خدا بمقابلہ شر

May 25, 2012

مصنف: - زمرہ: تنقید, منطق

مومن اچھی طرح جانتے ہیں کہ شر کے مسئلے سے کشید کردہ ملحدانہ دلائل بدیہی اور منطقی دونوں طرح سے ملحدوں کے مضبوط ترین دلائل میں سے ہیں چنانچہ مومنین نے بھی ان دلائل کا جواب دینے کی بھرپور سعی کی ہے جسے فلسفے میں تھیوڈیسی کہا جاتا ہے یعنی شر کے مقابلے میں ایک منصف خدا کا اثبات.

شر کے وجود سے کشید کردہ دلائل کے رد میں تھیوڈیسی کا کہنا ہے کہ منطقی طور پر شر کا وجود ایک محبت کرنے والے طاقتور خدا کے وجود سے متصادم نہیں ہے یعنی دوسرے لفظوں میں قاتل مرنے والے سے محبت کرتا تھا؟! 😀 عام طور پر لوگوں کو یہ کہہ کر قائل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ شر کا وجود ہمیں درکار فضائل اور آزاد ارادے کے وجود کے لیے ضروری ہے.

تھیوڈیسی کا کہنا ہے کہ اذیت کی ہر حالت نہ صرف یہ کہ ضروری ہے بلکہ اس کی وجہ بھی ہوتی ہے… درحقیقت مومنین کے لیے یہ بہت مشکل کام ہے کیونکہ اگر ہمیں اذیت کی کوئی ایک بھی ایسی حالت مل جائے جس کی کوئی ایک بھی وجہ یا جسٹیفیکیشن نہ ہو تو بنیادی طور پر یہ خدا کے وجود کی نفی کے لیے کافی ہوگی اور مومنین کی ساری کوششوں پر پانی پھر جائے گا.. اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تھیوڈیسی کے دلائل کتنے مضبوط ہوتے ہوں گے…

تاہم شر کے مسئلے کا درست بیان کیا ہے؟ ملحدین اسے کیسے استعمال کرتے؟ یہاں یہ واضح کردینا ضروری ہے کہ زیادہ تر ملحدین کو شر کے مسئلے کا صحیح علم نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ وہ اس کے لیے ایک کمزور سی فارمولا سازی کرتے ہیں جسے آسانی سے ڈھیر کردیا جاتا ہے.

جب ہم شر کی بات کرتے ہیں تو ہمیں اس کی اقسام میں بھی تفریق کرنی چاہیے تاکہ خدا کی پیدا کردہ برائی خدا کے اور قیصر کی قیصر کے حصے میں جائے..

اخلاقی شر: اس کی مثال معاشرتی برائیوں سے دی جاسکتی ہے جیسے قتل، چوری، آبرو ریزی وغیرہ.. شر کا مسئلہ اس نوعیت کے شرور پر بحث نہیں کرتا، ملحد یہ نہیں کہتا کہ: سمندر خان قتل ہوگیا، اسد کی گاڑی چوری ہوگئی اور پپو سے کسی نے ٹافی چھین لی.. ہائے دنیا کتنی ظالم ہے بس خدا نہیں ہے… یہ بکواس ہے.. ملحد جن برائیوں کی بات کرتا ہے وہ یہ قطعاً نہیں ہیں چنانچہ شر کے مسئلے پر مومن کا یہ فرمان کہ: خدا نے ہمیں ارادے کی آزادی دی ہے اور یہ ہم پر ہے کہ ہم اچھے کام کریں یا برے بے بمعنی بات ہے.

طبعی شر: اس سے مراد وہ شرور ہیں جن کا ذمہ دار انسان نہیں ہے جیسے بیماریاں، وبائیں، آفات، قحط، سیلاب، زلزلے، طوفان، شدید گرمی، شدید سردی وغیرہ، دوسرے لفظوں میں ہم ایسے شر کی بات کر رہے ہیں جو دنیا کی طبیعاتی شکل کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتا ہے اور جس کی بھینٹ ہزاروں بلکہ بعض اوقات لاکھوں انسان چڑھ جاتے ہیں.. مومن کے مطابق یہ شکل خدا نے ڈیزائن کی تھی، یعنی دنیا اس شکل میں ہو یہ انتخاب خدا نے کیا تھا.

آسان لفظوں میں دنیا کی وحشت ناکی کو ہم شر کہہ سکتے ہیں، یہاں لفظ شر مجازی معلوم ہوتا ہے چنانچہ بعض اوقات ہم اسے زیادہ ڈیفائن کرتے ہوئے تکلیف واذیت (Suffering) جیسے الفاظ سے بھی بیان کر سکتے ہیں.

مگر ایک دردناک و وحشت ناک دنیا سے خدا کی عدم موجودگی کیسے ثابت ہوتی ہے؟

سیدھی سی بات ہے کہ خدا کو خدا ہونے کے لیے عالم ہونا ضروری ہے، اگر ہم فرض کریں کہ خدا عالم نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ دراصل طبعی مظاہر کی بات کر رہے ہیں جنہوں نے کائنات کو تخلیق کیا، اس صورت میں آپ میں اور ملحدین میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ وہ بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ کچھ طبعی مظاہر ایسے ہیں جو کائنات کی حالیہ شکل کی موجودگی کو بیان کرتے ہیں اور اس کے ذمہ دار ہیں جیسے عظیم دھماکہ.

