خوش آمدید رمضان

June 4, 2016

مصنف: - زمرہ: تنقید, مذہب

y9Sol

یہ مہینہ مجھے بہت پسند ہے، وجہ بڑی سادہ ہے، یہ سال کا وہ واحد مہینہ ہے جس میں مسلمانوں کی حالت کسی اور مہینے کے مقابلے میں انتہائی قابلِ رحم ہوتی ہے اور مسلمان نشانِ عبرت بنے ہوتے ہیں۔۔ بقول شاعر:

دیکھو مجھے جو دیدہء عبرت نگاہ ہو

آئیے اس ماہِ مبارک کی حقیقی تعریف کرتے ہیں جو آپ کو اسلامی فقہ کی کسی کتاب میں نہیں ملے گی۔

ماہِ رمضان ایک قمری مہینہ ہے جس میں مسلمانوں پر فرض ہوجاتا ہے کہ وہ روزانہ وبلا ناغہ طلوعِ آفتاب سے لے کر غروبِ آفتاب تک کھانے پینے سے گریز کریں، اس ماہ میں جنت کے آٹھوں دروازے بغیر کسی کا استقبال کیے کھول دیے جاتے ہیں، اور جہنم کے ساتوں دروازے اندر کسی کی موجودگی کے بغیر بند کر دیے جاتے ہیں، فرشتے شیطانوں کو زنجیروں سے باندھ کر زمین پر گھومتے ہیں اور نمازوں، دعاؤوں اور تلاوتِ قرآن سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور زمین پر ہو رہی کاروائی کی اپڈیٹ اللہ تک پہچاتے ہیں جو اس کی خدائی تنہائی کے لیے لطف کا سامان بن جاتا ہے اور وہ اس ماہ کے اختتام تک کبھی کسی فلاں کو معاف کر دیتا ہے اور کبھی کسی فلاں پر جہنم کی آگ حرام کر دیتا ہے، ماہ کے اختتام پر اللہ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ شیاطین کو چھوڑ دیا جائے، جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں اور جنت کے دروازے اگلے رمضان کی آمد تک بند کر دیے جائیں… اسی طرح یہ ڈرامہ ہر سال انہی تفصیلات کے ساتھ بغیر کسی ادنی تر تبدیلی کے دہرایا چلا جاتا ہے۔!

کسی دانا نے حماقت کی تعریف کچھ یوں کی تھی: حماقت یہ ہے کہ ایک ہی عمل کو بار بار دہرایا جائے اور مختلف نتائج کی توقع کی جائے!!

اور صرف اللہ ہی تکرار کی اس حماقت کا ہر سال مرتکب نہیں ہوتا بلکہ زمین پر اس کی فرینچائزز چلانے والے ملا بھی ہر سال ٹی وی پر اور منبروں پر بیٹھ کر وہی باتیں دہراتے ہیں جو انہوں نے پچھلے سال دہرائی تھیں جیسا کہ: ماہِ رمضان میں مسلمانوں کے دل متحد ہوجاتے ہیں۔۔ بہت خوب۔۔ پر سمجھ یہ نہیں آتی کہ ایک ایسے ماہ میں جس کے آغاز پر، لیلہ القدر کے تعین پر اور پھر اس کے آخر میں عید الفطر کے تعین پر اختلاف پایا جاتا ہو اس ماہ میں مسلمانوں کے دل بھلا متحد کیسے ہوسکتے ہیں؟ تراویح کی رکعات اور روزے کے مبطلات پر اختلافات تو رہنے ہی دیں!؟ خاکسار نے ایک ملا کو ٹی پر خود یہ کہتے ہوئے سنا کہ: فقہاء کا اس بات پر اجماع ہے کہ کھانے اور پینے کی کوئی بھی چیز جسم میں داخل ہوجائے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اس کے علاوہ باقی فروع پر اختلاف ہے!؟ تو کیا یہ متحد دل ہیں؟ اگر مسلمانوں کا خدا واقعی چاہتا کہ مسلمانوں کے دل ماہِ رمضان میں متحد ہوجائیں تو وہ اس افراتفری کے بجائے زیادہ تفصیلی طریقہ کار وضع کرتا ناکہ اس ماہ کو ان کے اختلافات کا ثبوت بنا دیتا۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ: رمضان نزولِ قرآن کا مہینہ ہے۔

پہلی نظر میں یہ عبارت بظاہر بڑی واضح معلوم ہوتی ہے مگر غور کریں تو اس خوش نگیں عبارت کے پیچھے خاصی پر اسراریت چھپی ہوئی ہے، آخر ماہِ رمضان میں قرآن کب نازل ہوا؟

کیا رمضان کے شروع میں، درمیان میں یا لیلۃ القدر میں؟

کیا قرآن ازل سے لوحِ محفوظ پر نہیں لکھا ہوا، پھر کس رمضان میں اسے اس لوح سے محمد کے ذہن میں منتقل کیا گیا؟

