یعنی بگ بینگ سے سات ارب سال بڑا؟ اس ❞نا آغاز❝ کی شکل کیا ہوگی جس میں خدا پیدا ہوا ہوگا؟ اور چونکہ صدیوں سے خدا کا کوئی معجزہ نہیں دیکھا گیا تو کیا یہ ممکن نہیں کہ اسے مرے ہوئے زمانے گزر گئے ہوں؟

بگ بینگ عدم میں نہیں ہوسکتا کیونکہ عدم ماضی میں کبھی وجود ہی نہیں رکھتا تھا کیونکہ نہ صرف ہم موجود ہیں بلکہ اس لیے بھی کہ عدم سے کچھ پیدا نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ ❞لا شے❝ ہے۔

اگر ❞وجود❝ اور ❞عدم❝ کی صرف دو حالتیں ہوتی ہیں اور اگر خدا نے بگ بینگ کو عدم سے تخلیق کیا ہے تو اس لمحے یہ ❞خدا❝ کہاں تھا؟ کیا وہ عدم میں تھا؟ یقیناً ایک ❞شے❝ ہونے کے ناطے خدا کا عدم میں ہونا محال ہے، پھر یقیناً وہ ❞وجود❝ میں ❞موجود❝ تھا یعنی ❞وجود❝ خدا سے پہلے ❞موجود❝ تھا، یوں خدا کا ❞شے❝ ہونا یقینی طور پر ثابت ہوجاتا ہے۔

اگر قدیم فلسفے کی طرف رجوع کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ بیشتر فلاسفہ کے نزدیک دنیا قدیم ہے، مسلمان فلاسفہ کے فلسفے کا بھی یہی نچوڑ ہے، یہ الگ بات کہ مذہبی تعصب کے سبب وہ بات کو گھماتے رہتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ یہ فلاسفہ بڑے دور اندیش تھے، آج جدید علوم کی ترقی کے تناظر میں دیکھا جائے تو ان کے اس نتیجے میں صرف معمولی سا فرق پڑا ہے، دراصل دنیا قدیم نہیں بلکہ وجود قدیم ہے، وجود اور عدم دونوں ایک دوسرے کے متضاد ہیں، آگ اور پانی کی طرح یہ کبھی نہیں مل سکتے، اگر عدم اصل ہوگا تو پھر حقیقت یہ ہوگی کہ کچٖھ بھی نہیں ہوگا، مگر چونکہ ہم موجود ہیں لہذا یہ ثابت کرنے کی چنداں ضرورت ہی نہیں کہ دراصل وجود ہی اصل ہے، وجود ہی ہر چیز پر محیط ہے، بگ بینگ بھی اسی میں وقوع پذیر ہوا.. خدا بھی اسی وجود کا حصہ ہے، سبھی اس ❞وجود❝ میں ہیں، اس ❞وجود❝ سے کوئی نہیں بچ سکتا، خدا بھی نہیں، ہم سب اس کے ❞قیدی❝ ہیں، اس ❞وجود❝ کے باہر ❞کچھ نہیں❝ ہے۔

عقل مندوں کو سلام!

     

, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

Anderson Shaw کے بارے میں

فدوی کو اینڈرسن شا کہتے ہیں، جراتِ تحقیق کا بانی اور اس ❞جراتی تحقیقی❝ خیال کا اصل دماغ، مؤمنین مجھے اِس فساد کی اصل جڑ کہہ سکتے ہیں، فلسفیانہ انداز میں اگر بات کی جائے تو میں ❞جراتِ تحقیق❝ نامی اِس فتنے کی ❞پہلی علت❝ یا ❞علتِ کاملہ❝ ہوں، یوں سمجھیں کہ برِ صغیر کے اردو دان طبقے کے مؤمنین پر مجھ سے بڑی مصیبت آج تک نہیں ٹوٹی، اگر آپ کو اس بات سے اتفاق نہیں ہے تو Stay Tuned آپ کو جلد ہی اس حقیقت کا ادراک ہوجائے گا، میرے بارے میں اس سے زیادہ جاننے کی کوشش نہ کریں کہ یہ ناسوت کے بس کا کام نہیں، بس اتنا جان لیں کہ اگر آپ کو خدا، مذاہب اور ان کی فرسودہ تعلیمات پر شک ہے تو آپ بالکل ٹھیک جگہ پر پہنچے ہیں، جراتِ تحقیق بلاگ اور فورم پر میں نے اور میری ٹیم نے اس موضوع کا مختلف جوانب سے احاطہ کیا ہے اور یہ سلسلہ تا دمِ مرگ جاری رہے گا، لہذا آپ کو چنداں مایوسی نہ ہوگی، اور اگر آپ نے اپنی عقل کی بات سننے کا فیصلہ کر لیا ہے تو یہ جگہ یقیناً راہِ آزادی میں آپ کا پہلا پڑاؤ ثابت ہوگی۔

Anderson Shaw کی تمام تحریریں ملاحظہ کریں

تحاریر بذریعہ ای میل

جراتِ تحقیق کی تازہ ترین اور مکمل تحریریں بذریعہ ای میل حاصل کرنے کے لیے ذیل میں اپنا ای میل ایڈریس لکھ کر ارسال کریں کا بٹن دبائیں۔

7 تبصرے تا “خدا وجود اور عدم”

  1. Waqas Murtaza نے کہا:

    Hi Dear,
    Thats how I understand this phenomenon

    First Point :
    Is universe eternal (present since infinite time) ?
    No.Because infinity does not exist in reality and its only a mathematical concept. This implies that Universe is also not eternal and it must have a beginning. This raises another point (second point) :

    Second Point :
    How universe came into existence then? It can have two answers :

    1. It created itself.
    2. or It is created by a creator.

    Lets Examine the first argument that Universe (or matter) created itself:
    Something cannot be created from nothing. Plz enlighten us if you have observed vice versa. Its as absurd as this argument that a mother gave birth to herself.Not possible and rational.