بہرحال عالم خدا یقیناً دنیا کی بہترین شکل چاہے گا، مگر رکیے.. اس کا کیا مطلب ہے کہ بہترین شکل چاہے گا؟

اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے تصور کے کچھ ممکنات ہیں، دوسرے لفظوں میں آپ دنیا کی دوسری مختلف شکلوں کا تصور کر سکتے ہیں، یہ شکل/شکلیں نا تو محال ہیں اور نا ہی ان میں کوئی تضاد ہے، مثال کے طور پر آپ ایک ایسی دنیا کا تصور کر سکتے ہیں جس میں نا تو سیلاب ہیں، نا ہی بیماریاں ہیں اور نا ہی زلزلے ہیں اور یہ تصور ناممکن نہیں ہے (اگر کوئی کہے کہ یہ ناممکن ہے تو پھر جنت اور جہنم کا وجود بھی ناممکن ہے) اس طرح دنیا کئی متعدد شکلوں میں تخلیق کی جاسکتی تھی اور خدا کو یقیناً کسی ایک شکل کا انتخاب کرنا تھا اب اگر خدا بہترین شکل میں سے کسی کم تر شکل کا انتخاب کرتا ہے تو ایسا وہ یا تو جہالت میں کرے گا یعنی اسے اس سے بہتر شکل کی موجودگی کا علم ہی نہ ہو (اور یہ اس کے مطلق علم کی صفت کے خلاف ہے) یا پھر مرجوح کو راجح پر ترجیح دے گا جو کہ محال ہے کیونکہ خدا سب سے بہتر شکل چاہتا ہے.

اب چونکہ ہم اس دنیا سے بہتر دنیا کا تصور کر سکتے ہیں چنانچہ یہ حالیہ دنیا بہترین شکل نہیں ہے اور چونکہ خدا کے وجود کے لیے لازم ہے کہ وہ بہترین شکل چاہے جبکہ حقیقتِ حال یہ ہے کہ حالیہ دنیا سب سے بہتر شکل نہیں ہے کیونکہ اس سے بہتر دنیا کا تصور کیا جاسکتا ہے چنانچہ خدا نہیں ہے.

عقل مندوں کو سلام

     

, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

Anderson Shaw کے بارے میں

فدوی کو اینڈرسن شا کہتے ہیں، جراتِ تحقیق کا بانی اور اس ❞جراتی تحقیقی❝ خیال کا اصل دماغ، مؤمنین مجھے اِس فساد کی اصل جڑ کہہ سکتے ہیں، فلسفیانہ انداز میں اگر بات کی جائے تو میں ❞جراتِ تحقیق❝ نامی اِس فتنے کی ❞پہلی علت❝ یا ❞علتِ کاملہ❝ ہوں، یوں سمجھیں کہ برِ صغیر کے اردو دان طبقے کے مؤمنین پر مجھ سے بڑی مصیبت آج تک نہیں ٹوٹی، اگر آپ کو اس بات سے اتفاق نہیں ہے تو Stay Tuned آپ کو جلد ہی اس حقیقت کا ادراک ہوجائے گا، میرے بارے میں اس سے زیادہ جاننے کی کوشش نہ کریں کہ یہ ناسوت کے بس کا کام نہیں، بس اتنا جان لیں کہ اگر آپ کو خدا، مذاہب اور ان کی فرسودہ تعلیمات پر شک ہے تو آپ بالکل ٹھیک جگہ پر پہنچے ہیں، جراتِ تحقیق بلاگ اور فورم پر میں نے اور میری ٹیم نے اس موضوع کا مختلف جوانب سے احاطہ کیا ہے اور یہ سلسلہ تا دمِ مرگ جاری رہے گا، لہذا آپ کو چنداں مایوسی نہ ہوگی، اور اگر آپ نے اپنی عقل کی بات سننے کا فیصلہ کر لیا ہے تو یہ جگہ یقیناً راہِ آزادی میں آپ کا پہلا پڑاؤ ثابت ہوگی۔

Anderson Shaw کی تمام تحریریں ملاحظہ کریں

تحاریر بذریعہ ای میل

جراتِ تحقیق کی تازہ ترین اور مکمل تحریریں بذریعہ ای میل حاصل کرنے کے لیے ذیل میں اپنا ای میل ایڈریس لکھ کر ارسال کریں کا بٹن دبائیں۔

2 تبصرے تا “خدا بمقابلہ شر”

  1. اسد نے کہا:

    صرف خیر تو جنت میں‌ ہی ہوگی ، یہ دنیا تو خیر اور شر کا بہترین

    جواب دیں

  2. majid raza نے کہا:

    is se behatar duniya ka tasawur kiya jasakhta he aur yehi taswur hame majbor karta he ki jannat he uska wajod mumkin he .isliye khuda he .aur aqalmando ki aqal mandi abhi isdarje par nai pohnchi ki wo khuda ko pehchan sakhe .

    جواب دیں

تبصرہ کریں