اسلام کی خرافات کے مطابق لوحِ محفوظ ساتویں آسمان پر پایا جاتا ہے جہاں سے یہ قرآن زمین پر ایک خیالی جگہ جسے بیت العزہ کہا جاتا ہے نازل ہوا، اس گھر سے جبریل نے اسے حصے بخروں میں محمد تک پہنچایا، اب بھلا اس ساری کہانی میں ماہِ رمضان کہاں ہے؟ اور پھر قرآن حصوں میں وقفے وقفے سے اور موقع مناسبت سے مجوزہ نبوت کے طویل سالوں کے دوران نازل ہوتا رہا ایسے میں ماہِ رمضان میں اس کے نزول کا کیا مطلب ہے؟۔۔ کوئی نہیں جانتا، آپ کو محض ایسی تاویلیں ملیں گی جو پیچیدگی کو زائل کرنے کی بجائے اسے مزید بڑھائیں گی اس کے باوجود رمضان نزولِ قرآن کا مہینہ ہے۔۔ کیسے؟ یہ مت پوچھیں۔

ملا مزید فرماتے ہیں کہ ماہِ رمضان رحمت کا مہینہ ہے۔

تو کیا یہ اللہ کی مسلمانوں پر رحمت ہے یا مسلمانوں کی آپس کی رحمت ہے، یا دونوں رحمتیں ایک ساتھ ہیں؟

یہ بھی یقینی طور پر کوئی نہیں جانتا، فرض کرتے ہیں کہ یہ مسلمانوں کی آپس کی رحمت ہے، تو کیا رحمت انسانوں میں ازل سے ابد تک موجود نہیں؟ چاہے کوئی بھی ملت ہو یا کوئی بھی مذہب ہو اور کوئی بھی مہینہ ہو؟

اگر یہ کہا جائے کہ ماہِ رمضان میں مسلمانوں میں نیکی کرنے کا جذبہ بڑھ جاتا ہے تو ایسا وہ جنت اور اس کی آسائشوں کے لیے کرتے ہیں جہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں، اور جہاں لونڈے اور حوریں ہیں جنہیں کسی انس وجن نے ان سے پہلے کبھی نہیں چھوا، مسلمان تو بس رمضان میں دگنے اجر کی آفر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ نیکیاں کرتے ہیں تاکہ ان حوروں کے ساتھ بغیر ویاگرا کے دائمی سیکس کے مزے لوٹے جاسکیں ناکہ اس میں کسی رحمت کا کوئی کردار ہے جیسا کہ وہ ظاہر کرتے ہیں۔

بہر حال بعض امیر مسلمان جو چند ٹکڑے اپنے غریبوں میں بھی کبھی کبھی پھینکتے رہتے ہیں وہ فطرانے کے نام پر کچھ [فطرانہ] نکال دیتے ہیں، یہ محض ایک رسمی سی کاروائی ہے جو صورتِ حال میں کوئی تبدیلی نہیں لاتی، امیر امیر ہی رہتا ہے اور غریب غریب، چاہے رمضان ہو یا اس کے بعد، یہ ہے مسلمانوں کی آپسی رحمت۔

فرض کرتے ہیں کہ یہ رحمت دراصل اللہ کی اپنے مسلمان بندوں پر ہے، یہ رحمت عملی طور پر مسلمانوں میں کہیں نظر نہیں آتی، آپ کچھ بھی کر لیں آپ اسے نوٹ نہیں کر سکتے، البتہ اس کا الٹ آپ کو ضرور دیکھنے کو ملے گا کہ جتنی نا گفتہ بہ حالت مسلمانوں کی رمضان میں ہوتی ہے شاید ہی کسی اور ماہ میں ہوتی ہو، اخراجات بڑھا لیتے ہیں اور بھوکے پیاسے الگ مرتے ہیں، اخراجات کا یہ اضافہ متوسط طبقہ کو تو خاص طور سے متاثر کرتا ہے اور ان کی معاشی کمر توڑ کر رکھ دیتا ہے۔

کام اور پروڈکٹویٹی یعنی بار آوری کی اگر بات کی جائے تو وہ تقریباً صفر ہوجاتی ہے، ویسے تو مسلمان ایک سرٹیفائیڈ نکمی ترین قوم ہے ہی لیکن رمضان میں تو یہ نکمے پن کی حد ہی کر دیتے ہیں، یقین نہ آئے تو کسی بھی ادارے کے دفتر کا چکر لگا لیں، اس مہینے میں یہ لوگ بس کھانے کی مشینیں ہوتے ہیں، مسلمان خواتینِ خانہ کی تو بات ہی نہ کریں، ان بے چاریوں کی حالت تو اس مہینے میں حقیقی کنیز کی سی ہوتی ہے، ان بے چاریوں کے دن کچن میں طرح طرح کے کھانے پکانے اور راتیں ان کھانوں کے نتیجے میں مردوں میں پیدا ہونے والی جنسی رو کو برداشت کرنے میں گزرتی ہیں۔