    So something(universe) is there and also it cannot create itself, then how is it there ? This leads to the second answer that it must be created ( If there can be any third option than plz let me know too). This argument
    raises third point ?

    Third Point ?
    Who Created the creator or is He eternal ?

    Is this claim that God has always existed, and is – in other words – “eternal”, far fetched? Does it make sense that anything can be eternal? When we examine this, we find that the existence of an Eternal Creator is not only not far fetched, but is in actual fact the only solution.

    Take for example your own existence. Many years ago (depending on how many gray hairs you have) you were a baby. Before you, there were your parents.
    You and your mum. Before you and your mum were your grandparents, who hopefully, are still with us today. Before your parents were many many generations of people – your ancestors.
    Before humans and animals there was the planet. Before the planet and the solar system there was the galaxy – the Milkyway. Though scientists tell us it looks more like this.
    Before stars, there were nebulae – gaseous clouds from which stars were formed. Before all that was the Big Bang. What was before the Big Bang? Let’s say it was something that caused the Big Bang, called the Big Cause.
    What caused the Big Cause? The Bigger Cause. And what caused the Bigger Cause? Ultimately, this chain of cause and effect cannot extend into the past infinitely.
    The reason for this is simple – everything that begins to exist, must have a cause, because something cannot create itself. Otherwise it would have to exist and not exist at the same time.
    And yet, if we keep going back infinitely, that makes the chain of cause and effect infinite, like a line of dominos that has no beginning, but stretches into the past forever.
    If however the line of dominos has no beginning, then how did we get to the present moment (existence) in the chain of cause and effect?
    For example, if there was no beginning to a video, then how can we get into the middle of it? If there is no beginning to a race, then how do you find yourself running in it?
    A line of cause and effect that stretches infinitely into the past can never reach any point along its chain.

    What this shows us is that we need something to have been an uncaused cause. To believe in an uncaused cause is necessary to believe in everything else that has a beginning and was caused.

    جواب دیں

  2. سرفرا نے کہا:

    اگر آپ نئی سائنسی تحقیق پر نظر ڈالیں تو آپ اپنی اس بوگس تحریر پر خود ہنسے گئے کیونکہ اب سائنس جان چکی ہے خلا یا سپیس کچھ نہیں بھی ہے اور کچھ ہے بھی خلا کے اندر کروڑیں مائیکرو سیکنڈ میں جھماکا یا فلیکچوئیشن ہوتا ہے جو اسی کروڑویں نینو سیکنڈ میں ختم ہوجاتا ہے یعنی یہ سب بیک وقت عدم بھی ہے اور وجود بھی تو کیا ظاہر ہو خدا نے کائنات عدم سے وجود کی—

    جواب دیں

  3. سرفرا نے کہا:

    http://en.wikipedia.org/wiki/Quantum_fluctuation

    یہ غور سے پڑھیں
    ابھی اور بھی عشق کے امتحاں باقی ہیں

    جواب دیں

  4. Hasnain Naqvi نے کہا:

    Existence is a single, universal reality that is gradational (haqiqat-e-wahida mushakika), meaning that all the different things that exist in reality have “existence” in common, it is something that unites them all because it is commonly shared by all things that exist, however this reality is at the same time both a source of similarity between the different things as well as a source of difference and distinction between them, by reason of its intensity or weakness, as in some beings such as animals and humans it is found in an intense form, whereas in certain other beings or existents such as stones and trees it is found to be weak by comparison, which demonstrates the point that existence is a gradational reality characterized by intensity and weakness or diminution. Since existence is a gradational reality therefore there has to be point where this reality is most intense and similarly a point where it happens to be the weakest, therefore the point at which existence is most intense is referred to as “Pure Being or Pure Existence”, meaning the Divine Essence, and the point at which it is the most diminutive or weakest may be referred to as “Prime Matter” or “Hayula”. This brings us to the distinction between Pure Being (Wujud-e-Mehaz) and Impure Being. Apart from the Divine Essence all other beings or existences are impure, this is due to the fact that in all other beings or existences there is a mixture or an adulteration of perfection (kamal) as well as imperfection (nuqs), in other words in all other existences or beings there is existence (wujud) coupled with non-existence (adum), being (hasti) coupled or mixed with non-being (nisti). Perfection is a positive quality that enhances being or existence, in fact existence itself is a perfection, and non-being an imperfection, therefore anything or any quality, such as a privation (kami) or deficiency (nuqs) that negates being or existence will also be an imperfection. All contingent beings are a mixture of perfection and privation or deficiency, and as a result of this adulteration of perfection and negation or privation they are referred to as impure beings. The Divine Essence is the only entity whose existence or being is devoid of all imperfections or existential negations in the form of privations or defects, in other words it is a being or an existence wherein there is no admixture or adulteration of being with anything else, meaning non-being, and is therefore absolute perfection and absolute existence, Pure Being. It is in this Pure Being, meaning God, that existence happens to be the most intense.In other words this Pure Being is the only Real Being (wujud-e-Haqiqi) that exists, or alternatively speaking God is nothing but Existence and everything that exists, does so by reason of partciciptaion in this reality.

    جواب دیں

  5. Hasnain Naqvi نے کہا:

    Therefore your argument that God and everything else that exists does so within Existence is inaccurate due to the fact that God is not an entity that exists within Existence, in fact He is Existence and nothing but sheer, pure unadulterated Existence that is self-subsisting and by virtue of which the other contingent beings also subsist, and this is the quality of Pure Existence

    جواب دیں

تبصرہ کریں