یہ ہے رمضان میں اللہ کی مسلمانوں پر رحمت۔۔

البتہ اگر رحمت سے مراد دونوں رحمتیں ایک ساتھ ہیں یعنی اللہ کی مسلمانوں پر اور مسلمانوں کی آپس میں تو یہ ایک اضافی لطیفہ ہے، مسلمان چودہ سو سال سے روزے رکھتے چلے آرہے ہیں اس کے باوجود ان کے حالات بد سے بد تر ہی ہوئے ہیں، اگر جنوب مشرقی ایشیا کے ان چند سیکولر مسلم ممالک کو ہٹا دیا جائے تو باقی کی حالت روزے رکھنے کے باوجود واقعی قابلِ افسوس ہے، صرف یہی جاننا ہی کافی ہوگا کہ ان سارے مسلم ممالک کی اقتصادیات مغرب کے کسی ایک اوسط درجے کے ملک سے بھی بد تر ہیں جیسے سپین اور جسے یہ دونوں رحمتیں میسر نہیں!!

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ رمضان مغفرت کا مہینہ ہے۔ یعنی اللہ روزہ خور کے مقابلے میں روزہ دار کی مغفرت جلدی اور زیادہ تساہل سے فرماتا ہے، بلکہ اللہ تو کسی اور ماہ کے مقابلے میں رمضان میں مغفرت پر زیادہ کمربستہ رہتا ہے!

ٹھیک ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ رمضان کے پورے مہینے میں بھوک پیاس برداشت کرنے کے علاوہ راتوں کو قیام کرنے والے مؤمن کے لیے ایک بھی ایسا ثبوت دستیاب نہیں ہے کہ (اس) رمضان میں اس کی مغفرت ہوگئی ہے چنانچہ یہ جاننے کے لیے اسے مرنے کا انتظار کرنا ہوگا، یعنی ساری کہانی نہ صرف [رجم بالغیب] ہے، بلکہ ایک ایسا رسک بھی ہے جس کے نتائج کی ضمانت نہیں دی جاسکتی، یا تو روزہ دار کی مغفرت ہوگی یا نہیں ہوگی، آپ کی قسمت، محض امید پر آپ کو سال بہ سال پورا ایک مہینہ خود کو عذاب میں مبتلا کرنا ہوگا اور ایک ایسے امتحان کے نتائج کا انتظار کرنا ہوگا جس میں آج تک ایک بھی شخص یقینی طور پر نہیں جاسکا، پھر بھی رمضان مغفرت کا مہینہ ہے!

کہا جاتا ہے کہ روزہ دار کی دعاء مستجاب ہوتی ہے، یعنی اسے رد نہیں کیا جاتا، یہ دعوی مضحکہ خیز ہے، اور لگتا ہے کہ مولویانان اسلام کے پاس بے غیرتی اور ڈھٹائی کی اتنی مقدار تو بالضرور ہے کہ وہ ہر رمضان اس دعوی کو بڑے پر اعتماد انداز میں دہرا سکیں! مسلمان اس مہینے میں نا معقول دعاؤں کے ڈھیر لگا دیتے ہیں پر لگتا ہے کہ اللہ کو ایسی فضول دعائیں پسند نہیں آتیں یہی وجہ ہے کہ ان میں سے ایک بھی دعاء کو کبھی شرفِ قبولیت نہیں بخشا گیا وگرنہ ساری کائنات کا طبیعاتی نظام درہم برہم ہوجاتا، ان میں وہ دعائیں بھی شامل ہیں جو نام نہاد لیلہ القدر میں مانگی جاتی ہیں۔

یہ بھی کہتے ہیں کہ رمضان ضبطِ نفسی کا مہینہ ہے، زیادہ تر اسلامی مصادر کے مطابق رمضان کے روزے ہجرت کے دوسرے سال فرض کیے گئے، اس دوران یہ کئی مراحل سے گزرے، ہر ماہ تین دن روزے رکھنے سے لے کر بعثت کے پندرہ سال بعد معاملہ رمضان کے پورے مہینے کے روزوں پر آکر ختم ہوا! اگر رمضان کے روزے واقعی حکمِ ربی تھا تو یہ اپنی حالیہ صورت میں شروع سے ہی کیوں فرض نہیں کیے گئے اتنی مدت تک انتظار کیوں کیا گیا؟!

کیا خدیجہ بنتِ خویلد جس نے اللہ کے نبی کو مالی طور پر سپانسر کیا اور جس پر اللہ کے نبی تا دمِ آخر بوجھ بنے رہے، اس ہستی کا حق نہیں تھا کہ وہ بھی رحمت ومغفرت اور مستجاب دعاؤں کے اس غیر معمولی مہینے سے تھوڑا سا فیض یاب ہوتیں؟ شاید مقصد روزوں کو بتدریج لاگو کرنا تھا لیکن کیا یہ نا انصافی نہیں کہ شروع کے مسلمان تدریج سے فیضیاب ہوں اور بعد کے نہیں؟ انصاف کہاں ہے؟

اور اگر ماہِ رمضان واقعی ضبطِ نفسی کا مہینہ ہے تو کیا پورا مکی دور ضبطِ نفسی کا دور نہیں تھا؟ اس میں روزے کیوں فرض نہیں کیے گئے کہ یہ بھی تو آخر ضبطِ نفسی کا حصہ ہیں؟ اس سے اولین مسلمانوں کو کوئی خطرہ بھی نہیں تھا کہ یہ تو محض ذاتی نوعیت کی عبادت ہے، مگر اللہ نے کسی نا معلوم سبب کے تحت اس وقت نفوس کو بغیر ضبط کے چھوڑ دیا اور اس ضبطِ نفسی کو اپنے وحی کی یثرب تک منتقلی تک مؤخر کر دیا!

مضحکہ خیر بات یہ ہے کہ رمضان اور ضبطِ نفسی!!! کیا وہ لوگ جنہیں ہم بازاروں، پارکوں، سڑکوں اور بسوں میں ایک دوسرے سے غصے میں لال پیلے ہوتے ہوئے دست وگریباں دیکھتے ہیں وہ ضبطِ نفسی کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ پانی، نمکیات اور غذا کی کمی کا شکار یہ لوگ ضبطِ نفسی کا مظاہرہ کیسے کریں گے، اگر آپ کو یہ باتیں جھوٹ لگتی ہیں تو آدھا گھنٹہ کسی بھی مصروف بازار میں گزار آئیں، کتے کی طرح ایک دوسرے کو بھنبھوڑتے ہوئے روزہ دار ضبطِ نفسی کا مظاہر کرتے ہوئے آپ کو خود بخود نظر آجائیں گے، اور یہ مظہر کسی ایک مسلمان ملک تک محدود نہیں بلکہ:

نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر

روزوں کے اوقاتِ کار بھی عجب ڈرامہ ہے، زمین کے انتہائی شمال میں، سردیوں میں رات کوئی بیس گھنٹے کی ہوتی ہے جبکہ گرمیوں میں دن کی طوالت بھی لگ بھگ بیس گھنٹوں تک کی ہوتی ہے، وہ علاقے علاوہ ہیں جہاں دن اور رات مہینوں پر مشتمل ہوتے ہیں! اس کے با وجود روزے تمام مسلمانوں پر فرض ہیں بشمول ایسے علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں پر بھی، اگر روزے منصفانہ حکمِ الہی ہوتے تو اللہ پہلے سے ہی جان جاتا کہ مسلمان ایسے علاقوں میں بھی رہنے کے لیے پہنچ جائیں گے لہذا وہ ان علاقوں کے حساب سے بھی روزوں کے اوقاتِ کار وضع کرتا تاکہ انہیں جغرافیائی محل وقوع کے حساب سے دن اور رات میں ہونے والی تبدیلیوں سے ہم آہنگ کیا جاسکے، اور مسلمان اس ذلت آمیز سبکی سے بچ جائیں جو آج انہیں در پیش ہے اور جسے مضحکہ خیز فتووں سے [پیچ] لگانے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے بجائے یہ ماننے کے کہ ان کا خدا اور نبی دونوں جاہل بدو تھے جنہیں زمین کے ایسے خطوں کا علم ہی نہیں تھا ورنہ وہ اسے روزوں کی تشریع کا حصہ بناتے۔

رمضان عبادت اور اعتکاف کا مہینہ ہے، علاوہ ازیں یہ مہینہ اسلامی فتوحات کا مہینہ بھی ہے، اسی ماہ میں فتح مکہ نصیب ہوئی اور غزوہ بدر بھی ہوئی جسے دراصل قریش کے قافلے کو لوٹنے کا بدر آپریشن کہا جانا چاہیے، اور جب قافلہ لوٹنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو دونوں فریق جنگ کے میدان میں آمنے سامنے ہوئے، در حقیقت رمضان میں مبینہ روحانیات کا مسلح لوٹ مار کی کوششوں سے کوئی تعلق نہیں ہے، رمضان کا مہینہ عبادت واعتکاف کا مہینہ بھی ہے اور بعینہ اسی وقت غیر مسلموں کے قافلوں کو لوٹنے کا مہینہ بھی ہے؟! صحابہ رمضان میں ایک دوسرے کو الوداع کہہ کر عبادات میں مشغول ہوجاتے تھے تاہم یہ عبادات انہیں مکہ پر حملہ کرنے اور رسول کا وہ حکم ماننے سے نہ روک سکیں جس کی رو سے انہیں دو عورتیں اور چار مردوں کو قتل کرنا تھا چاہے وہ کعبے کے غلاف سے ہی کیوں نہیں چمٹے ہوئے ہوں؟!

اہلِ طب کو نوید ہو کہ ماہِ نحس جسے صلعومی رمضان کہتے ہیں جسمانی صحت کا مہینہ بھی ہے!؟ ہے نا دلچسپ بونگی!؟ حالانکہ حقیقتِ حال یہ ہے کہ جس قدر یہ مہینہ انسانی صحت پر گراں گزرتا ہے شاید ہی سال کا کوئی اور مہینہ گزرتا ہو، سنجیدہ وپیچیدہ امراض میں مبتلا لوگ جنہیں اسلامی اصولوں کے مطابق رمضان میں بھی روزے سے چھوٹ نہیں ہے جانتے ہیں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں، رمضان میں ڈاکٹر بھی مریضوں کو دوائیں تجویز کرتے وقت کنفیوزن کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ جس دورانیے میں مریض کو دواء کی خوراک لینی چاہیے اس وقت مریض روزے میں ہوتا ہے اور روزے کا دورانیہ اچھا خاصہ طویل ہوتا ہے، نتیجتاً مریض مطلوبہ وقت میں دواء نہیں لے پاتا اور مرض بڑھ جاتا ہے اور بعض اوقات اس کی قیمت دائمی جسمانی نقص یا جان سے بھی چکانی پڑ جاتی ہے، مگر اندھے اعتقاد میں مبتلا لوگوں کو بھلا یہ چیزیں کہاں نظر آتی ہیں، عملی طور پر اسلامی رمضانی روزے کا انسانی صحت پر تباہ کن اثرات ہیں، گرمیوں میں پانی کی کمی سے بڑی عمر کے لوگوں کے گردے فیل ہوسکتے ہیں، نوجوانوں خاص کر ٹین ایجرز میں غذائی قلت پٹھوں کی نشونما پر بری طرح انداز ہوتی ہے، اسی طرح قیاس کرتے چلے جائیے۔

رمضان کے حوالے سے موصلوں کا عہد ساز ڈھکوسلہ شیاطین کا قید ہوجانا ہے!؟ یہ سمجھا جاتا ہے کہ شیطان کا کام انسان کو برائی پر اکسانا ہے، یہ وہ عجیب وغریب ڈیوٹی ہے جو شیاطین بغیر تنخواہ کے چوبیسوں گھنٹے سارا سال بلا تکان انجام دیتے رہتے ہیں، وہ بھی جہنم کے حصول کے لیے جو بالآخر ان کا مقدر ہوگی، اس کے با وجود یہ احمق شیاطین یہ ڈیوٹی انتہائی تندہی سے بلا معاوضہ ساری حیاتی انجام دیتے رہتے ہیں۔!

دلچسپ امر یہ ہے کہ رمضان میں شیاطین کے قید ہوجانے کے باوجود برائی کم نہیں ہوتی، اگر شر کے پھیلاؤ میں شیاطین کا کوئی کردار ہوتا تو برائی اگر بالکل بھی ختم نہ ہوتی تو اس میں خاطر خواہ کمی ضرور نظر آتی مگر ایسی کوئی شماریات موجود نہیں، اور کیا صرف انہی شیاطین کو قید کیا جاتا ہے جو صرف مسلمانوں کو بہکانے پر مامور ہیں تاکہ روزہ داروں کو بہکایا نہ جاسکے یا ان میں وہ شیاطین بھی شامل ہیں جو کفار کو بھی بہکاتے ہیں؟ غیر مسلم ممالک میں بھی مسلمان رہتے ہیں تو کیا رمضان میں شیاطین چھانٹی کرتے ہیں کہ اگر مسلمان ہوا تو اسے چھوڑ دیں گے اور اگر کافر ہوا تو اسے وسواس کریں گے؟

ایسے بہت سے کافر ہیں جو مسلم ممالک میں رہتے ہیں، ان میں وہ بھی ہیں جو کسی خدا کو نہیں مانتے تو کیا شیاطین ماہِ رمضان میں انہیں بہکاتے رہیں گے یا مسلمانوں کے ساتھ ساتھ انہیں بھی ایک ماہ کے لیے اس وسواس سے راحت نصیب ہوجائے گی؟!

شماریاتی حقیقتِ حال حد درجہ بے رحم ہے، جس کے مطابق رمضان کی آمد اور شیاطین کے مقید ہوجانے سے دنیا میں برائی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی، ذرا تصور کریں کہ صلعومیوں نے اس تضاد سے کیسے جان چھڑائی… فرمایا کہ نفسِ امارہ رمضان میں بھی کام کرتی رہتی ہے اور شیاطین کے مقید ہوجانے سے ذرا بھی متاثر نہیں ہوتی لہذا یہ نفسِ امارہ انسان کو بہکانے کا عمل جاری رکھتی ہے، یقیناً یہ PATCH انتہائی احمقانہ ہے کیونکہ اگر آدھی برائی کے ذمہ دار شیاطین ہیں اور باقی آدھی برائی کی ذمہ دار نفسِ امارہ ہے تو پھر بھی رمضان میں برائی کی مقدار میں ریاضیاتی اور منقطی طور پر پچاس فیصد 50% کمی واقع ہونی چاہیے جو نہیں ہوتی، ایسے میں شیاطین کا فائدہ ہی کیا ہے اگر برائی کی شرح کو ان کے قید ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہ پڑتا ہو؟!

رمضان کے دیگر نا معقول مقاصد میں ایک مقصد یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ روزے سے انسانی شہوت کو لگام دی جائے جس کے نتیجے میں رفعتِ نفس کا حصول ممکن ہوجائے، یہ حقیقت ہے کہ مختلف انسانی تہذیبیں یہ سمجھتی تھیں کہ حیوانی خوراک (گوشت) سے پرہیز یا گریز نہ صرف انسانی شہوات میں کمی کا باعث بنتا ہے بلکہ اس سے رفعتِ نفس بھی حاصل ہوتی ہے، جدید طب بھی اس سے کسی حد تک متفق نظر آتا ہے، خوراک کی مقدار کی اصلاح اور ان کے درمیان زمانی وقفہ صحت کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے تاہم مذکورہ رفعتِ نفسی تبھی حاصل ہوسکتی ہے جب انسان علاج کی غرض سے طبی سپرویزن کے تحت خوراکوں کے درمیان وقفہ بڑھائے، نا کہ وہ طویل دورانیوں تک مجبورا بھوکا پیاسا رہ کر شام تک نڈھال ہوجائے اور اندر ہی اندر کڑھتا رہے۔

اگر رمضان کے روزوں سے اللہ کا مقصد لوگوں کی رفعتِ نفسی ہی تھی تو صدیوں کا تجربہ ثابت کرتا ہے کہ وہ اس میں بری طرح ناکام رہا، رمضان میں مسلمان عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ خوراک چٹ کر جاتے ہیں جس کی وجہ دن میں خوراک کی محرومی سے پیدا ہونے والا ندیدہ پن ہے نتیجتاً عید کے آتے آتے مسلمان اپنا اچھا خاصہ وزن بڑھا چکے ہوتے ہیں، خوراک کی یہ زیادتی ان کی جنسی شہوت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے اور اس میں بحرِ بیکراں کی طرح اضافہ ہوجاتا ہے، اس شہوت کا اخراج رمضان کی راتوں کو کیا جاتا ہے اور [رفعتِ نفسی] حاصل کی جاتی ہے۔

یہ غلط فہمی نہ رہے کہ مندرجہ بالا امور کا تعلق تعمیل کی غلطیوں سے ہے تشریع کی نہیں، اسلام کا دعوی ہے کہ روزوں کی یہی خصوصیات اور اہداف ہیں جن پر مندرجہ بالا سطور میں تنقید کی گئی ہے جس میں اس تشریع کے مقاصد اور اس کی تعمیل کا طریقہ کار دونوں شامل ہیں، اور جیسا کہ واضح ہے اگر یہ تشریع اپنے وہ اعلی وارفع مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہے جو کہ یقیناً وہ ہے تو ایسی تشریع وضع کرنے والے انسانی فطرت سے یقیناً نا آشنا تھے لہذا ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ یہ تشریع قطعی کسی خدا کی وضع کردہ نہیں ہوسکتی کہ کسی خدا کی وضع کردہ تشریع میں ایسی سنگین غلطیاں نہیں ہوسکتیں۔

میں اس ماہ کو خوش آمدید کہتا ہوں جس میں مسلمان اپنی اصل اوقات میں نظر آتے ہیں۔

رمضان مبارک!

     

, , , ,

Anderson Shaw کے بارے میں

فدوی کو اینڈرسن شا کہتے ہیں، جراتِ تحقیق کا بانی اور اس ❞جراتی تحقیقی❝ خیال کا اصل دماغ، مؤمنین مجھے اِس فساد کی اصل جڑ کہہ سکتے ہیں، فلسفیانہ انداز میں اگر بات کی جائے تو میں ❞جراتِ تحقیق❝ نامی اِس فتنے کی ❞پہلی علت❝ یا ❞علتِ کاملہ❝ ہوں، یوں سمجھیں کہ برِ صغیر کے اردو دان طبقے کے مؤمنین پر مجھ سے بڑی مصیبت آج تک نہیں ٹوٹی، اگر آپ کو اس بات سے اتفاق نہیں ہے تو Stay Tuned آپ کو جلد ہی اس حقیقت کا ادراک ہوجائے گا، میرے بارے میں اس سے زیادہ جاننے کی کوشش نہ کریں کہ یہ ناسوت کے بس کا کام نہیں، بس اتنا جان لیں کہ اگر آپ کو خدا، مذاہب اور ان کی فرسودہ تعلیمات پر شک ہے تو آپ بالکل ٹھیک جگہ پر پہنچے ہیں، جراتِ تحقیق بلاگ اور فورم پر میں نے اور میری ٹیم نے اس موضوع کا مختلف جوانب سے احاطہ کیا ہے اور یہ سلسلہ تا دمِ مرگ جاری رہے گا، لہذا آپ کو چنداں مایوسی نہ ہوگی، اور اگر آپ نے اپنی عقل کی بات سننے کا فیصلہ کر لیا ہے تو یہ جگہ یقیناً راہِ آزادی میں آپ کا پہلا پڑاؤ ثابت ہوگی۔

Anderson Shaw کی تمام تحریریں ملاحظہ کریں

تحاریر بذریعہ ای میل

جراتِ تحقیق کی تازہ ترین اور مکمل تحریریں بذریعہ ای میل حاصل کرنے کے لیے ذیل میں اپنا ای میل ایڈریس لکھ کر ارسال کریں کا بٹن دبائیں۔

20 تبصرے تا “خوش آمدید رمضان”

  1. bayaqqal نے کہا:

    عاطف صاحب ! بھائ انوارالحق نے سات ھزار بار لعنت سے نوازا تھا ، آپ اپنے اسلوبءتحریر سے ان سے کہیں ارفع دانش مند معلوم پڑتے ھیں ،سو آپ سے سات لاکھ کی توقع ھے ،انشااللہ۔۔۔۔۔۔۔ اللہ آپ کے علم و دانش میں بےبہا وسعت عطا فرماۓ۔۔۔آمین

    جواب دیں

  2. ملک بوٹا نے کہا:

    کوئی مومن ہو اور پرسنل ہوئے بغیر مکالمہ کر سکے، ممکن ہی نہیں، عاطف صاحب نے اس بات کو مزید تقویت بخشی ہے، اب اگر bayaqaal صاحب نے آپ کی کسی دکھتی رگ پر ہاتھ یا پاؤں رکھ دیا تو پھر بلبلایئے گا مت، حوصلے اور برداشت کا مظاہرہ کیجئے گا۔ آپ جیسوں کی دکھتی رگ سے bayaqqal صاحب بہت اچھی طرح سے واقف ہیں۔

    جواب دیں

  3. bayaqqal نے کہا:

    توقع پر سو فیصد پورا اترنے کا شکریہ عاطف صاحب! ۔۔۔۔۔ یہ کوئ ملک بوٹا صاحب ھیں جو مجھے انگلی کر کے آپ سے لڑانا چاھتے ھیں ، آپ انھیں خاطر میں مت لائیے گا۔۔۔۔ آپ نے بھائ انوارالحق کی تحریریں پڑھیں ھیں ، حیرت ھے کہ آپ نے انھیں تحریریں کہا، وہ تو فٹ پاتھ پر دس بیس روپے میں بکنے والی مولوی ٹوکا جیسے علماء دین کی کتابوں میں سے کاپی پیسٹ کرتے رھتے تھے یا پھر وھی ننگی گالیاں اور لعنت لعنت ۔۔۔۔ جراتء تحقیق کے بارےمیں، میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ یہ ملحدوں کا ڈیرہ ھے ، مجھے اللہ تبارک و تعالی سے قوی امید ھے کہ کوئ سچا عالم کبھی نہ کبھی ضرور ظہورپزیر ھو گا جو اپنے علم اور دلائل سے ان ملحدین کو راہء را ست پر لاۓ گا ۔۔انشااللہ۔۔۔

    جواب دیں

  4. bay aqqal نے کہا:

    عاطف صاحب ! لگتا ھے کہ آپ بھائ انوارالحق ھیں جو نۓ نام کے ساتھ میدان میں اترے ھیں ۔۔۔۔جس خشوع و خضوع کے سا تھ آپ نے کتے کا ذکرءجمیل فرمایا ھےاس سے بھائ انوارالحق کی دم مبارک کی یاد تازہ ھو گئ جہاں ان کی عقل شریف قیام پزیر ھے۔۔۔۔۔آپ جو بھی ھیں، اللہ پاک آپ کو صحت و تندرستی عطا فرماۓ۔۔۔۔ عاطف صاحب، پلیز ، آپ سے درخواست ھےکہ کسی علمی مباحثے کا آغاز فرماتے ھوۓ اپنے زریں خیالات آشکار فرمایۓ تاکہ آپ کے مسکنءعلم ودانش کا تعین ھو پاۓ۔۔۔۔۔اللہ آپ کو اپنے حفظ وامان میں رکھے۔۔۔۔۔آمین۔۔۔۔۔

    جواب دیں

  5. Khalil نے کہا:

    سلام جو آپ نے ایات کا حوالہ دیا ہے وہ قرآن میں مجھے تو نہیں ملی
    پلیز زرا چیک کریں شکریہ

    جواب دیں

  6. bay aqqal نے کہا:

    بھائ انوارلحق عرف عاطف صاحب ! میں نے آپ سے علمی مباحثے کا آغاز کرنے کی درخواست کی تھی مگر آپ کو تو “کاپی پیسٹ” کے سوا کجھ آتا ھی نھیں۔۔۔۔۔۔دراصل آپ کی دم میں سواۓ گندی گالیوں یا لعنت لعنت کے اور کجھ سوچنے کی صلاحیت ھی نھیں۔۔۔۔آپ نے سورہ الحج کی آیات کی تفصیر خادمء حرمین شریفین شاہ فھد بن عبدالعزیز آلءسعود کی جانب سے مفت تقسیم کۓ گیۓ قرآن پاک کے نسخے سے کاپی کر کے پیسٹ کی ھیں۔۔۔۔۔۔ صفحات ھیں 929 اور 930۔۔۔۔۔شاہ فھد قرآن کریم پرنٹنگ کمپلیکس میں چھاپے جانے والے اس قرآن کریم کےمفسر ھیں مولانا محمد جونا گڑھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھائ انوارلحق، اگر آپ میں رتی برابر بھی حمیت یا عزتءنفس نام ک کوئ چیز ھوتی تو آپ کم از کم مذکورہ قرآن پاک کا حوالہ ضرورتحریر فرما دیتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بحرحال دعا ھے کہ اللہ پاک آپ پر اپنی رحمتوں کا یہ سلسلہ تا ابد جاری و ساری رکھے،، آمین ،،

    جواب دیں

  7. bayaqqal نے کہا:

    بھائ انوارلحق !۔۔ درست فرمایا آپ نے کہ ” سگ شناس بشر شناس کیسے ہوسکتا ھے ”
    سگ شناس ھوں تو آپ کو پہچان پایا ۔۔۔۔۔۔ آج میں اس احمقانہ سلسلہء گفتگو کا اختتام کر رھا ھوں۔۔۔۔۔اب آپ نعرے لگاتے پھریۓ کہ ۔۔۔۔۔۔۔بےعقل بھاگ گیا۔۔۔۔ بےعقل بھاگ گیا۔۔۔۔ اسلیۓ کہ بس یہی ھے آپ جیسے کاپی پیسٹ والے جعلی علمآء کی اوقات۔۔۔۔۔۔۔بس یہی ھے آپ جیسے کاپی پیسٹ والے جعلی علمآء کا دین ، اور بس یہی ھے آپ جیسے کاپی پیسٹ والے جعلی علمآء کا ایمان۔۔۔۔۔۔۔میں نے عرض کیا تھا نا کہ آپ اپنی دم سے سوچ کر خود سے چار سطریں بھی ڈھنگ کی نھیں لکھ سکتے۔۔۔اوپر آپ نے چار سطریں ھی لکھیں ھیں اور آپ کو سگ ھو کر بھی لفظ ” سگ شناس” کی سمجھ نہ آئ اور آپ نے اسے ” سنگ شناس ” لکھا۔۔۔۔۔بھائ انوارلحق !۔۔ آپ کو ڈھنگ سے لکھنا ھی نہی ، ڈھنگ سے بھونکنا بھی نہیں آتا۔۔۔۔۔دعا ھے کہ اللہ پاک آپ کو ھمیشہ اسی طرح “کاپی پیسٹ” کی توفیق عطا فرماتا رھے ۔۔۔۔۔ آمین ۔۔۔۔۔ والسلام ۔۔۔۔۔۔

    جواب دیں

  8. bay aqqal نے کہا:

    بھائ انوارلحق ! میں نے اپنے با توقیر ھونے کا دعوئ کب کیا ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جواب تو آپ کو دینا ھی چاھیۓکہ سورہ الحج کی تفسیر کے بارے میں نے جو عرض کیا ، درست ھے یا غلط۔۔۔۔۔۔۔ بھائ انوارلحق _آپ چاھے اپنی دم کی جتنی بھی مالش کروا لیں ، آپ اپنی دم سے سوچ کر خود سے چار سطریں بھی ڈھنگ کی نھیں لکھ سکتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بندہ کو اللہ پاک نے آپ جیسوں کی نفسیات اور کیفیتء قلبی کا کماحقءھو ادراک عطا فرمایا ھے اور سگ شناسی کی صلاحیت اضافی عطا فرمائ ھے۔۔۔۔دعا ھے کہ اللہ پاک آپ پر اپنی رحمتوں کا نزول اسی طرح جاری و ساری رکھے۔۔۔۔۔۔ آمین۔۔۔

    جواب دیں

تبصرہ کریں